پیپلز پارٹی کو پنجاب، ایم کیو ایم کو سندھ میں گورنر شپ دینے پر غور

اسلام آباد (انتخاب نیوز) وزیراعظم شہبازشریف نے حکومت بنانے اور چلانے کے لیے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو ناگزیر قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے اتحادیوں سے ملاقاتیں شروع کر دی ہیں اور پہلے مرحلے میں ایم کیو ایم پاکستان کے خالد مقبول صدیقی سے پارلیمینٹ لاجز میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اختر، امین الحق اور جاوید حنیف بھی ملاقات میں شریک ہوئے، مسلم لیگ ن کی طرف سے رانا ثنااللہ، سعد فیق، ایاز صادق اور مریم اورنگزیب نے ملاقات میں شرکت کی، اس موقع پر گفتگو میں وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت بنانے اور چلانے کیلئے ایم کیو ایم کا مضبوط ساتھ ناگزیر قرار دیا۔خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کی تشکیل کے لئے اتحادیوں سے مشاورت کا فیصلہ کرلیا، نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف نے نئی وفاقی کابینہ کی تشکیل کے لیے مشاورت شروع کر دی ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے، وزیراعظم نے اپنے اتحادی رہنماوں کو پی ایم ہاس بلانے کی بجائے ان کے پاس خود جانے کا فیصلہ کیا ہے اور وزیراعظم آج سابق صدر آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمان اور دیگر کے پاس جائیں گے، وزیراعظم اتحادی رہنماں کے پاس جا کر ان کا شکریہ ادا کریں گے اور انہیں پی ایم ہاس آنے کی دعوت بھی دیں گے جب کہ پیپلز پارٹی، جے یو آئی ف، ایم کیو ایم اور دیگر اتحادیوں کے ارکان کو کابینہ میں شامل کریں گے۔ ادھر شہبازشریف کی کامیابی کی صورت میں ان کی حکومت میں وفاقی کابینہ میں شامل مکنہ وزیروں کے نام اور تعداد سامنے آگئی، کابینہ میں مسلم لیگ ن کے 12 اور پیپلز پارٹی کے 7 وزرا ہوں گے جب کہ جے یو آئی ف کو 4، ایم کیو ایم کو 2 اور بی این پی مینگل، اے این پی، جمہوری وطن پارٹی اور بلوچستان عوامی پارٹی کو ایک ایک وزارت دی جا ئے گی۔ ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا گیا ہے کہ محسن داوڑ، اسلم بھوتانی اور طارق بشیر چیمہ کو بھی وفاقی کابینہ میں شامل کیے جا نے کا امکان ہے، مسلم لیگ ن کی طرف سے خواجہ آصف، سعد رفیق، خرم دستگیر، احسن اقبال، مریم اورنگزیب، شائستہ پرویز ملک، رانا ثنا اللہ اور مرتضی جا وید عباسی کو کابینہ میں شامل کیے جانے کا امکان ہے جب کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری وزیر خارجہ ہو سکتے ہیں تاہم شازیہ مری کا نام بھی زیرغور ہے۔اس کے علاوہ پیپلز پارٹی سینیٹ سے شیری رحمان یا مصطفی نواز کھوکھر میں سے ایک کو وزارت دے گی جب کہ سینیٹ میں قائد ایوان کے لیے مسلم لیگ ن کے سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کے نام پر غور کیا جارہا ہے، جے یو آئی ف نے بلوچستان یا خیبرپختونخوا میں سے کسی ایک صوبے کی گورنری کا مطالبہ کیا ہے، پیپلز پارٹی کو پنجاب اور ایم کیو ایم کو سندھ میں گورنر کا عہدہ دیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں