جون کے پہلے ہفتے ”کورونا بجٹ“ لانے کا اعلان

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جون کے پہلے ہفتے میں بجٹ پیش کر دیا جائے گا،یہ”کورونا بجٹ“ہوگا، ہم اس بجٹ میں ہر ممکن مراعات دے رہے ہیں کورونا نہ ہوتا تو ہم یہ مراعات نہیں دے سکتے تھے۔آئی ایم ایف نے بھی لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں سے 280ارب روپے کی 82لاکھ ٹن گندم خرید رہی ہے۔یہ پیسہ کسان مارکیٹ میں خرچ کریں گے تو معیشت کا فائدہ ملے گا تعمیراتی سیکٹر کے لئے تاریخی فیصلے کئے گئے ہیں۔سستا گھر منصوبے پر ٹیکس میں 90فیصد چھوٹ ہے۔معیشت کو بھی چلانا ہے اور لوگوں کی جان بھی بچانی ہے۔کوشش ہے کہ لوگوں کی امیدوں پر پورا اتریں،صوبوں سے مل کر بجٹ بنائیں گے اس کو اتنا ہیوی نہیں کریں گے کہ معیشت دب کر رہ جائے۔ہر شعبے کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے اقدامات کریں گے۔ معیشت کو دستاویزی بنانے کے لئے سختی نہیں کی جائے گی۔مہنگی اور پرتعیش اشیاء کی درآمد روک کر ضروری چیزیں درآمد کی جائیں گی۔ ڈالر بچائیں گے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف ملے گا۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے بھی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی۔بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں سے بھی بات چیت جاری ہے۔ماضی کے معاہدے آڑے آرہے ہیں۔دو تین مہینے مشکل ہوں گے پھر توقع ہے کہ معاملات سدھرنا شروع ہو جائیں گے۔ادھر کابینہ میں بھی اہم فیصلے کئے گئے ہیں وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے بڑے شہروں میں سرکاری اراضی اوور سیز پاکستانیوں کو بیچ کر مالی وسائل میں اضافہ کیا جائے گا۔کابینہ نے کورونا کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والے ہیلتھ کیئر ورکرز کے لئے بھی ایک امدادی پیکج کی منظوری دی ہے کوئی فرنٹ لائن ہیلتھ کیئر ورکر کورونا کے مریضوں کے علاج معالجے میں خدمات انجام دیتے ہوئے جاں بحق ہو جاتا ہے تو اسے ”شہید“ کا درجہ حاصل ہوگاپیکج کی رقم 30لاکھ سے 1کروڑ روپے ہے اس کے علاوہ100فیصد تک پینشن، سرکاری گھر، بچوں کی فری ایجوکیشن، پلاٹ کے لئے مدد اور اگر شہید ہونے والے ورکر کی اولاد نوکری کے قابل ہو تو اسے نوکری بھی دی جائے گی۔اب عالمی سطح پر بھی فرانس سمیت بعض ممالک نے کاروبار شروع کرنے کے اعلانات کرنے شروع کر دیئے ہیں فرانسیسی وزیر اعظم نے کہا ہے ہمیں کورونا کے ساتھ رہنا سکھنا ہوگاانہوں نے 11مئی سے لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے یاد رہے فرانس میں کورونا سے 26ہزار660سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ کورونا مریضوں کی تعداد 1لاکھ66ہزار سے زائد ہے۔عوام کو حالات کی سنگینی کا احساس ہونا چاہیئے امریکا، اٹلی، اسپین اور برطانیہ کورونا زدہ ہیں اور بھاری جانی اور مالی نقصان برداشت کر چکے ہیں.تاحال صورت حال پریشان کن ہے۔روزانہ ہلاکتیں دہائیوں میں سینکڑوں اور ہزاروں میں ہیں لیکن معیشت کا دباؤ انہیں لاک ڈاؤن کے خاتمے پر مجبور کر رہا ہے۔اگر کورونا کے خاتمے کی ڈیڈ لائن کا علم ہوتا یا لاک ڈاؤن ہلاکتیں صفر تک لے آتا تو ترقی یافتہ ملک اسے مزید کچھ عرصہ جاری رکھتے۔فرانسیسی وزیر اعظم اپنے عوام اور دنیا کو یہ مشورہ نہ دیتے کہ کورونا کے ساتھ رہنا سیکھیں۔ پاکستان کو بھی اسی کورونا زدہ دنیا میں زندہ رہنا ہے عوام کو نئے حالات میں نئی شرائط کے ساتھ رہنا سیکھنا ہوگا۔حکمرانوں کو بھی حالات کی سنگینی سے آنکھیں ملا کر آگے کی طرف دیکھنا ہوگا۔آج کی اپوزیشن(آئندہ) کل کی حکمراں جماعت ہوتی ہے اسے بھی اپنا لب و لہجہ بہتر بنانا ہوگا۔حکومت نے شبلی فراز کو وزیر اطلاعات بنا کر لطیف پیرائے میں اچھا پیغام دیا ہے، ان کی معاونت کے لئے آئی ایس پی آر کے سابق ڈی جی اور سی پیک کے موجودہ چیئرمین جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ کی تقرری مشکل حالات سے نمٹنے کی حکمت عملی کی نوید ہے۔اب غیر سنجیدہ اور جگت بازی سے کام نہیں چلے گا۔ حکومت نے اپنی اصلاح کر لی ہے۔ اپوزیشن کو بھی چاہیئے کہ تبدیل شدہ صورت حال میں نئے تقاضوں کا خیال رکھے۔ کورونا اور معیشت کو دیر تک ساتھ رہنا ہے۔اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا۔حکومت کی جانب سے 18ویں ترمیم میں اصلاحات کی بحث چھیڑتے ہیں کابینہ میں اہم تبدیلیاں کر دی گئی ہیں۔سنجیدہ اقدامات کے لئے سنجیدہ شخصیات کو میدان میں اتار کر حکومت نے اپنے کارڈ ظاہر کر دیئے ہیں۔ اپوزیشن کے پاس بھی سنجیدہ مزاج افراد کی کمی نہیں۔پی پی پی اور مسلم لیگ نون بھی فردوس عاشق اعوان اور فواد چوہدری جیسے افراد کو ہٹا کر شبلی فراز اور جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ جیسے لوگوں کو آگے لائیں۔حکومت نے تسلیم کر لیا ہے کہ غیر ذمہ دارانہ جملے بازی سے ملک نہیں چلا کرتے۔ اپوزیشن بھی سمجھداری سے کام لے۔آنے والے ہفتے صرف کورونا کے تناظر میں ہی اہم نہیں، سیاسی اور معاشی اعتبار سے بھی اہم ہیں۔اپوزیشن کے پاس بھی اڑتی چڑیا کے پر گننے کی صلاحیت رکھنے والے افراد ہیں۔ انہیں آگے لایا جائے۔صرف کورونا بجٹ کی تیاری اور منظور ی کو منزل نہ سمجھا جائے۔ سیاسی اور معاشی منزل تک پہنچنے سے پہلے اور کئی دریا عبور کرنا ہوں گے۔


