گریشہ گمبد جاورجی کے پرائمری اسکول کو مڈل کا درجہ اور گرلز اسکول تعمیر کیا جائے، بی ایس ایف
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بی ایس ایف کے سی سی ممبر وسیم ثابت بلوچ نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ گمبد جاورجی کا موجودہ پرائمری اسکول محض دو کمروں پر مشتمل ہے، جبکہ ان میں تقریباََ 150 سے زائد طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ طلبہ کی کثیر تعداد کے باوجود پورے پرائمری اسکول میں ایک ٹیچر تعینات ہے، کلاس روم کی کمی، کرسی، ٹیبل اور کتابوں سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے طلباء و طالبات کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اکیسویں صدی میں طلباء کو بنیادی تعلیمی سہولیات سے محروم کیا گیا ہے۔ کلاس روم کے اندر طلبہ چٹائیوں اور فرش پر بیٹھ کر کلاسز لے رہے ہیں جو کہ طلبہ کے تعلیمی حقوق کو سلب کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کے جدید سائنسی دور میں دیگر صوبوں کے تعلیمی اداروں کو تمام بنیادی سہولیات فراہم کرچکے ہیں، وہاں کہ طلبہ کو نہ ٹرانسپورٹیشن کا مسئلہ درپیش ہے اور نہ کوئی دشواریوں کا سامنا ہے، لیکن ہمیں بنیادی تعلیمی حقوق سے محروم کیا گیا ہے۔ گریشہ کے دور دراز کے گاؤں میں مقیم بچے ٹرانسپورٹ کی سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں۔ بی ایس ایف کے مرکزی کمیٹی کے ممبر وسیم ثابت نے اپنے بیان کے آخر میں حکام بالا سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال کے بجٹ میں گریشہ گمبد جاورجی میں لڑکیوں کیلئے گرلز اسکول تعمیر کیا جائے جبکہ گمبد جاورجی کے موجودہ پرائمری اسکول کو پرائمری سے مڈل کا درجہ دے کر ان میں تمام بنیادی سہولیات مہیا کی جائیں تاکہ طلبہ اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھ سکیں۔


