ماہرین کی ریکوڈک میں پروسسیسنگ پلانٹ لگانے کی تجویز
اسلام آباد (انتخاب نیوز) تانبے کے ذخائر سے مالا مال پاکستان کان کنی میں ویلیو ایڈیشن سے قیمتی زرمبادلہ حاصل کرسکتا ہے، ریکوڈک دنیا کا چوتھا بڑا سونے اور تانبے کا ذخیرہ، چاغی میں 100 مربع کلومیٹر کے رقبے میں 22 ذخائر، ماہرین کی پروسسیسنگ پلانٹ لگانے کی تجویز۔ ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان تانبے کے وسیع ذخائر سے شاندار آمدنی حاصل کرسکتا ہے۔ جیو لوجیکل سروے آف پاکستان کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر یاسر شاہین نے ویلتھ پاک کے ساتھ گفتگو کے دوران کہا کہ تانبے اور سونے کے سب سے بڑے ذخائر ریکوڈک، سیندک، کوہ سلیمان، دشت کائین، بانچہ، کوہِ سلطان میں پائے جاتے ہیں۔ ریکوڈک دنیا کا چوتھا بڑا سونا اور تانبا ہے۔ چاغی میں پائے جانے والے ذخائر منفرد نوعیت کے ہیں کیونکہ یہ ٹھوس پہاڑی ذخائر ہیں۔ اگرچہ یہاں پائے جانے والے تانبے کا درجہ تقریباً 0.38 ہے لیکن یہ مقدار میںاچھا ہے۔ چاغی میں صرف 25 فیصدلاگت آتی ہے جبکہ منافع کا تناسب 75 فیصد ہے۔ چاغی میں 100 مربع کلومیٹر کے رقبے میں 22 ذخائر ہیں جن میں سے صرف چار فعال ہیں جبکہ 50 سے 55 جگہیں نشان زد ہ ہیں جن کا سرکاری طور پر اعلان نہیں کیا گیا ہے۔یاسر شاہین نے کہا اگر چار سب سے بڑی کانوں میں سے ایک کو فروغ دیںتو پاکستان کو باقی سب سے کتنا معاشی فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ریاستی ملکیت کے طور پر اپنے زیر کنٹرول معدنیات کی پروسیسنگ پر توجہ دینی چاہیے جس سے بڑے پیمانے پر بے روزگاری کی سطح کو کم کرنے میں مدد ملے گی اور کان کنی کے شعبے سے وابستہ لوگوں کو ایک پائیدار ذریعہ معاش فراہم کرے گی۔ یہ کوئی مہنگا کام نہیں ہے جسے سرکاری سطح پر سنبھالا نہیں جا سکتا، صرف توجہ اور مناسب اسٹریٹجک پائیدار پالیسی کی ضرورت ہے۔تانبے کا استعمال الیکٹرانکس، بجلی پیدا کرنے والے آلات، ہیٹرز، انٹرنیٹ لائنوں، قابل تجدید توانائی کے یونٹس اور کوٹنگ مواد کے طور پر کیا جاتا ہے۔ توانائی سے متعلق بہت سے منصوبوں میں دیگر دھاتوں سے زیادہ اس کی مانگ ہے۔صنعتی مشینری اور آلات کی تیاری میں تانبے کا حصہ 7فیصد، عام مصنوعات کی تیاری میں 10فیصد، نقل و حمل کے آلات میں 16فیصد، اور الیکٹرک اور الیکٹرانک مصنوعات کی پیداوار میں 21 فیصدہے۔ یہ فن پارے اور گھریلو استعمال کی دیگر اشیا کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان تانبے کے ذخائر سے مالا مال ہے اس لیے ضروری ہے کہ اسے پروسیسنگ کے بعد مارکیٹ کیا جائے۔ کان کنی کی جدیدپالیسی پاکستان کی معیشت کوبحران سے نکالنے میں مدد دے سکتی ہے جو کاروبار اورروزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بھی مدد کرے گی۔اس کے علاوہ، پاکستان بھاری زرمبادلہ کما سکتا ہے اور خام تانبے کی کان کنی میں ویلیو ایڈیشن کے ذریعے زیادہ آمدنی پیدا کر سکتا ہے۔


