اٹھارہویں ترمیم؛ چھیڑ چھاڑ سے پہلے سوچ لیا جائے

آئین کے ساتھ جو سلوک ہواتاریخ کا حصہ ہے سب واقف ہیں۔دیگر وجوہات کے علاوہ آئین کی بے توقیری بھی پاکستان(16دسمبر1971)کے دو لخت ہونے کی ایک اہم اور بنیادی وجہ سمجھی جاتی ہے۔آئین کو چند صفحات کی ایک دستاویز کہا گیااوراس کے ساتھ ویسا ہی سلوک بھی کیا گیاجو کسی چند صفحاتی دستاویز کے ساتھ کیا جاتا ہے۔54فیصد آبادی نے نئے نام بنگلہ دیش اور نئے جھنڈے کے ساتھ نئے تاریخی سفر کا آغاز کیا۔46فی صد آبادی والے حصے نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے نیا آئین بنا لیا جو 1973کا آئین کہلاتا ہے اس آئین کوعزت نہ مل سکی1977میں معطل کر دیا گیا،منسوخ نہ ہونے کی بناء پر جیسے تیسے سانس لیتا رہا۔ 10مارچ1985کوبعض ترامیم کے ساتھ بمطابق S.R.O.No.212 آرٹیکل 6،8سے28،101clause(2),(2a),اور آرٹیکل 199اور 213 سے 216 تک، مع آرٹیکل270-Aکے علاوہ بحال ہو گیا۔پھر ایک فضائی حادثے میں فوجی سربراہ مملکت کی ناگہانی موت کے بعد حالات نے پلٹا کھایا اوراقتدار مشروط طور پرپی پی پی کے سپرد کرنا پڑا۔ اس کے بعد ایک نئی مسلم لیگ(نون) وجود میں لائی گئی اور دو، دو سال کے لئے پی پی پی اور نون لیگ کو ہٹایا اور لایا گیا۔اس اٹھک بیٹھک کا حل نون لیگ نے یہ نکالا کہ آرمی چیف اپنی مرضی کا ہونا چاہییمگر ایک آرمی چیف(جنرل کرامت جہانگیر)کی برطرفی نون لیگ کو مہنگی پڑی اور ان کی پسند کے جنرل پرویز مشرف نے ڈرامائی انداز میں اقتدار سنبھال کرنواز شریف کو جیل میں ڈال دیا۔ملک نیم آئینی نیم مارشل لائی کیفیت سے دوچار رہا 2008میں نئی مجبوری کے تحت اقتدار پی پی پی کے حوالے کیا گیا تو ماضی کے تجربات نے ایک دوسرے کی حریف سیاسی پارٹیوں (مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی)کومشہور زمانہ 18ویں آئینی ترمیم تک پہنچا دیا۔ 18ویں آئینی ترمیم جو بجائے خود متعدد ترامیم کا مجموعہ ہے تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور 2010میں قومی اسمبلی کی وساطت سے بغیر کسی بحث منظور کر لی۔مسلم لیگ نون کی حکومت نے ا س ترمیم کو چھیڑے بغیراپنی پانچ سالہ مدت پوری کرلی۔یہ اس کی بدنصیبی سمجھی جا ئے گی کہ اسی دوران پانامہ لیکس نے عالمی سطح پر بھونچال پیدا کر دیا اور محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو پانامہ لیکس کے حوالے سے تضاد بیانی کے جرم میں سزائے قید سنا دی گئی۔ تین بار ملک کا وزیر اعظم رہنے والے مسلم لیگ نون کے سربراہ محمد نواز شریف ایک پراسرار مگر پیچیدہ بیماری کی وجہ سے بیرون ملک (برطانیہ)علاج کی غرض سے مقیم ہیں یہ ا بھی واضح نہیں کہ یہ قیام عدالتی حکم پر ہوا یا حکومتی رضامندی نے کام دکھایا؟ یا دونوں ادارے کسی تیسرے ادارے کی مدد سے ایک ساتھ کام کر رہے ہیں؟ اس کے علاوہ ملک میں کورونا نے بھی بتدریج قدم بڑھانے شروع کر دیئے ہیں۔
حیرانگی کی بات ہے ایسے پیچیدہ اور کورونا زدہ حالات میں وزیر قومی منصوبہ بندی اسد عمر نے اچانک 18ویں ترمیم میں مزید ترامیم کا ذکر کے سیاسی فضاء میں ارتعاش پیدا کرنے کی کوشش کیوں کی؟ سچ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت سادہ اکثریت سے پارلیمنٹ میں نیب ترمیمی بل منظور نہیں کرا سکتی وہ دو تہائی کی اکثریت سے 18ویں آئینی ترمیم میں ترامیم کیسے کرے گی؟مان لیا ماضی قریب میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کے موقع پر ایک طلسماتی ہم آہنگی دیکھنے میں آ چکی ہے چیئرمین سینیٹ کا انتخاب اور ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی معجزاتی ناکامی بھی تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہے۔تب بھی لوگوں میں ایک نئی بحث تو چھڑ گئی ہے۔ اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے کہا ہے کہ 3ووٹوں کی اکثریت والی سرکار کی کیا مجال کہ وہ اٹھارہویں ترمیم کو چھیڑے۔پی پی پی ترامیم کی شدید مخالف ہے، اپنی بساط بھر مزاحمت ضرور کرے گی۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین وزیر اعظم عمران خان مزاجاً صدارتی نظام کو پسند کرتے ہیں سعودی بادشاہوں جیسے اختیارات حاصل کرنا چاہتے ہیں چینی کمیونسٹ حکومت جیسا نظم و نسق قائم کرنے کے خواہشمند ہیں۔ان کی کابینہ کی ساخت اسی مزاج کی مظہر ہے۔خود عمران خان متعدد بار اپنی زبان سے بھی اعلان کر چکے ہیں۔موجودہ آئین ان کی تمناؤں کی راہ میں رکاوٹ بن کر حائل ہے۔مسلم لیگ نون کی حکومت کو مغلیہ خاندان کی بادشاہت کہتے تھے۔3ووٹوں کی اکثریت کا طعنہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ان حالات میں کسی ہار جیت کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔حکومت نے تالاب میں پتھر پھینک کر اس کی گہرائی کا اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے۔افوہیں بھی گردش میں ہیں مریم نواز کی لندن روانگی پر سودے بازی ممکن ہے۔سیاست ممکنات کا نام ہے۔پاکستان امکانات اور ممکنات کے لئے زرخیز سرزمین ہے لیکن اس سب کے باوجود حکومت 18ویں ترمیم کو چھیڑنے سے پہلے ضروری ہوم ورک کر لے۔ سوچ بچار کے بغیر یہ مشق تلخیاں بڑھائے گی نقصان دہ ہوگی۔


