تحریک عدم اعتماد، ہماری تیاری مکمل ہے، کامیاب ہونگے، مولانا عبدالغفور حیدری
کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹر جنرل و سینیٹر مولانا غفور حیدری نے کہا ہے کہ ہم نے تحریک عدم اعتماد کے سلسلے میں تیاری مکمل کرلی ہے، مجھے یقین ہے ہم کامیاب ہوجائیں گے، حکومتی اتحادیوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے البتہ دعوے سے کہتا ہوں کہ اگر حکومتی اتحادی جماعتیں ساتھ نہ بھی دیں تو ہمارا حساب برابر ہے، یہ حکومت مزید رہا تو ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لئے ملکی خزانے میں پیسے نہیں ہوں گے، عمران خان محسوس کررہے ہیں کہ وہ کرسی سے محروم ہورہے ہیں وہ جب بھی سوتے ہیں تو انہیں خواب میں مولانا فضل الرحمن، آصف علی زرداری اور شہباز نظر آتے ہیں، ملک کی ترقی کی راپر گامزن کرنے، کروڑ نوکریاں دینے، 50لاکھ گھر تعمیر کرکے غریبوں کے حوالے کرنے کے دعوے کرنے والے کے دور میں حالت یہ ہے کہ بھیک اور قرضے مانگ کر بھی بجٹ خسارے میں چلا گیا، وفاقی وزیرداخلہ 10کا انتظار کرے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو کوئٹہ پریس کلب میں جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاکہ عمران خان وہ زبان استعمال کررہے ہیں جو زبان کسی مہذب معاشرے کا کوئی فرد استعمال نہیں کرسکتا، لوگوں کی تضحیک کرنا، گالیاں دینا، پگڑیاں اچھالنا اور یہاں تک کہنا کہ تم میرے نشانے پر ہوں یہ کسی ایسے شخص کو زیب نہیں دیتا جو خود کو وزیراعظم کہہ رہا ہوں۔ عمران خان یہ محسوس کررہا ہے کہ وہ کرسیوں سے محروم ہونے جارہا ہے اور یہی محرومیت اس کی دماغ پر سوار ہے، عمران خان جب بھی سوتے ہیں تو انہیں خواب میں مولانا فضل الرحمن، آصف علی زرداری اور شہباز شریف نظر آتے ہیں اور جب وہ خواب سے بیدار ہوتا ہے تو وہ خواب کی کیفیت میں پبلک سے گفتگو کرتا ہے۔ مولانا غفور حیدری نے کہاکہ عمران خان جب اپوزیشن میں تھے تو انہوں نے لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا اور پھر دھرنا دیا جبکہ ایک دھرنا ہم نے بھی دیا، ہمارے ساتھ 18لاکھ تک لوگ تھے جبکہ عمران خان کے ساتھ سینکڑوں سے بڑھ کر شاید ہزاروں ہوسکتے ہیں، ان کے دھرنا ایک ناٹک اور مجرا تھا، عمران خان نے اس وقت قوم سے سول نافرمانی کی اپیل کی، یوٹیلیٹی بلز ادا نہ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے خود بجلی اور گیس کی بلز پھاڑ دیئے جبکہ ہم نے روز اول سے ان کی حکومت کو ناجائز، غلط اور جعلی حکومت سمجھتا مگر اس کے باوجود ہم نے کوئی ایسی کال نہیں دی۔ مولانا غفور حیدری نے کہاکہ ماضی کے ایک ٹاک شوک میں عمران خان اور پاکستان کے اس وقت کے نام نہاد وزیر داخلہ شیخ رشید آپس میں لڑے اور اس وقت عمران خان نے اس وقت شیخ رشید کو کہا تھا کہ اگر اس کی حکومت آئی تو اسے چھپڑاسی بھی نہیں رکھے گا آج بدقسمتی سے وہ پاکستان کا وزیر داخلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیخ رشید نے بھی ایک اپیل کی تھی کہ مارو، آگ لگا دو، سول نافرمانی کرو اور پھر دھرنے کے شرکاء نے پارلیمنٹ کے تقدس کی پامالی کی، دروازے تھوڑے، وزیراعظم کی طرف دوڑے، سرکاری ٹی وی پر حملہ کیا جبکہ ہم 15دن اسلام آباد میں رہے اس دوران ایک دکان بند نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے نوجوانوں اور غریبوں کو سبز باغ دکھائے کہ ایک کروڑ نوکریاں دیں گے اور 50لاکھ گھر بنا کر غریبوں کو دیں گے، روپے کی قدر بہتر کریں گے، ملک میں صنعتوں اور سڑکوں کا جال بچھائیں گے اور کہا تھا کہ پاکستان اتنا ترقی کرے گا کہ لوگ باہر سے آکر پاکستان میں نوکریاں کریں گے بلکہ ہم باہر کے ممالک کو قرضے دیں گے مگر اب حالت یہ ہے کہ قرضے اور بھیک مانگ کر بجٹ خسارے میں چلا گیا ہے اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ جنہوں نے ملک کو اور ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا اگر یہ مزید برسراقتدار رہتا ہے تو ملکی خزانے میں ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے کے لئے پیسے نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ حالت یہ ہے کہ سعودی عرب سے زکواۃ کے پیسے لئے گئے کیا پاکستان جیسی بڑی ریاست زکواۃ کے پیسوں سے چل سکتا ہے۔ آج غریب کا قوت خرید جواب دے چکا ہے، غریب اگر بیمار ہوجائے تو وہ ہسپتال کے دروازے پر تھڑپ تھڑپ کر مر جاتا ہے، غریب اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کی سکت نہیں رکھتا، میرے اندازے کے مطابق ڈیڑھ کروڑ سے زائد بچے سکول نہیں جاتے، ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ اس کا مجرم کون ہے؟ اگر کوئی 4سال میں کچھ نہیں کرسکا تو وہ ایک سال میں کیا کرپائے گا۔ کہا جارہا ہے کہ اپوزیشن تحریک عدم کیوں لائی جبکہ ہم بتانا چاہتے ہیں کہ یہ نااہل اور نالائق حکومت ہے انہوں نے ملک کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے، یہ ملک میں معیشت کی مضبوطی، عوام کی فلاح بہبود کی بجائے روز اول سے اپوزیشن کی کردار کشی کرنے میں مصروف عمل ہیں اور روزاہ کی بنیاد پر دھمکیاں دیتے کہ تمہیں نہیں چھوڑوں گا کیا یہ وزیراعظم یا بدمعاش ہے بلکہ اس نے ملکی سیاست میں انارکی پیدا کی ہے اس لئے متحدہ اپوزیشن نے عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی ہے مجھے یقین ہے کہ ہم کامیاب ہوجائیں گے۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاکہ کرپشن کی بات کرنے والے بتائیں کہ چینی چور کون ہے، آٹا کس نے چوری کیا اور تب تک تجزیے آرہے ہیں کہ قومی خزانے کو 70سال میں اتنا نہیں لوٹا گیا جتنا اتنے 4سال میں لوٹا گیا مگر کہا جارہا ہے کہ یہ ایماندار اور آمین ہے۔ انہوں نے کہاکہ انشاء اللہ عنقریب عدم اعتماد پر اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جائے گا اور متحدہ اپوزیشن اپنا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی۔ صحافیوں کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم شیخ رشید کو کہتے ہیں کہ وہ 10دن کا انتظا ر کرے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا، ان کے سفید بالوں کی سفیدی تب ہی لوگوں کو نظر آجائے گی۔میرے متعلق بیان میں کہ میں نے شیخ رشید کے ساتھ زبردستی سیلفی ہے میں کوئی صداقت نہیں، میں اپنے پارٹی کا مرکزی سیکرٹری جنرل ہوں ہاں البتہ میں نے شیخ رشید سے یہ کہا کہ اس نے بڑی زیادتی کی اور پارلیمنٹ لاجز کے تقدس کو پامال کیا، پارلیمنٹ لاجز میں 90کے قریب خواتین رہتی ہیں جبکہ اس نے ہلہ بول دیا، اداروں کی بے حرمتی کرنا ان کو شیوہ ہے وقت آنے پر ہم اس کا بدلہ لیں گے اور اسے پتہ لگے گا کہ آئینی اداروں کے تقدس کو پامال کرنے کی سزا کیا ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کے جس میں میٹنگ میں موجود تھا اس میں طے ہوا تھا کہ پہلے ہم وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کریں گے اور اس کے بعد باقی معاملات دیکھیں گے۔ انہوں نے کہاکہ آج پیر کو پی ڈی ایم کا اجلاس ہے دیکھتے کہ اس میں کیا فیصلے ہوتے ہیں۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے دوست مولانا فضل الرحمن سے ملے ہیں لیکن میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ انہوں نے کوئی شرط رکھی ہے جہاں تک حکومت کی اتحادی دیگر جماعتیں ہیں ان کے ساتھ بھی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں ہماری باتیں سب کے ساتھ ہورہی ہیں، سب حکومت سے تنگ ہیں اور وہ ہمیں یقین دہانیاں کرارہے ہیں کہ وقت آنے پر آپ دیکھیں گے کہ ان کا ووٹ ہمارے پلڑے میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اگر حکومتی اتحادی ہمارا ساتھ نہ بھی دیں تو ہمارا حساب برابر ہے ہم نے تیاری مکمل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی حلقوں کی جانب سے کارروائیاں کی باتیں صرف باتیں ہیں یہ سب کچھ خوف پیدا کرنے کے لئے کیا جارہاہے۔ جمعیت علماء اسلام کے ایم این ایز مضبوط اور محفوظ ہیں کوئی مائی کا لعل انہیں گمراہ نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فی الحال فوکس وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی پر ہے اس کے بعد باقی معاملات دیکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ ادارے ہمارے لئے قابل احترام ہیں جب ایک بیان آیا کہ وہ نیوٹرل ہے تو ہم نے اس کا خیر مقدم کیا مگر جعلی وزیراعظم نے اس پر ردعمل دیا کہ نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے۔ انہوں نے بلوچستان میں ایک مرتبہ پھر تحریک عدم اعتماد سے متعلق سوال پر کہا کہ پچھلی مرتبہ ہم صف اول کا کردار ادا نہیں کررہے تھے بلوچستان عوامی پارٹی کے اپنے ہی وزراء نے استعفے دیئے ان کے ممبر ٹوٹ گئے اور پھر جب عدم اعتماد کا عین موقع آیا تو جام کمال نے خود ہی استعفیٰ دیدیا کسی کو ووٹ دینے کا موقع ہی نہیں ملا اور اب بھی جو حکومت بنی ہے ہم جمعیت علماء اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اپوزیشن میں ہے اگر حکومت خود ٹوٹتی ہے تو یہ الگ بات ہے لیکن ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں کہ جام کو ہٹایا تو اب میر عبدالقدوس کو ہٹائے اور پھر کوئی آئے اور اس کا ہٹائے۔


