مالی مشکلات میں اضافے کا خدشہ

عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ(Fitch)نے پاکستان میں حکومت کی پر امن تبدیلی کا خیر مقدم کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان میں سیاسی اتار چڑھاؤ کے نتیجے میں قریب المدتی پالیسیوں کے بارے میں تشویش میں اضافہ ہوا ہے،جبکہ پہلے ہی عالمی کموڈیٹی(پیٹرول، اشیائے خوردنی وغیرہ)کی قیمتوں اور عالمی سطح پر بے یقینی کے سبب بیرونی اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، بیرونی سرمایہ کاری رک سکتی ہے۔آئندہ مالی سال کے دوران پاکستان کو 30ارب ڈالر درکار ہوں گے،ان میں 20ارب ڈالر کا قرضہ بھی ادا کرنا ہے جو ماضی میں اس وقت کی حکومتوں نے لیا تھا۔ مسلم لیگ نون کے ماہر معیشت رہنما مفتاح اسماعیل کہہ رہے ہیں کہ مہنگائی فوری کم نہیں کر سکتے،چار ماہ تک پیٹرول کی قیمتیں نہ بڑھا کرجانے والے ہماری راہ میں بارودی سرنگ بچھا گئے ہیں۔ کسانوں کے لئے مخلوط حکومت بجلی کی قیمتوں پر نظرِ ثانی کرے گی۔آج موجودہ حکومت کے سامنے ملک کااصل معاشی نقشہ ہے،محض مفروضے یا افواہیں نہیں ہیں۔آج پی ٹی آئی کے قائدین اپوزیشن میں ہیں، عوامی جلسوں میں پر جوش تقاریر کرتے ہوئے جو چاہے کہہ سکتے ہیں، لیکن چند روز پہلے وہ بھی عوام کو سمجھا رہے تھے مہنگائی کی وجہ عالمی حالات ہیں،کورونا گیا تو یوکرین کی جنگ نے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔اقتدار میں آنے کے بعد ترجیحات بدل جاتی ہیں۔حکومت کو عوام سے کئے گئے وعدے پورے کرنے ہوتے ہیں،مہنگائی کم کرنے کی ذمہ داری حکومت کے کندھوں پر ہوتی ہے، حکومت فرنٹ فٹ پر نہیں کھیل سکتی، اسے ایک سے زائد مسائل حل کرنے پڑتے ہیں، قرضوں کی محتاج حکومتوں کا لہجہ دفاعی ہوتا ہے۔اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ طویل عرصے سے دنیا دو بڑے کیمپوں میں تقسیم ہے، ان میں سے ایک کی سربراہی امریکہ کے پاس ہے جبکہ دوسرے کیمپ کی باگ ڈور روس کے ہاتھوں سے نکل کر چین کے پاس چلی گئی ہے۔اس لئے کہ سیاست معیشت کے تابع ہوتی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اسی حقیقت کی نشاندہی کرنے کے لئے”بھکاری اپنی مرضی کے مطابق چیزیں پسند کرنے کا اختیار نہیں رکھتے“ والی دیرینہ کہاوت استعمال کی ہے۔دونوں جملوں کا بین السطور پیغام یہ ہے کہ سراٹھا کر بات وہی ملک کر سکتا ہے جس کی معیشت آزاد ہو۔قرضوں میں جکڑی ہوئی معیشت والے ملک کو قدم قدم پر مشکل سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں۔قرض دینے والے ملکوں اور اداروں کی ناگوار اور ناپسندیدہ شرطیں ماننی پڑتی ہیں۔اس تناظر میں عام آدمی ہر حکومت سے ایک ایسی معاشی پالیسی کی توقع رکھتا ہے جو اسے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی سے نجات دلائے،قرض لینے سے پہلے حکومت اس کی واپسی کی منصوبہ بندی کرے۔مشکل اور ناقابلِ عمل شرائط پرقرض نہ لیاجائے۔علاوہ ازیں قرض ایسے منصوبوں پر خرچ کیا جائے جو کمائی اور آمدنی میں اضافے کا سبب بن سکیں۔گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران پاکستان نے 20ارب ڈالرواپس کرنے ہیں،اگر ماضی کی حکومتوں نے لیا گیا قرض آمدنی میں اضافہ کرنے والے منصوبوں پر خرچ کیا ہوتا تو آج ماضی کیہ قرضہ با آسانی ادا کردیا جاتا،حکومت اور عوام کے لئے ایک نئی پریشانی کا سبب نہ بنتا۔کچھ ایسے ہی مناظر 2018میں بھی دیکھنے کو ملے تھے۔سوچا جائے غلطی کب، اور کس حکومت سے سرزد ہوئی؟ زیادہ یا کم کی بات بعد میں کی جا سکتی ہے، لیکن پہلے بیماری کی تشخیص ضروری ہوتی ہے۔آج مسلم لیگ نون تمام حقائق کا جائزہ لے اور حقائق سے عوام کو آگاہ کرے۔عام آدمی شاید آنکھیں بند کرکے مفتاح اسماعیل کی ہر دلیل تسلیم نہ کرے لیکن یاد رہے کہ عام آدمی جس دن اپنی تنخواہ سے 30دن مسلسل اپنے کچن کا چولھا جلتا ہوا دیکھے گا،یقین کر لے گا کہ معیشت درست راستے پر گامزن ہوگئی ہے اسے اس بحث سے کوئی غرض نہیں کہ آئی ایم ایف نے قرض دیتے وقت پاکستان کے وزیر خزانہ سے کتنے انگوٹھے لگوائے اور کتنے دستخط کرائے؟یاسعودی عرب نے پاکستان کے وزیر اعظم کوملائیشیا جانے کی کیوں اجازت نہیں دی؟ غریب آدمی اپنے بچوں کو بھوکا سلانا پسند نہیں کرتا۔یہ بھی سچ ہے عام آدمی صدیوں سے اس کہاوت پر یقین رکھتا ہے کہ”اَللہ اپنی مخلوق کو جگاتا بھوکے پیٹ ہے مگر سلاتا کھانا کھلا نے بعد ہے“۔ عام آدمی 75سال میں اس راز سے واقف ہو چکا ہے کہ اس کے کچن کا چولھا مہینہ ختم ہونے پہلے اس وقت بجھتا ہے جب حکومت پاکستان پرانے قرض کی ادائیگی کے لئے آئی ایم ایف سے ایک نیا قرض لیتی ہے۔مفتاح اسماعیل کے علم میں ہوگا کہ ہر حکومت پرانے قرضے ادا کرتی ہے، جو عوام سے بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتیں بڑھا کر ادا کیا جاتے ہیں۔اور اس اضافے کے نتیجے میں ٹماٹر، آلو اور پیاز بھی مہنگے ہو جاتے ہیں۔مرتاح اسماعیل پاکستان کے عوام کو یہ ضروربتائیں کہ آئندہ مالی سال کے دوران جن 20ارب ڈلرقرضوں کی واپسی کرنی ہے وہ قرضے کب؟ اور کس حکومت نے لئے تھے؟ اس لئے کہ عوام جانتے ہیں کہ یہ قرضے گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں نہیں لئے گئے تھے۔ چین پہلے ہی ادائیگی کی مدت بڑھانے کا اعلان کر چکا ہے۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے مسلم لیگ نون کے اچھے تعلقات رہے ہیں۔مفاح اسماعیل کی زبان نے یہ سچ اگل دیا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے کوئی قرض ادا نہیں کیا، یہ ادائیگی صرف کاغذات میں کی جاتی ہے، پرانا قرض مان لیا جاتا کہ وصول ہوگیا اور اس سمیت ایک نیا قرض جاری کرنے کی منظوری دے دی جاتی ہے۔کاش مفتاح اسماعیل عوام کے سامنے بھی وہی سچ دہرا سکیں۔ مصلحت سے کام نہ لیں۔عوام سے سچ چھپایا جائے تو وہ بدظن ہوجاتے ہیں۔گزشتہ 75سال میں عام آدمی سے بہت زیادہ جھوٹ بولا گیا ہے۔پی ٹی آئی والوں کو مفتاح اسماعیل نے جھوٹا تسلیم کرنے کے بعد اپنا بھائی کہا ہے، سوال یہ ہے عام آدمی اس حقیقت نما سچائی سے کیا سمجھے؟اس جملے کی تہہ کی موجود ہے بتا دی جائے تو عام آدمی کی پریشانی کافی حد تک دور ہوجائے گی، وہ جان جائے گا کہ نئے قرضوں کی ادائیگی اسی کو کرنی ہے، باقی سب کاغذی کارروائی ہے،وزیر خزانہ کوئی بھی ہو!!!

اپنا تبصرہ بھیجیں