پنجاب کی شوگر ملوں نے کسانوں کے 20 ارب 34 کروڑ روپے دبا لیے

لاہور (انتخاب نیوز) پنجاب حکومت نے نہ دہندہ شوگر ملوں کی رپورٹ تیار کر لی ہے جس میں پنجاب کی شوگر ملوں نے کسانوں کے 20 ارب 34 کروڑ روپے دبا لیے ہیں۔ کرشنگ سیزن شروع ہوئے چار ماہ گزر گئے غریب کسانوں کو گنے کی اربوں روپے کی ادائیگیاں نہ ہوسکیں، پنجاب کی شوگر ملوں نے کسانوں کے 20 ارب 34 کروڑ روپے دبا رکھے ہیں۔ چیئرمین پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن چودھری ذکائی اشرف سمیت جہانگیر ترین، اور دیگر سیاسی رہنما بھی نہ دہندہ میں شامل ہیں۔ محکمہ خوراک پنجاب کی رپورٹ کے مطابق اشرف شوگر ملز کسانوں 79 کروڑ 62 لاکھ روپے واجب الادا ہیں،: پی ٹی آئی کے ناراض رہنما نے بھی کسانوں کے پیسے دبا رکھے ہیں۔ جہانگیر ترین کی دو شوگر ملوں نے گنے کی ادائیگیاں نہیں کیں، ان کے ذمے 2 ارب 28 کروڑ روپے کی ادائیگیاں واجب الادا ہیں۔ رپورٹ کے مطابق رحیم یار خان بھی 2 ارب 59 کروڑ 21 لاکھ روپے، تاندیلیانوالہ شوگر ملز 1 ارب 58 کروڑ روپے، اتحاد شوگر ملز 1 ارب 95 کروڑ 46 لاکھ، رحیم یار خان، 2 ارب 58 کروڑ 27 لاکھ روپے اور حمزہ شوگر 1 ارب 46 کروڑ 76 لاکھ روپے نہ دہندہ ہے۔ اس کے علاوہ آدم 56 کروڑ 94 لاکھ روپے، رمضان شوگر 92 کروڑ 70 لاکھ روپے،: شکرگنج 41 کروڑ 30 لاکھ روپے، رسول نواز 46 کروڑ روپے، فاطمہ شوگر ملز 50 کروڑ 87 لاکھ اور چنار شوگر ملز 37 کروڑ 74 لاکھ روپے کی ڈیفالٹر ہے۔ رواں کرشنگ سیزن میں صرف دو شوگر ملوں میں نون شوگر ملز اور المعیز شوگر ملز نے 100 فی صد ادائیگیاں کر دیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ شوگر ملز پر گنے کی ناجائز کٹوتیاں ہو رہی ہیں، وزن میں کمی، گنے کی ادائیگیوں سمیت کسی شکایت پر سنوائی نہیں ہو رہی ہے۔ کسان کا کہنا ہے کہ کین کمشنر پنجاب کسانوں کی شکایت پر ایکشن نہیں لے رہے ہیں۔ کین کمشنر پنجاب کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ نے کین کمشنر کو شوگر ملوں کے خلاف ایکشن لینے سے روک رکھا ہے، لاہور ہائیکورٹ نے ہیشگی اجازت کے بغیر شوگر ملز کے خلاف کسی قسم کا ایکشن لینے کے خلاف حکم امتناعی جاری کر رکھاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں