حکومت لاپتہ افراد کے کے مسئلے کو ملکی قوانین کے تحت حل کرائے، نصر اللہ بلوچ
کوئٹہ (انتخاب نیوز) وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام راشد حسین کی جبری گمشدگی کیخلاف نصراللہ بلوچ اور ماما قدیر کی قیادت میں کوئٹہ پریس کلب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی کے شرکاء مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا۔ مظاہرے میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ اور طلباء سیاسی تنظیموں کے رہنماؤں اور کارکنوں سمیت خواتین نے کثیر تعداد می شرکت کی۔ مظاہرین لاپتہ افراد کی تصاویر اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے، جن پر لاپتہ افراد کی بازیابی اور جبری گمشدگیوں کی روک تھام کے مطالبات درج تھے۔ مظاہرے کے شرکاء سے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ، راشد حسین کی والدہ، سیعد احمد، معاذاللہ، راشد، آصف بلوچ سمیت بی ایس او کے کامریڈ اسرار بلوچ اور بی ایس او پجار کے بوہر بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے لاپتہ افراد کی بازیابی اور جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو ملکی قوانین کے تحت حل کرانے کا مطالبہ کیا اور حکومت کو تنبیہ کی کہ بلوچستان میں طاقت کے استعمال سے حالات بہتری کے بجائے مزید خراب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے، اسے سیاسی طریقے سے حل کیا جائے۔ مقریرین کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے اپنے حالیہ ایک انٹرویو میں کہا کہ لاپتہ افراد کے اہلخانہ ثبوت فراہم کریں تو وہ کارروائی کریں گے۔ مقریرین نے کہا کہ اگر وزیر وفاقی وزیر داخلہ اور ان کی حکومت لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہے تو وہ لاپتہ کمیشن کی 2014ء کی رپورٹ اور کمیشن نے لاپتہ افراد کے حوالے سے جو پروڈکشن آرڈز جاری کیے ہیں ان پر عملدرآمد کرائے اور اسکے علاوہ سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کے حوالے سے جو کیسز چلے ہیں ان میں اعلیٰ عدلیہ نے جوڈیشل انکوائریز کروائی ہے، جن جج صحبان نے واضح طور پر لکھا کہ جوڈیشل انکوائریز سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ لاپتہ افراد کو ملکی اداروں نے جبری طور پر لاپتہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ ان احکامات پر رانا ثناء اللہ اور ان کی حکومت عملدرآمد کرائے۔


