بزدار سے ہمددریاں ہیں، ان کو کرپٹ حکومت کا حساب دینا ہوگا، مسلم لیگ ن

اسلام آباد (انتخاب نیوز) پاکستان مسلم لیگ (ن)نے کہاہے کہ وزیراعظم جمہوری وزیراعظم کے طور پر عدم اعتماد کا سامنا کریں ،شکست ہو تو گھر جائیں،عثمان بزدار سے ہمددریاں ہیں مگر ان کو کرپٹ حکومت کا حساب دینا ہوگا ،وزیر اعظم اور وزرا کو دھونڈ رہے ہیں وہ مل نہیں رہے ، یہی وزرا اسی اور نوے کی دہائی میں ہمارے ساتھ بیٹھے تھے ، ہمیں پتہ ہے ان کے کیا مشورے ہوتے تھے ،وزیراعظم جمہوری وزیراعظم کے طور پر عدم اعتماد کا سامنا کریں، شکست ہو تو گھر جائیں،آپ نے آرٹیکل چھ لگانا ہے تو لگائیں ہم حاضر ہیں ،عدم اعتماد میں کوئی دخل اندازہ ہوتی ہے تو پھر انتظامیہ کو جوابدہ ہونا پڑیگا ۔ان خیالات کا اظہار سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ، سابق وزیر خرم دستگیر خان نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ عدم اعتماد کے ووٹ کے قریب آ رہا ہے اور حکومت کی بوکھلاہٹ بڑھ رہی ہے ،عثمان بزدار سے اظہار ہمدردی کرتا ہوں،کچھ ماہ پہلے سب سے بہترین وزیراعلی جس کو کہا گیا اس سے ہی استعفی لے لیا گیا،عثمان بزدار کو یہ نہیں پتہ تھا کہ استعفی وزیراعظم کو نہیں گورنر کو دینا ہے،عثمان بزدار کی گاڑی پر جھنڈا نہیں تھا،ہمدردی ہے مگر ان کو کرپٹ حکومت کا حساب دینا ہوگا۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم وفاقی وزرا کو دھونڈ رہے ہیں مگر وہ نہیں مل رہے۔ انہوںنے کہاکہ یہی وزرا ہماری ٹیبل پر بھی اسی اور نوے کی دہائی میں بیٹھتے تھے ،ہمیں پتہ ہے ان کے کیا مشورے ہوتے تھے ۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم جمہوری وزیراعظم کے طور پر عدم اعتماد کا سامنا کریں، شکست ہو تو گھر جائیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ جو وزرا آرٹیکل چھ لگانے کا مشورہ دے رہیں یہ وہ لوگ ہیں جو سب سے پہلے عمران کے خلاف گواہی دیں گے ،اگر ان وزرا نے عدم اعتماد میں مداخلت کی تو آرٹیکل چھ ان پر لگے گا۔انہوںنے کہاکہ دوسرا راستہ اس عوام کو مشکل میں ڈال کر گھر جانا ہے ،یہ حکومت ختم ہوچکی ہے ،اعتماد کھو چکے ہیں گھر جائیں ۔ انہوںنے کہاکہ آئین قانون اور جمہوریت کا تقاضا ہے کہ ایک جمہوری وزیراعظم کے طور پر اس عدم اعتماد کا مقابلہ کریں اور گھر جائیں۔ سابق وزیراعظم نے کہاکہ محمد شاہ رنگیلا کے بعد عثمان بزدار کی صورت پنجاب تاریخ کے دلچسپ ترین وزیر اعلی سے محروم ہو گیا ۔انہوںنے کہاکہ آپ نے آرٹیکل چھ لگانا ہے تو لگائیں ہم حاضر ہیں ،جس ملک کی حکومت اپنے ہی دارالحکومت پر حملہ اور ہوجائے تاریخ کیا لکھے گی ۔ انہوںنے کہاکہ اگر عدم اعتماد میں کوئی دخل اندازہ ہوتی ہے تو پھر انتظامیہ کو جوابدہ ہونا پڑے گا ،اس وقت ان افسران کو شیخ رشید عمران خان اور پرویز خٹک نہیں ملے گا ،آپ کو پھر جیل جانا پڑے گا۔ انہوںنے کہاکہ ڈی جی ایف آئی اے کو بھی کہوں گا آپ نے لاہور میں پراسیکیوٹر بھیجا ،آپ کو کس نے اختیار دیا کہ آپ نے عدم اعتماد سے پہلے عدالت میں کسلئے درخواست دی ہے ،آپ کو جواب دینا پریگا ،یہ افسران اپنی نوکری کو دا پرمت لگائیں ،کل کو گلہ بھی نہ کریں اورسفارشیں بھی نہ کروانا۔شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ شوکت ترین کو ساتھ بیٹھا کر کہیں گے عوام کو حقیقت بتائیں ،اس ملک کو صحیح معنوں میں چلائیں گے ۔خرم دستگیر نے کہاکہ رمضان المبارک آرہا ہے لیکن عوام کیلئے کوئی ریلیف نہیں ،انتظامیہ پریشان ہے کہ اشتہاروں پر کس کی تصویر لگائیں ۔ خرم دستگیر خان نے کہاکہ قومی سلامتی کمیٹی نے سفارتی کیبل کو ملک کے خلاف سازش نہیں قرار دیا ،پریس ریلیز میں یہ کہا گیا ہے کہ سفارت کار کی زبان غیر سفارتی تھی، خرم دستگیر خان نے کہاکہ نئی حکومت اس مبینہ سفارتی کیبل کے ڈھکوسلے کو بے نقاب کریگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں