مسلم لیگ(ق) نے حکومت مخالف اشارہ دے دیا
مسلم لیگ (ق) کے سینئر رہنمااسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کے نمبر زیادہ بڑے ہیں،سرپرائزآنے والے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی،اور مولانا فضل الرحمٰن کا اتحاد پکا اور دیر پا ہے۔ جب مخالفین ایک شخص کے خلاف اکٹھے ہوتے ہیں تو تلخیاں بھلا دیتے ہیں۔ تمام اتحادی جماعتوں کا رجحان اپوزیشن کی طرف ہے اورعمران خان سو فیصد مشکل میں ہیں۔ ایم کیو ایم کے آصف علی زرداری کے ساتھ مسائل ہیں،ان پر 70فیصد تک پیش رفت ہوچکی ہے۔باقی بھی اگلے چند روز میں حل ہو جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ قاف اکیلی فیصلہ نہیں کرے گی، سب مل کر فیصلہ کریں گے۔تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کی طرف سے وزارت اعلیٰ کی پیشکش نہیں ہوئی،اگر کوئی پیشکش ہوئی تو سب کے سامنے رکھیں گے۔اپوزیشن سے قاف لیگ کے جو بھی معاملات طے پائے اس کے ضامن آصف علی زرداری ہیں۔انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کا دعوی ہے کہ ان کے پاس 172سے زائد ارکان ہیں۔چوہدری پرویز الٰہی کی گفتگو سے یہ تأثر ملتا ہے کہ امنہوں نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا، ایم کیوایم کے فیصلے کا انتظار کریں گے، اس کے بعد کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہااگرسیاسی پارٹیاں آپس میں بیٹھتی ہیں تو کچھ لو اور کچھ دو ہوتا ہے۔آج کل (”کچھ لو اور کچھ دو“ کی)ایک ریس لگی ہوئی ہے،اور مقابلے کی شکل پیدا ہوگئی ہے،بہتر سے بہتر پیشکش ہو رہی ہے۔مگر قبول کرنے والے کو سوچنا چاہیئے کہ ملک کے لئے کیا بہتر ہے۔اس میں شک نہیں کہ ہارس ٹریڈنگ کھلے عام ہورہی ہے، 18سے21کروڑروپے تک کی بولیاں لگ چکی ہیں۔حکومت کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ بولی لگانے اور قبول کرنے والوں کی آڈیوز/ویڈیوز بھی جلد ہی منظر عام پر آ جائیں گی۔عبدالحفیظ شیخ کے سینیٹروالے انتخاب میں سابق وزیر اعظم کے صاحبزادے کی”لین دین“ والی ویڈیو الیکشن کمیشن کے پاس جمع کرا دی گئی ہے۔عام آدمی شدت سے منتظر ہے، الیکشن کمیشن اتنے ٹھوس ثبوت دیکھنے کے بعد کیا فیصلہ سناتا ہے؟ اگرالیکشن کمیشن بلا تاخیر فیصلہ سنائے تو اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کی یہ ”ہارس ٹریڈنگ“ رک سکتی ہے۔ لیکن اسمبلیوں یا سینیٹ کی مدت ختم ہونے تک فیصلہ نہ سناناعام آدمی کے نزدیک اس جرم کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔ایک قانونی کہاوت کے مطابق بھی”انصاف میں عجلت، انصاف کو دفن کرنااور انصاف میں تاخیر انصاف کا انکار ہے“۔ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے،اس کی بنیادی ذمہ داری شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنانا ہے۔جب ادارہ اراکین اسمبلی کی ووٹ کے عوض نوٹوں کے بیگ وصول کرنے کی ویڈیوز دیکھنے کے بعد بھی اپنی آنکھیں بند رکھے تو عام آدمی کی حیرت اور مایوسی میں اضافہ ہوتا ہے۔کوئی ملک عوام کی مایوسی کا متحمل نہیں ہو سکتا،عوام کی مایوسی کا بیّن ثبوت انتخابی عمل سے ان کی دوری اور پولنگ کے روز عدم شرکت ہے۔الیکشن کمیشن کی کارکردگی 2013 کے انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں یک رکنی جوڈیشل کمیشن مقرر کیا گیا،اس تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ میں الیکشن کمیشن کی 40کوتاہیوں (یا معمولی غلطیوں)کی نشاندہی درج ہے۔عام آدمی آج تک کی جانے والی اصلاحات سے بے خبر ہے؟عام آدمی جاننا چاہتاہے کیامذکورہ40 نقائص دور کر لئے گئے ہیں؟ اس بارے موجودہ عہدیدار ہی کچھ کہہ سکتے ہیں۔ انہیں اس سوال کا جواب دینا چاہیئے۔یاد رہے تمام آئینی ادارے ریاست سے وفادری کا حلف اٹھا تے ہیں، اس حلف کی پاسداری ان کی آئینی ذمہ داری ہے۔واضح رہے اس ذمہ داری سے انحراف آئین شکنی کے مترادف ہے۔ پرویز مشرف کی بیرون ملک موجودگی اسی آئینی انحراف کا نتیجہ ہے۔اگر ریاستی ادارے آئین کی پاسداری کریں گے تب ہی ریاست کو استحکام ملے گا۔آج کے عالمی تناظر میں تمام آئینی اداروں کو اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔کوئی ادارہ خود کو آئین اور قانون سے بالا تر نہ سمجھے،اور نہ ہی ذاتی مفادکسی لمحہ ریاست کے استحکام پر غالب آنے پائے۔مقننہ اپنے تمام امور آئینی حدود میں رہتے ہوئے انجام دے۔قانون سازی کرتے وقت عوام کی فلاح و بہبودکا خیال رکھا جائے۔ پاکستانی عوام کے ساتھ گزشتہ چار پانچ دہائیوں میں مسلسل ناانصافی ہوتی رہی ہے۔ تفصیل سے بچہ بچہ واقف ہے۔ اس دوران غیر ملکی مالیاتی اداروں (آئی ایم ایف،ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک)وغیرہ سے جتنے قرضے لئے گئے ان کی واپسی کے لئے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ملک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا۔سارا بوجھ عوام نے مہنگائی کی شکل میں برداشت کیا۔سب جانتے ہیں کہ گزشتہ 50برسوں میں ایک ڈیم نہیں تعمیر کیا گیا، اس کے برے اثرات نے پاکستان کی معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیاہے۔ ملک میں پانی کی شدید قلت ہے۔صنعت اور زراعت دونوں کو ضرورت کے مطابق پانی دستیاب نہیں۔ تعلیم اور روزگار صنعت اور زراعت کے شعبے فراہم ہیں، ذراعت کے لئے پانی اور صنعت کے لئے سستی بجلی ڈیم فراہم کرتے ہیں۔عوام پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں۔دیہات ہوں یا شہر، ہر جگہ پریشان کن مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ایسے حالات میں ضرورت تھی کہ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے سے محاذ آرائی کی بجائے مل بیٹھ کر معیشت کے فروغ اوراستحکام کے لئے کوئی منصوبہ بندی کرتے۔اپوزیشن نے پی ٹی آئی کی حکومت کو ”سلیکٹڈ“ کہہ کر سیاسی گالی دی اور پی ٹی آئی کی حکومت نے ”چور اور ڈاکو“سے جواب دیا۔اب اس غلطی کو ساڑھے تین سال بیت گئے ہیں۔ڈیڑھ سال کی مدت باقی بچی ہے۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ حکومتی اتحادی بھی کابینہ کا حصہ رہنے کے باوجود آج اپوزیشن سے ”کچھ لو اور کچھ دو“ کے مذاکرات میں مصروف ہیں،اپوزیشن نے ملک بھر سے اپنے کارکنوں کو اسلام آباد پہنچنے کی کال دے رکھی ہے۔دوسری جانب حکومت ڈی چوک (اسلام آباد) میں خیمے لگانے کی تیاری کر رہی ہے۔ حکومت مخالفین کو کچلنے کی دھمکی دے رہی ہے اور اپوزیشن 172سے زائد اراکین کی حمایت کا دعویٰ کررہی ہے۔ جبکہ مسلم لیگ (ق)کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین دونوں کو سمجھا رہے ہیں، تصادم سے بچو، اس میں کوئی (لیڈر)”مارا یا مروایا“ جا سکتا ہے۔ ہوش سے کام نہ لیا گیا تو سب کو افسوس ہوگا۔وزیر داخلہ شیخ رشید احمد یہی بات دوسرے انداز میں کہہ رہے ہیں:”ابھی انتخابات میں ایک سال رہ گیا ہے، ایسا نہ ہو کہ بات بگڑ جائے اور پھر 10سال تک انتخابات کے لئے ترسنا پڑے!“۔۔۔۔ لہٰذادونوں فریق دانشمندی سے کام لیں۔


