اگر مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو10مارچ کو صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ،بلوچستان ملازمین اتحاد

کوئٹہ:بلوچستان ملازمین اتحاد نے 23نکا تی چارٹر آف ڈیمانڈ پر فوری عمل درآمدکا مطا لبہ کر تے ہو ئے کہا ہے کہ اگر مطالبات کے حل پر واضح پیش رفت کے لئے اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو10مارچ کو صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرینگے بلکہ اس کے بعد مزیدسخت اقدام اٹھا ئیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہو گی۔ پیر کے روز کو ئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کر تے ہو ئے ملا زمین اتحاد کے چیئر مین حا جی مجیب اللہ غرشین، سیکرٹری محمد قاسم خان،منیر احمد بلو چ و دیگر کا کہنا تھا کہ ہم بلوچستان کے تمام اداروں کے ملازمین کو درپیش مسائل اور موجودہ ریاست/حکومت کی جانب سے مہنگائی میں اضافے پر کنٹرول نہ کرنے اور محنت کش طبقہ/ملازمین کے استحصال کو شدید سے شدید کرنے اور لیبر قوانین کی آڑ میں ٹریڈ یونینز اور ایسوسی ایشنز پر پابندیاں لگانے اور ان کو حق ہڑتال سے محروم رکھنے کے پیش نظر بلوچستان ملازمین اتحاد (بی ایم آئی) کا قیام عمل میں لایا گیا آج مہنگائی نے ملازمین سے جینے کا حق چھین لیا ہے ملازمین سرکاری ملازمت کے ساتھ 8سے 10گھنٹے دوسرے کام کر کے اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی فراہم کرنے میں ناکام ہیں پیٹرولیم مصنوعات،بجلی،گیس اور ادویات کی قیمتوں میں تین سو فیصد تک اضافے نے ملازمین کی مشکلا ت دوچند کر دی ہیں ایسے میں اس بلوچستان کی بڑی فیڈریشنز/ایسوسی ایشنز نے مل کر بلوچستان ملازمین اتحاد کا قیام عمل میں لایا ہے۔انہوں نے کہا کہ گرینڈ الائنس کی تشکیل بھی ملازمین کے حقوق کے لئے تھی مگر اس کے موقع پرست قیادت نے مصالحت کا شکار ہو کر محنت کش ملازمین کو مزید مایوس کیا اور محنت کش تحریک کو انتشار کا شکار کر کے وفاق کو ملنے والے25% DRAالاؤنس سے اس لئے محروم رکھا کیونکہ وہ سیکرٹریٹ کو ملنے والی مراعات چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تھے اب ملازمین کو مایوسی، بے چینی سے نکالنے کے لئے ہم اس اتحاد کا قیام عمل میں لاچکے ہیں تا کہ ملازمین کے مسائل حل کے لئے غیر مصالحانہ جدوجہد و تحریک کو منظم کرتے ہوئے میدان عمل میں نکلا جائے ہم ملازمین کو طبقاتی بنیادوں پر منظم کرتے ہوئے مشترکہ جدوجہد کو تیز کرینگے اس سلسلے میں ملازمین تنظیموں کی قیادت کا پہلا اجلاس مورخہ28فروری 2022کو منعقد ہوا جس میں "بلوچستان ملازمین اتحاد "کے نام سے الائنس تشکیل دیا گیابعد ازاں 03مارچ کو اتحاد کے قائدین کے دوسرے اجلاس میں ملازمین کے اجتماعی مسائل و مطالبات پر مبنی چارٹر آف ڈیمانڈ مرتب ہوا اور الائنس کا تنظیمی ڈھانچہ تشکیل پا یا جس کے مطابق حاجی مجیب اللہ غرشین چیئرمین، قاسم خان وائس چیئرمین، منیر احمد بلوچ سیکرٹری،صلاح الدین اچکزئی سیکرٹری مالیات، عابد بٹ سیکرٹری اطلاعات، شاہینہ لطیف سیکرٹری خواتین جبکہ بلوچستان ملازمین اتحاد میں شامل تنظیموں اور فیڈریشنوں کے مرکزی رہنماء خان زمان، حسن بلوچ، الیاس مینگل، مشتاق حسین، محمد عمر جتک،عبدالمعروف آزاد، خیر محمد شاہین، دین محمد محمد حسنی، ظفر خان رند،عارف خان نیچاری،فضل محمد، امین اللہ درانی، شاہ علی بگٹی، ملک عبدالوحید، عبید اللہ کاکڑ،حاجی سیف اللہ ترین، میر زیب شاہوانی اور سید رفیع اللہ سپریم کونسل کے ممبر ہونگے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان ملازمین اتحاد کے قائدین کا 3ما رچ کو منعقد ہونے والے اجلاس میں ملازمین کے گذشتہ 2سال سے زیر التواء مطالبات کے حل کے لئے لائحہ عمل پر سیر حاصل بحث و تمحیص کے بعد فیصلہ ہو کہ اگر مطالبات کے حل پر واضح پیش رفت کے لئے اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو10مارچ2022کو صوبائی اسمبلی کے سامنے مسائل کے حل اور مطالبات کی منظوری کے لئے ہزاروں ملازمین احتجاجی مظاہرہ کرینگے۔ اگر پھر بھی مسائل حل نہ ہوئے تو قیادت مزید سخت اقدام اٹھانے کا اعلان کریگی۔ بلوچستان ملازمین اتحاد کے قائدین مطالبہ کرتے ہیں کہ چارٹر آف ڈیمانڈ پر فوری عمل درآمد کیا جائے بصورت دیگر حالات نے جو رخ اختیار کیا تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بلو چستان ملازمین اتحاد کے چا رٹر آف ڈیما نڈ میں صوبے کے ملازمین کو وفاق اور دیگر صوبوں کی طرز پر 25فیصد DRAدیکر حالیہ15فیصدDRAکے فوری نوٹیفکیشن کا اجراء،تمام ایڈہاک الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کر کے پے سکیل ریوائز کر نے،تمام ملازمین کو سیکرٹریٹ طرز پر ہاؤس ریکوزیشن دینے،میڈیکل الاؤنس اور کنونس الاؤنس میں مہنگائی کے تناسب سے 100فیصداضافہ،محکمہ تعلیم کے B-09میں کام کرنے والے جے وی ٹیچرومساویکوB-14اورB-14میں کام کرنے والے JETs مساوی اساتذہ کو B-16میں اپ گریڈ کر نے،ہیڈ ماسٹر/سبجیکٹ اسپیشلسٹ کوB-18میں اپ گریڈ کر کے SSTsکو B-17سےB-17میں پروموشن کی بجائے B-18میں پروموٹ کرنے، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں وفاق اور دیگر صوبوں کی طرز پر اضافہ،حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین کو ہیلتھ کارڈ کی سہولت فرا ہم کر نا،بلوچستان کی62ٹریڈ یونینز پر پابندی کے حوالے سے حکومت دوبارہ قانون سازی کرنے اور ملازمین کو انجمن سازی کا حق دینا۔ ملازمین کا10فیصد سن کوٹہ بحال کر نے،ملازمین کی ریٹائرمنٹ میں غیر ضروری رکاوٹیں ختم کر کے جملہ مراعات ون ونڈو طرز پر دینا،درجہ چہارم کے ملازمین کا پروموشن کوٹہ20فیصد سے بڑھا کر 50فیصد کر نا،محکمہ تعلیم کے ایسوسی ایشنز پر مسلط کردہ لازمی تعلیمی ایکٹ2018واپس لینے،میونسپل کارپوریشنز/میونسپل کمیٹیوں /میٹروپولیٹن ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی بروقت یقینی بنانے،کمیونٹی اور NCHDٹیچرز کو فور ی طور پر مستقل کرناو دیگر شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں