سی پیک سمیت گوادر کے ترقیاتی منصوبوں کو مزید ترقی دینگے، چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) گوادر کی ترقی کیلئے چینی کمپنیوں کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات قابل ستائش ہیں، پینے کے صاف پانی اور بجلی کی فراہمی اولین ترجیحات میں شامل ہے چینی حکام نے گوادر کے غریب افراد کو بجلی کی فراہمی کیلئے 3ہزار سولر پینل فراہم کئے ہیں،گوادر میں ابتک 315ملین ڈالرز سے گوادر اسمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان، گوادر پورٹ اور فری زون فیز I کا فزیکل انفرا سٹرکچر اور پاک چائنا ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹیٹیوٹ کے منصوبے مکمل کئے جاچکے ہیں جبکہ 1.44 ارب ڈالرز مالیت کے 7دیگر منصوبوں پر کام جاری ہے۔یہ بات گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین نصیر خان کاشانی،COPHCکے چیئرمین ژانگ باوژانگ،COPHC کے مارکیٹنگ کنٹری ہیڈ شہزاد سلطان،آئی پی ایس کے خالد رحمان،یونیورسٹی آف گوادر کے وائس چانسلر پروفیسر عبدالرزاق،رفاہ یونیورسٹی کے ڈاکٹر راشد آفتاب،وزارت پلاننگ ڈویلپمنٹ اینڈ اسپیشل اننیشیٹوز کے مشیربرائے میری ٹائم افیئرز جواد اختر کھوکھر، یونیورسٹی آف گوادر کے رجسٹرار دولت خان،گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے انویسٹمنٹ کے سربراہ ارسلان علی نے انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز(آئی پی ایس)اسلام آباد اور یونیورسٹی آف گوادر کی جانب سے ”گوادر میں CSRکے اقدامات (دی گیٹ وے ٹو سی پیک)“کے عنوان سے منعقدہ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ورکشاپ کا انعقاد COPHC،گوادر پورٹ اتھارٹی اور گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تعاون سے کیا گیا تھا۔ چیئرمین گودار پورٹ اتھارٹی (GPA) نصیر خان کاشانی نے سی ایس آرکے ذریعے مقامی باشندوں کو متحد کرنے کی اہمیت پر زور دیا ان کا کہنا تھا کہ ”ہمیں انفراسٹرکچر کی تعمیرمیں مقامی باشندوں کو ترجیح دینی چاہیے پینے کا پانی اور بجلی گوادر میں حکام کی پہلی ترجیح ہے“۔ ان کا کہنا تھا کہ12 لاکھ گیلن کا ڈی سیلینیشن پلانٹ 6 سے8 ماہ میں فعال ہو جائے گا اور اس سے مقامی باشندوں کو پینے کا پانی ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاک چائنا ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ، جس کا حال ہی میں افتتاح کیا گیا ہے، مقامی نوجوانوں کو تین سال کی ٹریننگ دے گا جو چینی دوستوں کی جانب سے ایک بڑا سماجی تعاون ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی حکام نے گوادر کے غریب ترین افراد کو بجلی کی فراہمی کے لئے تین ہزار سولر پینل بھی فراہم کئے گئے ہیں۔ COPHCکے چیئرمین ژانگ باؤژانگ نے گوادر میں اپنے7 سالہ قیام کے دوران پیش آنے والے تجربات کے بارے میں بتایا۔ اْن کا کہنا تھا کہ ”ہم اس بات سے آگاہ ہیں کہ مقامی باشندوں کی توقعات کو پورا کرنے کے لئے گوادر مزید تیزی سے ترقی کرنے کا مستحق ہے اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ گزشتہ 7 برس کے دوران اس نے بہت ترقی کی۔“ انہوں نے گوادر کے حوصلہ افزاء امکانات کی3 وجوہات بتائیں، گوادر کے لوگوں کا تعاون، اس کے وسیع وسائل اور اس کا تزویراتی مقام۔ژانگ باؤ ژانگ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ گوادر کے مقامی باشندے اپنے جائز مطالبات کے تحت عزت اور ترقی چاہتے ہیں۔ اس موقع پر COPHC کے مارکیٹنگ کنٹری ہیڈ شہزاد سلطان نے سی ایس آراقدامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ”ہم ہر سال 20طلبہ کو اسکالر شپس پر چین بھیج رہے ہیں ہم یہاں گزشتہ پانچ برسوں سے ایک پرائمری اسکول چلارہے ہیں اور جلد ہی ایک سیکنڈری اسکول بھی تعمیر کریں گے اب تک چھ ہزار سے زائد سولر پینلز گوادر کے لوگوں میں تقسیم کیے جاچکے ہیں اور پانچ لاکھ پودے لگائے جاچکے ہیں۔ اس موقع پر چیئر مین IPSخالد رحمان نے CSRکے تصور اور مقامی افراد کی زندگی بہتر بنانے والے عوامل کو اْجا گر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسی تجاویز دینی چاہئیں کہ جن میں مسائل کا حل پیش کیا گیا ہو ان کا کہنا تھا کہ مثبت تبدیلی اور گورننس میں بہتری سے گوادر کے لوگوں کی زندگی میں تبدیلی آئے گی CSR سرگرمیوں کا مقصد منافع کا حصہ خرچ کرنا نہیں بلکہ اس کا تعلق ایک ایسا ماحول تخلیق کرنے سے ہے جو کسی بھی اعتبار سے معاشرے کے لئے نقصان دہ نہ ہو۔یونیورسٹی آف گوادر کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرعبد الرزاق صابر نے اپنے استقبالیہ خطاب میں علاقے میں چیلنجز کی شناخت کے لئے IPSکے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کو واپس دینا کارپوریٹ سیکٹر کی ایک بڑی ذمہ داری ہے انسانی وسائل کی ترقی حکومت اور نجی شعبے کی سب سے بڑی ترجیح ہونی چاہیے چونکہ اس بندرگاہ کی تعمیر و ترقی کے بعد گوادر پھیل رہا ہے لہذا طلبہ کے تبادلے کے پروگرام کے ذریعے چین کے تجربے اور مہارت سے سیکھنا اہم ہے ہمیں اپنے نوجوانوں کی تربیت کرنی چاہیے تاکہ وہ گوادر کا ایک مفید عنصر بن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ CSRکی مقامی تناظر میں توسیع کرنی چاہیے اور CSRاقدامات کے ذریعے لوگوں کے اصل اور بنیادی مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی کمیونٹی اور سول سوسائٹی کو شامل کرنے سے مقامی دانش اور شرکت کے نتیجے میں بہتر منصوبہ بندی، موزوں حل اور بہتر عمل درآمد سامنے آسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں