الیکشن کمیشن بتائے کیا ہارس ٹریڈنگ کی آئین میں اجازت ہے، عمران خان

سوات (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے سوات میں تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے سندھ ہاؤس میں ہارس ٹریڈنگ کے لیے نوٹوں کی بوریاں لے کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہمارے ایم این ایز کی وفاداریاں خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سندھ سے گارڈ لائے گئے ہیں کہ کوئی اندر نہ آ جائے۔ میں الیکشن کمیشن سے پوچھتا ہوں کہ کیا ایسی ہارس ٹریڈنگ کی آئین میں اجازت ہے؟۔ الیکشن کمیشن بتائے کیا آئین میں ہارس ٹریڈنگ کی اجازت ہے۔ واضح رہے کہ یہ جلسہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب اسلام آباد میں اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد سے پہلے سیاسی جوڑ توڑ عروج پر ہے۔ حکومت کی جانب سے ہارس ٹریڈنگ کے الزمات پہلے بھی لگائے جا چکے ہیں جن کی اپوزیشن خصوصاً پیپلز پارٹی تردید کر چکی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’یہ ہمارے ایم این ایز کو خریدنے آئے ہیں۔ ان کو ڈر ہے ان کے کرپشن کے کیسز تیار ہیں اور عمران خان تھوڑی دیر اور رہا تو یہ سب جیل جائیں گے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ’انھوں (اپوزیشن) نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر یہ کامیاب ہو گئے تو سب سے پہلے یہ نیب کو ختم کریں گے، اپنے کیس ختم کریں گے۔ آنے والے دن پاکستان کے لیے فیصلہ کن دن ہیں، فیصلہ ہو گا کہ پاکستان کیسا ہو گا۔ وزیر اعظم نے خطاب میں کہا کہ ’الیکشن کمیشن سے پوچھتا ہوں، یہ جو ہارس ٹریڈنگ ہو رہی ہے، اس کی آئین میں اجازت ہے؟ کیا کسی جمہوریت میں ایسا ہوتا ہے؟ برطانیہ میں ایسا ہوا کبھی جہاں سے ہم جمہوریت لے کر آئے۔ انھوں نے کہا کہ ’قوم پر لازم ہے کہ ہارس ٹریڈنگ کے خلاف کھڑے ہوں۔ اس لیے اسلام آباد پہنچ کر دنیا کو بتائیں کہ ہم سچ کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم ان کے خلاف کھڑے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں