لاڑکانہ سینٹرل جیل کے قیدیوں کو سخت مظالم کا سامنا، سول سوسائٹی کا احتجاج
کوئٹہ (انتخاب نیوز) سندھ کے ضلع لاڑکانہ سینٹرل جیل میں قیدی بنیادی ضروریات سے محروم ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق لاڑکانہ سینٹرل جیل میں اس وقت 900 کے قریب قیدی موجود ہیں جہاں نہ تو قیدیوں کو کھانا مہیا کیا جا رہا ہے اور نہ ہی پینے کا صاف پانی اور بجلی میسر ہیں ایک ہفتے سے قیدی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں جبکہ کوئی سننے والا نہیں ہے جیل آفیسر کی جانب سے رقم نہ ملے تو قیدیوں کو سخت مظالم کا سامنا کرنا پڑتا ہے سینٹرل جیل لاڑکانہ میں اس وقت سندھ کے علاوہ بلوچستان و دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد قید ہیں ذرائع کے مطابق جیل میں قید قیدی سوکھی روٹی پر گزارہ کررہے ہیں جبکہ ملاقات کیلئے آنے والے رشتہ داروں کو بھی ملنے نہیں دیا جا رہا مختلف بہانوں سے انہیں واپس کیا جاتا ہے۔ قیدیوں اور ان کے رشتہ داروں نے وزیر اعظم، وزیر اعلی سندھ اور وزیر اعلی بلوچستان، انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت دیگر اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ قیدیوں کے حال پر رحم کیا جائے تاکہ انہیں ان مظالم سے نجات مل سکیں۔ علاوہ ازیں کوئٹہ کے رہائشی محبوب کرد کی قیادت میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھارکھے تھے جس پر لاڑکھانہ سینٹرل جیل میں قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلو ک کی مذمت کی گئی۔ مقررین نے کہا کہ پچھلے ایک ہفتے سے لاڑکھانہ سینٹرل جیل میں قیدیوں کو نہ کھانا مہیا کیا جارہاہے اور نہ ہی پینے کا صاف پانی، ایک ہفتے سے متعلقہ افسران نے جیل کی بجلی بھی بند کی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیل عملہ ہر قیدی سے 9سو روپے مانگ رہا ہے، قیدی انتہائی کسمپرسی کا شکار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاڑکھانہ سینٹرل جیل میں قیدیوں کی ملاقات بھی بند کی ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان، آئی جی جیل خانہ جات سے درخواست کی کہ سینٹرل جیل لاڑکھانہ میں قیدیوں کی حالت پر رحیم کیا جائے۔


