مسلم لیگ قاف کی ناراضگی

مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے چیئر مین نیب کے خلاف ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ چیئرمین نیب کو ایسی انکوائری کھولنے کا اختیار نہیں جو19سال پرانی ہو اور بند کی جا چکی ہو۔انہوں اپنی درخواست میں یہ بھی کہا ہے کہ ان کا خاندان سیاسی ہے اس لئے یہ مقدمہ سیاسی اغراض و مقاصد کے تحت قائم کیا گیا ہے انجنیئرڈ ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ قاف لیگ کے رہنما اوروفاقی وزیرطارق بشیر چیمہ نے اس حوالے سے کہا کہ ایسے وقت جب حکومت کورونا کے بحران سے نمٹنے میں مصروف ہے نیب نے پرانی انکوائری کھول کر ہماری قیادت کی عزت اچھالنے کی کوشش کی ہے۔ نیب کو نیشنل بینک کی جانب سے بھی جواب مل چکا ہے کہ چوہدری برادران نے کنسورشیم سے کوئی قرضہ نہیں لیا۔جب قرض نہیں لیا تو معاف کرانے کا کلیم جمع کرانا کیسے درست ہو سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے وہ دیکھیں اس وقت مقدمات کیوں کھل رہے ہیں؟ہم ان کے اتحادی ہیں، اگر سیاسی انجنیئرنگ ہو رہی ہے تو کون کر رہا ہے؟جن لوگوں نے پیسے اور جائیدایں بنائی ہیں انہیں فکر ہوگی مگر ہمیں کوئی فکر نہیں۔وزیر اعظم صاحب کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ کیا ہم ان کے لئے اہمیت رکھتے ہیں یا نہیں؟ہم اس چیز کی اجازت نہیں دیں گے کہ (نیب)ان مقدمات کے ذریعے بیلنسنگ فیکٹر (توازن)لانے کے لئے شرفاء کی پگڑیاں اچھالے۔ چوہدری برادران کی جانب سے غم و غصہ کا اظہار اپنی جگہ وزن رکھتا ہے اسی لئے انہوں نے ہائی کورٹ سے انصاف لینے کی درخواست کی ہے چنانچہ اس مقدمے پرقانونی تناظر میں کچھ کہنا مناسب نہیں۔ البتہ سیاسی پہلوؤں پر نظر ڈالی جا سکتی ہے۔آج کل حکومت 18ویں آئینی ترمیم اور نیب آرڈیننس میں ترامیم کے اشارے دے رہی ہے اور اس نے اپنے بعض وزراء کو اس ضمن میں مذاکراتی ذمہ داری بھی سونپ رکھی ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسدعمر سرگرم نظر آتے ہیں۔علاوہ ازیں وزیر قانون فروغ نسیم سے بھی کہا گیا کہ مقدمات کے تاخیر سے کئے جانے والے فیصلوں کی راہ میں حائل قانونی سقم دور کرنے لئے درکار قانونی اصلاحات کے عمل کو تیز کریں۔ یاد رہے کہ وزیر قانون نے مطلوبہ قانونی اصلاحاتی پیکج پی ٹی آئی کے اقتدار میں آتے ہی تیار کر لیا تھا مگر پارلیمنٹ میں پیدا شدہ رنجشوں اور تلخی کو دیکھتے ہوئے وہ یہ اہم کام آج تک نہیں کر سکے۔پارلیمنٹ میں ایسا ماحول ہے کہ کسی قانون سازی کی امید نہیں کی جا سکتی۔ حکومت کے پاس عددی کثرت اتنی پتلی ہے کہ ایک دو ارکان کی غیر حاضری صورت حال کو بگاڑنے کے لئے کافی ہے۔اور اگر اس معمولی سی برتری کے بل پر قانو ن منظور کرا لیا جائے تو اس کی ساکھ پر انگلیاں اٹھیں گی۔ لہٰذا حکومت آرڈیننس کے ذریعے کام چلاتی رہی۔عدالتی ہدایت پر آرمی ایکٹ میں کی جانے والی ترمیم منظور کرانے کی مثال بار بار دہرانا ممکن نہیں۔البتہ اگر وفاقی حکومت واقعتاً چاہتی ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم میں سے بعض شقوں کو بہتر بنایا جائے تو اسے دوتہائی ووٹ درکار ہوں گے۔یہ کام مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں۔اور ان دونوں پارٹیوں کی حمایت حاصل کرنا اپنی جگہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ دونوں کے پاس شکایات کا ایک بھاری پلندہ ہے۔اب مسلم لیگ قاف بھی اسی قطار میں کھڑی ہو گئی ہے۔اب دیکھنا ہوگا کہ حکومتی تھنک ٹینک نے اس حوالے سے کتنا ہوم ورک کرلیا ہے؟ادھر بجٹ سازی بھی سر پر ہے کورونا وائرس کی بناء پر وزیر اعظم اور مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کافی مطمئن دکھائی دیتے ہیں کہ بجٹ ملک میں کاروباری، صنعتی اور زرعی شعبے کے لئے آسان اور مددگار بجٹ ہوگا بلکہ انہوں نے اسے ”کورونا بجٹ“ کا نام بھی دے دیا ہے۔مشیر خزانہ نے اعتراف کیا ہے کہ کورونا بحران کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے ملنے والی مراعات کے باعث آئندہ بجٹ میں بعض ایسی رعایتیں دی جائیں گی جو عام حالات میں دینا ممکن نہیں تھا۔اسی لئے بزرگوں نے کہا ہے کہ ہر مصیبت میں کوئی نہ کوئی رحمت بھی چھپی ہوتی ہے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کہتے ہیں کہ کورونا کی وجہ سے بعض پرانے کاروبار بند ہو جائیں گے لیکن اس کے ساتھ ہی نئے کاروباربھی سامنے آئیں گے جو ہماری معاشی صورت حال کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ظاہر ہے کورونا نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ہیلتھ کیئر سسٹم کا کھوکھلاپن بے نقاب ہونے کے علاوہ بھی بہت ساری انتظامی،سیاسی اور سماجی کمزوریاں بھی سامنے آئی ہیں۔پاکستان اسی دنیا کا حصہ ہے اسے بھی اچھے برے اثرات قبول کرنا ہوں گے۔ ہماری سیاسی پارٹیاں سرد و گرم چشیدہ ہیں۔تجربہ کار ہیں۔پاکستان کی تاریخ کاحصہ ہیں۔ چار دہائیوں میں انہی کا سکہ چلتا رہا ہے۔جن عسکری قوتوں کے خلاف وہ کبھی کبھار چھپے لفظوں میں اور بعض اوقات کھلے ڈھلے انداز میں اپنے غم و غصہ کا اظہار کرتی ہیں ان کی دست راست بن کر شب و روز وہ سب کچھ کرتی رہی ہیں جو آج ان کے گلے کا ہار بنا ہوا ہے۔مسلم لیگ قاف کا یہ کہنا کہ”اگر ان کی افادیت نہیں رہی تو انہیں بتا دیا جائے مگر ان کی عزت نہ اچھالی جائے“ان کے گہرے کرب کا مظہر ہے۔ مگر تاریخ شاہد ہے کہ اس کوچے سے جو بھی نکلازلف پریشاں ہی نکلا۔کسی نکلنے والے کے چہرے پر اطمینان نہیں دیکھا گیا۔
Load/Hide Comments


