خضدار کی یوسی کوڈاسک میں 6 پرائمری اسکول کئی سال سے بند، تعلیمی سرگرمیاں معطل

خضدار (انتخاب نیوز) یونین کونسل کوڈاسک خضدار سے 120 کلو میٹر مغرب کی طرف واقع ہے یہاں کی کل آبادی دس ہزارا سے ذیادہ ہے یہاں کے لوگ ذندگی کے تمام سہولیات سے محروم ہے۔جن میں تعلیم اول نمبر پر آتا ہے لیکن بد قسمتی سے یہاں کے شرح کم خواندگی نہ ہونے برابر ہیں کوڈاسک میں ک±ل چھ پرائمری اسکول اور ایک ہائی اسکول ہیں جو کہ کئی سالوں سے بندش کا شکار ہیں ہم نے بار بار حکام بالا سے اسکولوں کو کھولنے کی اپیل کی لیکن ہمارا ایک تک بھی نہیں سنا گیا۔ گورنمنٹ پرائمری اسکول شہول جو کئی سالوں سے بندش کا شکار ہے وہاں کے دو اساتذہ کرام جنکو گورنمنٹ اسلیئے تنخواہ دیتی ہیں تاکہ یہاں کے بچوں کو اچھی تعلیم مہیا کرے۔

خضدار کی یوسی کوڈاسک میں 6 پرائمری اسکول کئی سال سے بند، تعلیمی سرگرمیاں معطل

لیکن اسکے بر عکس وہ ٹیچرز اپنی ذاتی کاروبار میں مصروف ہیں اسکول میں جائے یا نہیں کوئی پوچھنے والا بھی نہیں۔ گورنمنٹ پرائمری اسکول ہیکل کو گورنمنٹ کی طرف سے ابھی تک بلڈنگ مہیا نہیں کیا گیا ہے جنکا صرف ایک ہی استاد ہے جنکو لفظ استاد کا الف تک کا نہیں پتہ جنکو سیاسی طاقت کے ذریعے یہاں کے لوگوں پر مصلّت کیا گیا ہے وہ اپنا ذاتی کاروبار اور زمینداری میں مصروف ہے گورنمنٹ پرائمری اسکول گرلز کونڈی جنکا بلڈنگ 2008 میں تیار کیا گیا ھے وہاں پہ استاد کا شروع دن سے کوئی اتہ پتہ نہیں ہے کودہ کوڑاسک میں ایک ایجوکیشن ویلفیئر سوسائٹی کے نام سے ایک تنظیم کام کر رہی ہے جنکے ذمہداروں نے اپنی مدد آپ اس اسکول کو کھول دیا اور وہاں کے دو مقامی لوگ اپنی مدد آپ بچوں کو پڑھانے لگے بنا معاوظہ کے لیکن کچھ مہینے بعد وہ بھی غریب لوگ تھے اس مشن کو جاری نہیں رکھ سکے وہ اسکول ابھی تک بند ہے کونڈی کوڈاسک کا بڑا گاوں ہے جس میں کل بچے 400 سے بھی ذیادہ ہے جو بے حال بےیارو مدد گار ہے کئی بچوں کے پڑھنے کے عمر بھی گزر گئی ہیے کئی بچے ابھی تک انتظار میں کوئی آسمانی فرشتہ آکر ہماری مدد کریں۔ گورنمنٹ پرائمری اسکول مزاردان کے بچے وہ بھی تعلیم جیسی نعمت سے محروم ہیں جنکا ٹیچر ہفتے میں ایک بار یا ایک مہینے میں دو بار صرف حاضری لگانے آتا ہیے وہاں کوئی پوچھنے والا بھی نہیں بچے تعلیم جیسے نعمت سے محروم ہیں ۔ گورنمنٹ پرائمری اسکول چھڈ جنکا کا ایک استاد تھا وہ کئی سالوں سے غیر حاظر رئے ہم نے انتظامیہ کو باربار اس مسئلے سے آگاہ کیا لیکن وہ سیاسی اثر رسوخ استعمال کرکے ہمارا ایک تک بھی نہیں سنا جنکا نام فہد ولد الاہی بخش سکنہ گریشہ سے تعلق تھا وہ اب بھی غیر حاظر ہے اور اب انکے جگہ ایک اور ٹیچر ہے جن میں اتنا اہلیت نہیں وہ بچوں کو سہی طرح سے بچوں کو پڑھا سکے اس اسکول کو 15 سال ہوئے ہیں لیکن وہاں سے کوئی بھی طالب علم آگے پڑھنے کیلئے نہیں نکل سکا جنکا ذمہدار انہی اساتذہ کو ٹھرایا جائےگا۔

یونین کونسل کوڈاسک خضدار سے 120 کلو میٹر مغرب کی طرف واقع ہے

گورنمنٹ پرائمری اسکول منئی جو کئی سال سے ایک گندم کا گودام ہی رہا اور بھی تک گودام ہی ہے وہاں بچوں کو پڑھنے کیلئے صرف ایک ہی کمرہ دیاگیا بے وہاں پہ صرف ایک ہی استاد ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے۔منئی کوڈاسک کے بچے کئی سالوں سے علم کے پیاسے ہیں انکو ایسا استاد ہی نہیں ملا جنکا پیاس بجھا سکے۔ گورنمنٹ آئی سکول کوڑاسک جو کہ 2018 سے سکیورٹی فورسز کے قبضے میں ہیں جس میں بچے اب خوف سے اسکول نہیں جاسکتے 2018 سے پہلے وہاں کے طلباءو طالبات کی تعداد 400 سے ذائد تھے اب خوف کے مارے طلباءو طالبات کی تعداد میں روز بروز کم ہوتا جارہا ہیں۔ہائی اسکول کوڑاسک کے کئی استاد ابھی تک اسکول کے منہ تک نہیں دیکھے ہیں جو اوّل دن سے غیر حاظر رہے ہیں جن میں سریچن جن کا تعلق خضدار سٹی سے ہے وہ 5 سال تک غیر حاظر رہے ہیں اب وہ وہاں سے خود کو ٹرانسفر کر دیا ہے,

یونین کونسل کوڈاسک خضدار سے 120 کلو میٹر مغرب کی طرف واقع ہے

بشیر احمد سکنہ گریشہ وہ ابھی تک غیر حاظر ہے وہاں کا کلرک جنکا تعلق خضدار سٹی سے ہے جو ہیڈ ماسٹر کو بتہ دیکر خود کئی سالوں سے غیر حاظر ہے۔ اہالیان کوڑاسک نے کہا کہ ہم نے بار بار انتظامیہ کو ان مسائل کے بارے میں آگاہ کیا لیکن وہ بھی بے بس نظر آرہے ہیں ہم پھر سے ڈسٹرک ایجوکیشن آفیسر نیاذاللہ سمالانی سے اپیل کرتے ہیں خدارا ان بچوں کے حال پر ذرا رحم کرے اور یہاں کے اسکولوں کا دورہ کرکے اسکولوں کو فعال بنانے میں اہم کردار ادا کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں