الیکشن کمیشن کی جانب سے کی گئی حلقہ بندیاں لوگوں کو لڑانے کی کوشش ہے، اراکین بلوچستان اسمبلی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان اسمبلی کا اجلاس سوا دو گھنٹے کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر سردار بابرخان موسی خیل کی زیر صدارت شروع ہوا۔اجلاس میں تحریک انصاف کے رکن مبین خلجی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے کی گئی حلقہ بندیوں کی جانب نکتہ اعتراض پر ایوان کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقے میرٹ کی بنیاد پر بننے چاہئے تھے کسی کی ذاتی خواہش پر نہیں۔ حالیہ حلقہ بندیوں میں کوئٹہ کے تمام حلقے متاثر ہوئے ہیں الیکشن کمیشن کی جانب سے اعتراضات کے لئے ایک مہینے کا وقت دیا گیا ہے ہماری بات سنی جائے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے ملک نعیم خان بازئی نے کہا کہ ان کے حلقے سے نوحصار اور پنجپائی کو نکال کر دوسرے حلقے میں شامل کیاگیا ہے مگر انہیں ا س سے کوئی فرق نہیں پڑتا انہوں نے عوام کی خدمت کی ہے جو دوسرے حلقے میرے حلقے میں شامل کئے گئے ہیں وہ بھی میرے لوگ ہیں انہوں نے کہا کہ آنے والے انتخابات میں جے یوآئی او رپشتونخوا میپ اگر مل کر بھی میرا مقابلہ کریں گے تو بھی ان کا مقابلہ کروں گا جس پرقائد حزب اختلاف ملک سکندر خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ ابھی انتخابات میں کافی وقت ہے انتخابات ہوں گے تو پتہ چل جائے گا۔ صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے حالیہ حلقہ بندیوں میں بارکھان اور موسی خیل کے حلقے بھی متاثر ہوئے ہیں حلقہ بندیاں لوگوں کو آپس میں لڑانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں آ باد قوموں کی زبان، ثقافت،رسم و رواج ایک دوسرے سے مختلف ہیں حلقہ بندیوں میں آبادی کے تناسب کو بھی درست نہیں رکھا گیا ہے انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں ماضی کی حلقہ بندیاں درست کی گئی تھیں لیکن اب یہاں پر بھی تمام حلقے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ایوان میں ایک مشترکہ قرار داد لا کر منظور کی جائے۔ ڈپٹی سپیکر سردار بابرخان موسیٰ خیل نے کہا کہ آئین کے تناظر میں الیکشن کمیشن ایک خود مختار ادارہ ہے اسمبلی کے فلور سے ہم نہ تو الیکشن کمیشن کے ذمہ داروں کو بلا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی رولنگ دی جاسکتی ہے جنہیں اعتراض ہے وہ الیکشن کمیشن سے رجوع کریں انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی جن اراکین کے حلقے متاثرہوئے ہیں وہ اس ضمن میں ان کی الیکشن کمیشن کے حکام سے ملاقات کرائے گی اس سلسلے میں سیکرٹری الیکشن کمیشن کو مراسلہ بھی لکھا جائے گا۔اجلاس میں قائد حزب اختلاف ملک سکندرایڈووکیٹ نے بلوچستان اسمبلی کے سامنے حاجی اختر نورزئی کے اغواکے خلاف جاری مظاہرے کی جانب ایوان کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رو ز اغواہونے والے حاجی اختر نورزئی کی عدم بازیابی کے خلاف ان کے اہلخانہ اسمبلی کے باہر احتجاج کررہے ہیں مظاہرین میں سے کچھ لوگوں نے میرے چیمبر میں آکر مجھ سے ملاقات کی ہے انہوں نے ڈپٹی سپیکر سے استدعا کی کہ وہ مظاہرین سے مذاکرات کے لئے حکومت او راپوزیشن اراکین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے کر مظاہرین کے پاس بھیجے۔ صوبائی وزیر مواصلات وتعمیرا ت سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ وہ اس ضمن میں آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کریں گے کسی کو اختیار نہیں کہ وہ ریاست کے اندر ریاست بنائے۔بلوچستان عوامی پارٹی کے رکن و سابق صوبائی وزیر میر سلیم کھوسہ نے نصیر آباد ڈویژن میں پانی کی قلت کا مسئلہ پوائنٹ آف آرڈر پر اٹھاتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت بلوچستان کو اس کے حصے کا پورا پانی نہیں دے رہی پانی کو کنٹرول کرنے کا اختیار سندھ کے پاس ہے انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود کہ نصیرآباد میں پیپلزپارٹی کے نظریاتی ووٹرز موجود ہیں سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے اور وہ اپنے جیالوں کے ساتھ بھی زیادتی کررہی ہے انہوں نے کہا کہ میرے حلقہ انتخاب صحبت پور سے پانچ کے قریب کینال گزرتے ہیں جن میں وہاں کے زمینداروں کو صفر فیصدپانی بھی نہیں مل رہا انہوں نے کہا کہ ہم زمینداری کے لئے نہیں بلکہ پینے کے لئے پانی مانگ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر ایری گیشن نے محکمے کے افسران کو ہدایت کی ہے کہ سلیم کھوسہ کو پانی نہ دیا جائے میری ذات سے اگر کسی کو اختلاف ہے تو ٹھیک ہے لیکن اس کی وجہ سے وہاں کی دو لاکھ آبادی کو پانی فراہم نہ کرنا زیادتی ہے انہوں نے کہا کہ وزیراعلی بلوچستان وزراکی لوگوں کو آپس میں دست وگریبان کرنے کے معاملا ت کو دیکھیں۔اگرلوگ آپس میں دست و گریبان ہوتے ہیں تو اس کا ذمہ دار صوبائی وزیر ایری گیشن ہوں گے انہوں نے کہا کہ حب ڈیم سے کراچی کو پانی فراہم کیا جارہا ہے ہم نے کبھی کراچی کا پانی بند نہیں کیا لیکن سندھ حکومت صوبے کے گرین بیلٹ کو پانی فراہم نہیں کررہی انہوں نے ڈپٹی سپیکر سے استدعا کی کہ وہ اس ضمن میں رولنگ دیں۔ میر ظہور بلیدی نے کہا کہ 1997انڈس ریور اتھارٹی کا قیام عمل میں آیا جس میں صوبوں کے مابین پانی کی تقسیم کا طریقہ کار وضع ہوا لیکن بلوچستان کو اس کے حصے کا پانی اب تک نہیں مل رہا جو صوبے کی حق تلفی ہے انہوں نے کہا کہ نصیرآباد ڈویژن میں لوگوں کا گزر بسر زراعت سے وابستہ ہے مگر اب وہاں کے لوگوں کو قحط سالی کا سامنا ہے اور لوگ بدحال ہوچکے ہیں انہوں نے استدعا کی کہ اس مسئلے کے حل کے لئے ایک مشترکہ قرار داد ایوان سے منظور کی جائے۔ صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ بلوچستان ایک پسماندہ صوبہ ہے پانی کی کمی کا مسئلہ صرف سلیم کھوسہ کا نہیں بلکہ یہ نصیرآباد ڈویژن کا دیرینہ مسئلہ رہا ہے نصیرآباد ڈویژن زراعت کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے انہوں نے اراکین اسمبلی کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لئے ایوان سے ایک مشترکہ قرار داد پاس کی جائے انہوں نے میر سلیم کھوسہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت صوبے میں بھائی چارہ قائم کرنے آئی ہے قبائل کو آپس میں لڑانے کا کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ پانی کے مسئلے کے معاملہ صوبائی کابینہ میں لا کر سندھ کابینہ کے ساتھ اٹھایا جائے تاکہ اس مسئلے کا حل نکالا جائے انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی میر جان محمد جمالی کی جانب سے ایک قرار داد ایوان سے منظور کی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں