قیوم آباد پولیس چوکی یا قصاب خانہ، بیوی کے سامنے برہنہ شوہر پر7 گھنٹے تک وحشیانہ تشدد
کراچی (انتخاب نیوز) قیوم آباد پولیس چوکی میں میاں بیوی کو غیر قانونی حراست میں رکھ کر وحشیانہ تشدد کا واقعہ سامنے آگیا۔ مہران ٹائون کچی آبادی کے رہائشی نعمان محمود انصاری ولد کرامت علی نے پولیس کے اعلیٰ افسران کو سب انسپکٹر سرفراز ودیگر کےخلاف درخواست دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اسے اور اس کی بیوی کو پولیس نے غیرقانونی طور پر قیو م آباد پولیس چوکی میں بغیرایف آئی آر کے 7 گھنٹے تک حبس بے جا میں رکھ کر دونوں میاں بیوی کو تشدد کا نشانہ بنایا، نعمان محمود انصاری کے مطابق اسے اس کی بیوی کے سامنے چوکی میں برہنہ کرکے پولیس اہلکاروں اور شاہد نامی شخص نے اس کو پلاسٹک کے پائپوں سے جسم کے نازک حصے اور پیروں کے تلوئوں پر تشدد کا نشانہ بنایا۔متاثرہ شخص کے مطابق اس کی سالی سعدیہ نے شاہد نامی شخص کے خلاف عدالت میں خلع کا دعویٰ دائر کررکھا ہے ، پولیس اہلکار اور شاہد اس سے سعدیہ کے بارے میں معلومات کررہے تھے کہ وہ کہاں ہے، متاثرہ شخص کے مطابق اسے اپنی سالی کے بارے میں کوئی معلومات نہیں کہ وہ کہاں ہے۔اس کے باوجود اسے انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، متاثرہ شخص نے پولیس حکام سے درخواست کی ہے کہ مذکورہ افراد کے خلاف اسے اغواء کرکے حبس بے میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بنانے پر مقدمہ درج کرکے گرفتار کیا جائے۔متاثرہ شخص نے چیف جسٹس سپریم کورٹ ، وزیر اعلیٰ سندھ ، آئی جی سندھ اور کراچی پولیس چیف سے انصاف دلانے کی اپیل کی ہے۔


