لاپتہ بلوچ نوجوانوں کو فوری بازیاب کرایا جائے، بلوچ یکجہتی کمیٹی
کراچی (انتخاب نیوز) کراچی پریس کلب کے باہر بلوچ نوجوانوں کو لاپتہ کرنے کیخلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کے تحت ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے بینر اور پوسٹر اٹھا رکھے تھے جن پر مطالبات کے حق میں نعرے اور دیگر الفاظ درج تھے۔ اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ریاستی اداروں کی جانب سے بے گناہ بلوچ نوجوانوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ کراچی کے علاقے سنگھور پاڑہ ماری پور سے تین نوجوانوں کو سادہ وردی میں ملبوس اہلکاروں نے کچھ دن قبل حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ہے، جن میں علی ولد بخشی، اصرار ولد انور عمر اور نواز علی ولد ناصر شامل ہیں۔ اسی طرح ماڑی پور کے علاقے دلپھل آباد کے علاقے سے محمد عمران ولد محمد حنیف کو لاپتہ کردیا گیا۔ اسی طرح کراچی کے علاقے ملیر سے سعید احمد ولد محمد عمر کو سی ٹی ڈی اور سیکورٹی فورسز نے گھر سے اٹھالیا جو کچھ دن قبل روس سے اپنی تعلیم مکمل کرکے لوٹا تھا۔ سعید احمد کا تعلق ضلع کیچ کے دشت کڈان سے ہے۔ نوربخش ولد حبیب کو کراچی کے علاقے رئیس گوٹھ سے اٹھالیا گیا۔ نور بخش کا تعلق مکران ڈویژن سے ہے اور وہ دبئی میں مزدوری کرتے ہیں چھٹیوں پر کراچی آئے تھے۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے مطالبہ کیا کہ لاپتہ بلوچ نوجوانوں کو فوری طور پر بازیاب کرتے ہوئے انہیں ان کے لواحقین کے حوالے کیا جائے۔


