پے درپے علما ء کا قتل کھلی دہشتگردی ہے، حافظ حسین احمد

کوئٹہ:جمعیت علما اسلام پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سابق رکن قومی اسمبلی مولانا حافظ حسین احمد جمعیت بلوچستان کے صوبائی سرپرست اعلی سابق صوبائی وزیر بلدیات مولانا حافظ حسین احمد شرودی مولانا حافظ محمد یوسف مولانا مفتی محمد روزی خان مولانا محمد جمیل دوتانی اور سید آغا محمد ایوب شاہ نے کہا کہ ریاست مدینہ کے دعویدار حکمرانوں کے دور اقتدار میں علما کرام کی قتل عام لمحہ فکر یہ ہے خیبر پختون خواہ میں پے درپے علما کرام کی شہادت کھلی دہشت گردی ہیانہوں نے کہا کہ لکی مروت میں جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا مراد علی کی شہادت مولانا عبد اللہ شہید اور قاری محمد یونس مدنی کی شہادت کے تسلسل ہیں انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام ایک عالمگیر پرامن سیاسی و مذہبی جماعت ہے جمعیت نے ہمیشہ قیام امن کیلئے لازوال قربانیاں اور خدمات دیا ہے انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام سے وابستہ جید وممتاز علما کرام کی تسلسل کے ساتھ قتل عام ملکی استحکام و سالمیت کو خراب کرنے کی ناپاک سازش ہے علما کرام کے قتل عام خداوند کریم کی عذاب کو دعوت دینے کی مترادف ہے انہوں نے کہا کہ خیبر پختون خواہ میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت علما کرام کا قتل عام کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ ملکی سالمیت اور استحکام کیلئے جمعیت علمائے اسلام اور علما کرام کا کلیدی کردار رہا ہے انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختون خواہ کے صوبائی حکومت علما کرام کی قاتلوں کو گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچائیں عدم گرفتاری کے صورت میں تبدیلی کے سرکار کو مستعفی ہو نے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے انہوں کہا کہ جمعیت علما اسلام علما کرام کی گرفتاریوں اور شہادتوں پر خاموش نہیں رہ سکتی ہے انہوں نے کہا کہ وفاقی و صوبائی حکمران علما کرام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں افسوس ناک واقعہ جس معاشرے میں علما کرام جیسے ہستیاں محفوظ نہ ہو وہاں اللہ تعالی کے عذاب کا خوف تو ہو گا انھوں نے کہا کہ رحمان ملک کا مزید کہنا تھا کہ وطن عزیز میں علمائے کرام کی شہادت سے دہشت گردی کو مزید پھیلانے کی گھنانی سازش کی جارہی ہے۔


