افغان مہاجرین کیلئے میٹروپولیٹن اور مقامی آبادی کیلئے ڈسٹرکٹ کونسل کا نوٹیفکیشن قبول نہیں،بی این پی
کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان مہاجرین کیلئے میٹروپولیٹن اور مقامی آبادی کیلئے ڈسٹرکٹ کونسل کا نوٹیفکیشن قبول نہیں الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئٹہ کی قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقوں کی غیر فطری اور بلاجواز مردم شماری و خانہ شماری سے قبل کی گئی حلقہ بندیاں اور بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کوئٹہ کے دیہی علاقوں نواں کلی‘ خروٹ آباد‘ پشتون آباد‘ بلیلی اور دیگر دیہی علاقے جہاں اکثریت افغان مہاجرین کی ہے ان کو کوئٹہ میٹروپولیٹن میں شامل کرنے کا غیر قانونی اور بدیانتی پر مبنی ہے اپنی مرضی و منشاء اور پرانی آبادیوں کو نظر انداز کر کے لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کو میٹروپولیٹن کا حصہ بنانا کسی بھی صورت درست اقدام نہیں کوئٹہ کے ساتھ منسلک قریبی سریاب کے علاقوں کو سریاب‘ بروری‘ مشرقی اور مغربی بائی پاس کے قریبی علاقوں کو میٹروپولیٹن کا حصہ نہ بنانا الیکشن کمیشن کی جانبداری کا منہ بولتا ثبوت ہے الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے چند بیورو کریٹس کی ایماء پر ایسا فیصلہ کرنا خود انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے کہ کس طرح درست ہے کہ غیر بلوچ دیہی علاقے جہاں اکثریتی افغان مہاجرین ہیں انہیں میٹروپولیٹن کا حصہ بنا دیا گیا جہاں اور قدیم آبادی ہے انہیں حصہ نہیں بنایا جائے چند جماعتوں کو سیاسی فائدہ دینے کیلئے یہ غیر آئینی اقدام کیا گیا ہے انصاف کے تقاضوں کو بھی پورا نہیں کیا گیا اگر سریاب کی دس لاکھ آبادی بلوچ آبادی کا کیا قصور ہے کہ انہیں ڈسٹرکٹ کونسل کا حصہ قرار دینا اور افغان مہاجرین کی بڑی تعداد کو میٹروپولیٹن کا حصہ کس قانون کے تحت بنایا گیا بی این پی سمجھتی ہے کہ بااختیار ادارہ ہونے کے ناطے الیکشن کمیشن ارباب و اختیار کو سوچنا چاہئے کہ مقامی لوگوں کی حق تلفی کی جا رہی ہے افغان مہاجرین کو میٹروپولیٹن کا حصہ بنانا خود ناانصافی کے مترادف عمل ہے بی این پی بڑی پارلیمانی جماعت ہونے کے ناطے تمام اقوام کی نمائندگی کرتے ہیں کوئٹہ کے بلوچ‘ پشتون‘ پنجابی اور پرانی آبادی غیر فطری عمل سے نالاں ہے بلیلی‘ خروٹ آباد‘ اغبرگ سمیت کوئٹہ کے دور دراز علاقوں کو میٹروپولیٹن کا حصہ بنانا درست اقدام ہے ناروا سلوک پر غور فکر کیا جائے عدالت عالیہ‘ سپریم کورٹ سمیت ہر فورم پر بی این پی اس ناروا پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرتی رہے گی بیورو کریٹس کی ایماء پر غلط اقدام قابل قبول نہیں الیکشن کمیشن غیر منصفانہ رویہ اور اس میں ملوث افسران کیخلاف کارروائی کرے گی صوبائی اور قومی اسمبلی کے حلقوں کی تبدیلی کے عمل کو منسوخ کرے اور کوئٹہ میں افغان مہاجرین کو میٹروپولیٹن کا حصہ بنانے سے گریز اور نوٹیفکیشن کو منسوخ کیا جائے اگر ایسا نہ ہوا تو یہ عوام کے حق تلفی ہوگی مردم شماری میں محکمہ شماریات نے واضح کر دیا ہے کہ کوئٹہ میں ساڑھے پانچ لاکھ آبادی افغان مہاجرین کی ہے خروٹ آباد‘ پشتون آباد‘ نواں کلی میں اکثریت افغان مہاجرین کی ہے ان علاقوں میں غیر ملکی مقامی لوگوں کے املاک پر قابض ہیں کلاشنکوف کلچر‘ منشیات فروشی انہی کی وجہ سے ہے غیر ملکی کو میٹروپولیٹن کا حصہ بنانا کسی بھی صورت قبول نہیں الیکشن کمیشن سنجیدگی کے ساتھ ناروا سلوک‘ حلقہ بندیوں کا جائزہ لے اور لاکھوں کی آبادی جسے میٹروپولیٹن کا حصہ نہیں بنایا گیا اس کو شامل کر کے افغان مہاجرین کے علاقوں کو علیحدہ کیا جائے صوبائی‘ قومی اور بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کئے جانے والے نوٹیفکیشن منسوخ اور برابری کی بنیاد پر معاملات کو دیکھا جائے


