قلات میں ایرانی پیٹرول نایاب، مصنوعی قلت پیدا کرکے منی پمپس بند کردیئے گئے

قلات (انتخاب نیوز) پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوتے ہی قلات میں ایرانی پیٹرول نایاب، مصنوعی قلت پیدا کرکے منی پمپس بند کردیئے گئے ہیں، جہاں ایرانی پیٹرول دستیاب ہے بھی تو وہ پرانی ریٹس 210 روپے میں فروخت ہونے لگی، جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتی ہے تو فوری پرانا اسٹاک موجودہ قیمتوں پر فروخت کیا جاتا ہے مگر جب قیمتیں کم ہو تو مصنوعی قلت پیدا کی جاتی ہے، اکثر دیہی علاقوں سے آنے والوں کو شدید شواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اکثر افراد کی موٹر سائیکلیں پٹرول ختم ہونے کی وجہ سے شدید گرمی میں پیدل جانے پر مجبور ہیں، نوٹس لینے والا کوئی نہیں، عوامی حلقوں کا اعلی حکام و ضلعی انتظامیہ سے نوٹس لینے کی اپیل، تفصیلات کیمطابق پیٹرول پمپ مالکان کی من مانی جاری ہے عوام کی مشکلات کا کسی احساس تک نہیں، مصنوہی قلت پیدا کر کے عوام کو روڈوں پر گھما پرا کر ذلیل کیا جا رہا ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہیکہ سفید ریش بزرگ افراد ،عورتیں اور بچے سڑکوں پہ شدید گرمی میں پیدل سفر کرنے پر مجبور ہیں کوہی بازار جا رہا ہے تو کوہی واپسی پر ہے پٹرول موجود ہونے کے باوجود پٹرول پمپس مالکان کی آپس کی گٹھ جوڑ سے عوام کو میسر نہیں جبکہ احساس کا اتنا فقدان ہے کہ دیہاتوں سے آئے ہوئے موٹر سائیکل پہ مجبور عوام اپنے بیماروں کے ساتھ بھی پیدل چلنے پہ مجبور ہیں، عوامی حلقوں نے وزیراعلی بلوچستان، کمشنر قلات ڈویژن، ڈپٹی کمشنر قلات، اسسٹنٹ کمشنر قلات اور دیگر انتظامی زمداران سے مطالبہ کیا ہیکہ فوری نوٹس لیکر عوام کو ریلیف فراہم کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں