چائلڈ لیبر کی سنگین صورتحال
تحریر: جعفر علی میروانی
بچوں کی مشقت ایک عالمی مسئلہ ہے، تاہم ترقی پزیر اور کمزور معیشتوں والے ممالک اس مسئلے کی سنگینی نسبتا زیادہ ہے۔ چائلڈ لبیر یا بچوں سے مشقت کا مطلب ہے وہ کام جن سے بچے اپنے بچپن کی امنگوں، باعزت و پر وقار طرز زندگی سے محروم ہوجائیں اور جو ان کی جسمانی، ذہنی اور اخلاقی نشو و نما کے لیے نقصان دہ ہوں اور جن سے ان کی تعلیم میں حرج ہوا۔
دنیا بھر میں تقریبا 152 ملین بچے چائلڈلیبر کا شکار ہیں اس میں سے تقریبا نصف یعنی 5.72 ملیں بچے ایسے خطرناک کام یا شعبوں میں کام کرتے ہے جو بچوں کی صحت ،تحفظ اور اخلاقی ترقی کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق کہ پانچ سے کم ازکم 34 فیصد بچوں کو پیدائش میں قومی پر رجسڑڈ ہیں۔تقریبا 3.3 ملین پاکستانی (1) بچے بچے کی محنت میں پھنس گئے ہیں۔انہیں ان کے پچین،ان کی محت اور تعلیم سے معروم کرتے ہیں اور غربت کی زندگی میں ان کی مزمت کرتے ہیں اور چاہتے میں۔ پاکستان میں بچوں سے مشقت دوسرے ممالک کی نسبت بہت زیادہ ہے کیونکہ پاکستان میں شرح خواندگی دوسرے ملکوں کی نسبت کم ہیں۔
پاکستان میں ایک کروڈ بیس لاکھ سے زیادہ بچے چائلڈ لیبر کے طور پر کام کررہے ہیں۔اور اس تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے یہ رپورٹ 2018 کی ہیں ۔مگر اب ہر سال اس کی تعداد میں 20 فیصد اضافہ ہوتا جا رہا ہیں اور پاکستان جیسی ترقی پزیر ممالک میں چائلڈ لیبر کی وجہ سے بچے اپنے تعلیم جیسے اہم آئینی حق سے محروم ہو جاتے ہیں۔انسانی حقوق کمیشن کے مطابق چائلدلیبر کی سب سے زیادہ شرح صوبہ پنجاب میں ہے جہان 19 لاکھ بچے جبری مشقت کرنے پر مجبور ہیں۔ خیبر پختونخوا میں یہ تعداد 10 لاکھ ۔سندھ میں 2 لاکھ 98 ہرار جبکہ بلوچستان میں 14 ہزار ریکا رڈ کی گئ ہے۔ ایک اندازے کی مطابق تقربیا 22 کروڈ کی آبادی والا ملک پاکستان میں ایک کروڈ سے زیادہ بچے چائلد لیبر کا شکار ہیں ۔ان ایک کروڈ بچوں میں وہ بچے شامل نہیں میں جو گھریلو ملازمت کرتا ہے۔
براعظم ایشیا میں چائلڈ لیبر کا شکار بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے،جہاں 212 کروڈ سے زائد بچے مزدوی کرتے ہیں۔اور سب سے زیادہ شرح براعظم افریقہ میں ہے جہاں اندازا ہر تسیرا بچہ مزدور ہے۔
چائلد لیبر یا بچوں سے مشقت لینا کی جگہ ہوئلوں،کارخانوں،ورکشاپوں،گھروں،گراج اور صنعتی مراکز پر کام کرتی ہوئی پائی جائی ہے۔ چائلد لیبر پر کام کرنے ولی سماجی تنطیم کی ایک رپورٹ کی مطابق جنوبی ایشیا کے ملک بھارت میں 12.6 ملین بچے چائلڈ لیبر کے زمرے میں آتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے زیلی ادارے یونیسف کے مطابق جنوبی ایشیا کی اس ریاست میں تقریبا پانچ ملین بچے ٹیکسٹائل کی صنعت سے وابستہ میں۔ایشیائی ممالک بالخصوص بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش ، افغانستان، نیپال، کمبوڈیا اور میانمرمیں ان معصوم بچوں کی صورت حال تاحال خستہ حال ہے ۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 11 کی ضمانت دیتا ہے کہ 14 سال کی عمر سے نیچے کوئی بچہ کسی بھی فیکڑی یا دوسرےقسم کی خطرناک ملازمت ممنوع ہے لیکن پر بھی 2021 میں پاکستان کی چائلڈ لیبر کی شرح 11 لاکھ ہے جس کا تدارک ناگزیر ہے


