وزیراعظم عمران خان کا سرپرائز۔میں نہیں تو کچھ بھی نہیں۔
وزیراعظم نے اپنی ذات سے محبت کی عملی تعبیر پیش کی ہے، وہ واحد سویلین لیڈر ہیں کہ انہوں نے 1973 کے آئین کی دھجیاں اکھاڑ دی ہیں۔ جو کچھ ہوا اس کا فیصلہ تو سپریم کورٹ کرے گی لیکن کپتان نے گزشتہ رات عدم اعتماد کے نتائج نہ ماننے کا جو اعلان کیا تھا وہ کرکے دکھایا۔ آئندہ چند گھنٹوں میں کیا ہونے والا ہے یہ ایسا ڈرامہ ہے کہ اس کے ڈراپ سین کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔
دوسری طرف زمینی حقائق کیا ہیں، عمران خان سے گزشتہ شب کے آخری پہر کہہ دیا گیا تھا کہ آپ الیکشن کی طرف جائیں لیکن انہیں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ جاتے جاتے آئین توڑیں۔ ملک کو ایک بڑے آئینی بحران میں مبتلا کردیں۔ آئینی بحران کے بعد بہت بڑا معاشی بحران لازمی طور پر آنا ہے۔ یہ بھی ہنوز معلوم نہیں کہ نگران حکومت کس طرح بنے گی کیونکہ 18ویں ترمیم کے تحت نگران وزیراعظم کے تقرر پر لیڈر آف ہاؤس یا لیڈر آف اپوزیشن کا متفق ہونا ضروری ہے۔ عمران خان تو اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں کہیں ایسا تو نہیں کہ نگران وزیراعظم کا تقرر اور لوگ کریں گے جیسے کہ معین قریشی یا شوکت عزیز کا کیاگیاتھا۔
تحریک انصاف کی قیادت کا خیال ہے کہ اس نے عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنادیا ہے لیکن دراصل ایسا نہیں ہے کیونکہ ارکان کی اکثریت عمران خان کا ساتھ چھوڑ چکی تھی اس لئے ہزیمت سے بچنے کے لئے منتازعہ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری سے کہہ دیا گیا کہ آئین کی خلاف ورزی کرکے اجلاس ملتوی کردو، عمران خان پی ٹی وی کو بلا کر قوم سے خطاب کے لئے تیار تھے ان کا فیصلہ تھا کہ اگر وہ نہ کھیلے تو کسی اور کو کھیلنے نہیں دیں گے۔ گزشتہ روز ہی لاہور میں تحریک انصاف کے کارکنوں نے ایک بینر آویزاں کیا تھا کہ عمران خان نہیں تو مارشل لاء قبول ہے۔ موجودہ انتہائی نازک صورتحال میں سپریم کورٹ نے آئین کو نہیں بچایا تو سیاسی جنگ اتنی آگے بڑھ جائے گی کہ تیسرے فریق کو آگے آنا پڑے گا۔ کیونکہ عدم اعتماد سے فرار انارکی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ کپتان نے کارکنوں کو پارلیمنت ہاؤس کے سامنے آنے کی کال دی تھی لیکن کوئی نہیں آیا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب معاملات معمول پر آجائیں گے تو سیاسی کارکنوں کا جوش اور ولولہ ٹھنڈا پڑ جائے گا۔ مولانا فضل الرحمن نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ جنرل نیازی نے تو ڈھاکہ میں سرنڈر کیا تھا لیکن موجودہ نیازی تو میدان سے بھاگ گیا، اگر سپریم کورٹ نے مداخلت نہیں کی تو آئینی اور سیاسی بحران بڑھ جائے گا۔ اگر عمران خان کا اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ قائم رہا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک عام انتخابات کی طرف جائے گا۔ عمران خان کو خوش فہمی ہے کہ وہ اپنے امریکہ مخالف بیانیہ اور مخالف لیڈروں کو غدار قرار دینے کے فلسفہ کے تحت عظیم کامیابی حاصل کریں گے اور دو تہائی اکثریت حاصل کرکے آئیں گے لیکن اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کیونکہ تین ماہ کے عرصہ میں معاملات تیسرے فریق کے ہاتھ میں چلے جائیں گے۔ نگران حکومت بھی ان کی مرضی سے بنے گی اور انتخابات کے نتائج بھی وہی مرتب کرے گا۔ بظاہر تو یہ ملک اس با ت کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ عمران خان جیسا سخت گیر اور بنیاد پرست شخص اس ملک کی قیادت دوبارہ سنبھالے۔ اگر ایک دفعہ عمران خان وزارت عظمیٰ کی کرسی سے اتر گیا تو پھر وہ ڈرائیونگ پوزیشن میں نہیں ہوگا اور معاملات ان کی مرضی کے خلاف آگے بڑھیں گے۔ البتہ یہ بات طے ہے کہ نئے انتخابات کے نتیجے میں ایک اور ہائی برڈ رجیم کے آجانے کا امکان ہے یعنی آئین اور جمہوریت کا بول بالا ہونے کا امکان کم ہے۔ عمران خان نے اسپیکر سے جو رولنگ دلوائی ہے اس کی ایک مثال 1988ء کی موجود ہے جب اسپیکر محمد خان باروزئی نے رولنگ دی کہ نواب اکبر خان کے مقابلہ میں میر ظفر اللہ جمالی آئینی طریقہ سے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے ہیں۔ بعد ازاں جب اسپیکر کی رولنگ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تو عدالت سے اسپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دیا جس کے نتیجے میں نواب صاحب وزیراعلیٰ بن گئے۔ ویسے یہ تو کپتان کا کمال ہے کہ انہوں نے جعلی خط کو بنیاد بنا کر نا صرف اپوزیشن لیڈروں کو از خود سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بن کر غدار قرار دیدیا بلکہ اس کی آڑ لے کر ڈپٹی اسپیکر کو ہدایت دی کہ وہ رولنگ دیں چاہے اس کا نتیجہ کچھ بھی نکلے۔
جہاں تک 1973 کے آئین کو توڑنے کا عمل ہے یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے البتہ کسی سویلین وزیراعظم کی جانب سے آئین شکنی کا پہلا واقعہ ضرور ہے۔ آئین کے نفاذ کے چار سال بعد 5جولائی 1977 کو آرمی چیف جنرل ضیاء الحق نے آئین توڑ کر مارشل لاء نافذ کیا جو اگست 1988ء تک جاری رہا۔ ضیاء الحق کے اس اقدام کو 1985 کی اسمبلی نے معاف کردیا اور وہ آئین کی دفعہ 6 کی گرفت سے بچ گئے۔ جنرل پرویز مشرف دوسرے فوجی جنرل تھے جنہوں نے 12اکتوبر 1999 کو آئین توڑ کر اپنی غیر آئینی حکومت قائم کی۔ جنرل پرویز مشرف کی اس آئین شکنی کو 2002 کی اسمبلی نے جائز قرار دیدیا۔ا س عمل میں مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں ایم ایم اے بھی شامل تھی۔ جنرل پرویز مشرف نے 3 نومبر 2006 کو ایمرجنسی نافذ کرکے دوسری بار آئین توڑا۔ میاں نواز شریف نے 2013 میں وزیراعظم بننے کے بعد جنرل پرویز مشرف کے خلاف آئین کی دفعہ 6 کے تحت غداری کا مقدمہ قائم کیا، ان پر خصوصی عدالت میں مقدمہ بھی چلا اور جسٹس وقار سیٹھ نے آئین شکنی پر جنرل پرویز مشرف کو نا صرف موت کی سزا سنائی بلکہ حکم دیا کہ انہیں سرعام پھانسی دی جائے۔پرویز مشرف کی علالت اور دیگر وجوہات کی بنیاد پر اگرچہ اس سزا پر عملدرآمد ممکن نہیں لیکن جن لوگوں نے اتوار 3 اپریل 2022 کو آئین تورنے کا جو عمل کیا ہے ضرور ایسے ماہرین ہوں گے جو عمران خان اور ساتھیوں کے خلاف غداری کے مقدمات قائم کرنے کی درخواست دیں گے جس کے نتیجے میں اپوزیشن کے رہنما غدار قرار پائیں یا نہیں عمران خان اور ساتھی ضرور آئین کی گرفت میں آجائیں گے۔


