فادرز ڈے پر لاپتہ بلوچ افراد کے بچے اپنے پیاروں کے انتظار میں

کوئٹہ (انتخاب نیوز) دنیا بھر میں آج فادرز ڈے منایا جارہا ہے۔ پاکستان میں بھی اس حوالے سے سرکاری سطح پر مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ تعلیمی اداروں میں خصوصی طور پر فادرز ڈے کے موقع پر تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔ بلوچستان میں فادرز ڈے کے موقع پر مختلف لاپتہ بلوچ افراد کے اہلخانہ کی جانب سے اس موقع پر احتجاج کیا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں فادرز ڈے منایا جارہا ہے جبکہ ہم کئی برسوں سے اپنے پیاروں کا انتظار کررہے ہیں۔ پاکستان میں بہت سی ایسی بیٹیاں ہیں جو فادرز ڈے کی خواہش نہیں کر سکتیں کیونکہ ان کے والد لاپتہ ہیں۔ ڈاکٹر دین محمد بلوچ ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھے جو ایک سرکاری ہسپتال میں کام کرتے تھے۔ ان کی بیٹیاں 13 سال سے اس کے لیے رو رہی ہیں۔ اس حوالے سے جبری گمشدگی کا شکار عبدالحمید زہری کی بیٹی سعیدہ عبدالحمید زہری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ عالمی یوم پدر پر ان بلوچ بچوں کو ہرگز مت بھولئے گا جو اپنے باپ کے سائے سے محروم ہیں، جنکے پدر بزرگواروں کو عقوبت خانوں میں بند رکھا گیا ہے، جو لاپتہ کردیے گئے ہیں اور جن کے تلاش میں انکے بچے سڑکوں پر خوار ہورہے ہیں۔ میرے بابا کو اٹھانے والے آج اپنے بچوں سے فادرز ڈے کے پھول اور کارڈ لے رہے ہوں گے اور ہم اپنے بابا کی ایک جھلک کو ترس رہے ہیں۔ سعیدہ عبدالحمید زہری نے مزید کہا کہ رانا ثناء اللہ انکل آپ کے حالیہ بیان پر آپ کو بس اتنا کہنا چاہتی ہوں ہم ثبوت دینے کے لیے تیار ہیں بس آپکے پاس ہمارے پیاروں کو بازیاب کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔ راولپنڈی ایرڈ یونیورسٹی کے باہر ایک بلوچ باپ اپنے بیٹے کی بازیابی کیلئے بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے بیٹھا ہے۔ اسی طرح ملک بھر میں لاپتہ بلوچ افراد کے اہلخانہ اپنے پیاروں کی بازیابی اور رہائی کیلئے سراپا احتجاج ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں