جبری گمشدگیاں بلوچوں کی جمہور ی آواز کو دبانا ہے، ہدایت الرحمن اپنے بیان پر معافی مانگیں، بی ایس او
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بی ایس او اور بی ایس او نے رہنماؤں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ طالبعلموں کیخلاف حالیہ کریک ڈاؤن انتہائی تشویشناک ہے۔ آئے روز ملک کے مختلف تعلیمی اداروں سے بلوچ طلباء کی جبری گمشدگی میں تشویشناک حد تک اضافہ ہورہا ہے، جس سے طالبعلم ذہنی کوفت و خوف میں مبتلاء ہیں۔ اس ذہنی کوفت اور خوف سے نہ صرف انکے تعلیمی کیریئر پر اثرات مرتب ہورہے ہیں بلکہ طلباء کے اندر بے یقینی کی صورتحال ہے۔ ہم بلوچ طلبا کی جبری گمشدگی کی بھرپور مذمت اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر کسی پر بھی کوئی الزام ہے تو انہیں آئینی اداروں کے سامنے پیش کرکے فری اینڈ فیئر ٹرائل کا حق دیا جائے۔ گزشتہ روز سندھ پولیس کی بلوچ خواتین اور طلباء پر وحشیانہ تشدد اور بدسلوکی کی بھی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ جس طرح سے پرامن مظاہرین پر اندھی طاقت کا استعمال کرکے ظلم و جبر کی داستان رقم کی گئی وہ انتہائی جابرانہ اقدام تھا۔ اس ملک کے آئین میں پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی و انسانی حق ہے، لیکن بدقسمتی حکمران بلوچ قوم کی جمہوری آواز کو بھی پس دیوار رکھنا چاہتے ہیں، جس سے مزید محرمیاں اور نفرتیں جنم لینگے۔ اس سرزمین میں جب بھی مظلوم قوم نے سیاسی طاقت کے تحت اپنے حقوق کی بات کی ہے تو انہیں خاموش کرانے کیلئے کہیں طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے تو کہیں ایسے لوگوں کو گملے کی صورت میں پیدا کیا جاتا ہے جو قومی جدوجہد کے سامنے رکاوٹی دیوار کا کام کرتے ہیں۔ ایسے لوگ بلوچ عوام کے اندر اپنی جڑیں مضبوط کرکے سازشی عناصر کے ایجنڈوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے سہولتی مشینری کا کام کرتے ہیں۔ پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی کے رہنماء مولانا ہدایت الرحمن کے بلوچ طلباء اور تعلیمی اداروں سے متعلق نازیبا بیان پر اپناموقف دیتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ مولانا ہدایت الرحمان نے ایک صحافی کو دیے گئے انٹریو میں بلوچ طلباء پر جو بے جا الزامات لگائے ہیں وہ انتہائی مضحکہ خیز ہیں۔ مولانا نے اپنے بیان میں جامعہ پنجاب میں اسلامی جمعیت طلبا کی بلوچ پشتونوں پر حملے اور تشدد کو جائز قرار دینے کیلئے جو بیان دیا وہ اس بات کی عکاسی ہے کہ موصوف اپنے غنڈہ ونگ کی انتہاء پسندانہ رویوں کی مذمت کے بجائے اسے جائز اور حلال قرار دے رہے ہیں۔ جامعہ پنجاب میں ایک غنڈہ تنظیم کی جانب سے ہر وقت وہاں پڑھنے والے بلوچ طلباء پر حملہ کیا جاتا ہے اور یہ رویہ کراچی سمیت ملک کے دیگر تعلیمی اداروں میں بھی بلوچ طلباء کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنماء نے بلوچستان یونیورسٹی سے متعلق انتہائی گمراہ کن اور غیرشائستہ زبان کا استعمال کیا ہے جو کسی بھی عزت مند بلوچ کیلئے قابل قبول نہیں۔ جامعہ بلوچستان ایک مادر علمی ہے، جس کو ہم اپنا گھر مانتے ہیں۔ ہم مولانا کو تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے بیان پر بلوچ قوم اور طالبعلموں سے معافی مانگیں اور اس طرح کی ہرزہ سرائی سے باز رہیں۔


