سندھ میں بلدیاتی انتخابات، ووٹر فہرستوں اور حلقہ بندیوں پر اعتراض ہے، خالد مقبول صدیقی

اسلام آباد (انتخاب نیوز) چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سے سینئر رہنما خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں ایم کیو ایم کے تین رکنی وفدنے ملاقات کی،بلدیاتی انتخابات، ووٹر فہرستوں اور حلقہ بندیوں پر تحفظات سے آگاہ کیا، میڈیا سے گفتگو میں ایم کیو ایم رہنماوں کا کہنا تھا کہ سندھ میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن اصل میں انتخابات نہیں تھے،اپنے تحفظات سے وزیر اعظم کو بھی آگاہ کر دیا،آج(بدھ کو) ملاقات بھی شیڈول ہے،امید ہے الیکشن کمیشن صحیح فیصلہ کریگا،کراچی کو صحیح گنا نہیں جائیگا تو کیسے حلقہ بندیاں ہونگی۔منگل کے روز متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)پاکستان کے سینئر رہنما خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں ایم کیو ایم کے تین رکنی وفد نے الیکشن کمیشن اسلام آباد میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سے ملاقات کی، وفد میں وفاقی وزیر امین الحق اور سابق وزیر فروغ نسیم بھی شامل تھے، ایم کیو ایم کے وفد نے چیف الیکشن کمشنر کو بلدیاتی انتخابات، ووٹر فہرستوں اور حلقہ بندیوں پر تحفظات سے آگاہ کیا۔ الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو میں ایم کیو ایم کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن حکام کیساتھ ملاقات میں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، سندھ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات اصل میں انتخابات نہیں تھے، ہمیں پاکستان، آئین و قانون کا اتحادی ہونا چاہیے، اپنے تحفظات سے وزیر اعظم شہباز شریف کو آگاہ کردیا ہے، ایم کیو ایم کا راستہ گورنر سے نہیں ہماری سیاسی آزادیاں بھی رکی ہوئی ہیں خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم ملک میں تبدیلی کی سب سے بڑی علامت ہے، ایم کیو ایم نے مشکل وقت میں مڈل کلاس کو آگے بھیجا، بنیادی مسائل کے حل کیلئے متحدہ نے اپوزیشن کا ساتھ دیا، ہمارے درمیان نظریاتی گیپ کو زیادہ بڑا اختلاف نہیں کہا جاسکتا،وزیراعظم ہمارے تحفظات پر بدھ کو ملاقات کرینگے۔ اس موقع پر فروغ نسیم نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے سامنے تحفظات رکھے،سندھ میں من پسند حلقہ بندیاں کی گئی ہیں، الیکشن کمیشن نے ہمیں کہا ہے کہ پٹیشن کی صورت میں اپنا موقف دیں ہم نے گزارش کی ہے ہمیں جلدی سنیں،فری اینڈ فیئر الیکشن کیلئے شفاف ووٹر لسٹ ہونی چاہئے، فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے پٹیشن فائل کرنے کا کہا ہے، الیکشن کمیشن نے سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کو سننے کا وعدہ کیا ہے، امید ہے الیکشن کمیشن صحیح فیصلہ کریگا، مردم شماری پر سخت تحفظات ہیں، کابینہ میں بھی مخالفت کی جب تک کراچی کو صحیح گنا نہیں جائیگا تو کیسے حلقہ بندی ہوگی، اگر دسمبر تک مردم شماری نہیں ہوتی تو حکومت سے وجوہات مانگیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں