لاپتہ بلوچ افراد کی ٹارگٹ کلنگ ریاستی جبر اور ظلم کی بدترین مثال ہے، بی این پی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کال پر زیارت واقعے میں لاپتہ بلوچوں کے قتل وغارت دلخراش سانحے اور گزشتہ روز کوئٹہ میں ان کے لواحقین پر انتظامیہ پولیس کی شیلنگ لاٹھی چارج اور زخمی کرنے کے واقعے کے خلاف پریس کلب کوئٹہ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوا جس میں پارٹی کے کارکنوں عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی جو زیارت واقعے اور کوئٹہ میں شیلنگ کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے۔ احتجاجی مظاہرے سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی قائمقام صدر ملک عبدالولی کاکڑ ڈپٹی سیکرٹری جنرل صوبائی پارلیمانی لیڈر ملک نصیر احمد شاہوانی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ووفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آغا حسن بلوچ،مرکزی لیبر سیکرٹری موسیٰ بلوچ،مرکزی خواتین سیکرٹری ایم پی اے شکیلہ نوید دہوار مرکزی پروفیشنل سیکرٹری نذیر بلوچ، پی ایس او کے مرکزی وائس چیئرمین حفیظ بلوچ،سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر وضلعی صدر غلام نبی مری ڈپٹی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر علی احمد قمبرانی اور مولانا محمد عیسیٰ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کی مسئلہ نہایت ہی حساس مسئلہ ہے اس کے نتیجے میں آج پورا بلوچستان گمبھیر سیاسی وسماجی معاشی بحران سے دوچار ہے جس انداز میں جعلی آپریشن کے ذریعے زیارت میں لاپتہ کیے گئے بلوچوں کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے سے قتل وغارت کا نشانہ بنایا گیا یہ عمل قابل مذمت اور افسوس ہے ایسے واقعات سے بلوچستان کے زخموں اور مسائل میں مزید اضافہ ہوگا جو کہ کسی بھی فریق کیلئے سود مند نہیں ہے بلوچستان کی سیاسی مسئلے کو ہرگز طاقت کے ذریعے سے حل نہیں کیا جاسکتا ہے اس سے پہلے بھی آمر اور نام نہاد جمہوری دور حکومتوں میں بلوچستان کے وسائل کو اپنے دست رست میں لانے کیلئے اور یہاں کے سیاسی جمہوری قومی سوال کو بزور طاقت حل کرنے اور یہاں کے قومی تحریک کے رہنماؤں اور کارکنوں کو دیوار سے لگانے کی ہرطرح کی کوشش کی گئی لیکن تاریخ گواہ ہے کہ قومی تحریک کمزور ہونے کے بجائے مزید توانا اور مضبوطی کی شکل میں آگے بڑھ رہی ہے۔ مقررین نے کہا کہ ملک میں قوانین، آئین عدالتیں موجود ہیں اگر کسی فرد پر کسی قسم کا کوئی الزام کیس یاجرم ہے تو بجائے انہیں قتل وغارت کا نشانہ بناکر ان کے مسخ شدہ لاشیں پھینکنے بلکہ عدالتوں میں پیش کرکے ملک کے قانون اور آئین کے تحت سلوک روا رکھا جائے اور ان کے لواحقین کے ہر طرح کی فری ٹائل کا موقع دیں لیکن ایسے واقعات سے یہ واضح ہورہاہے کہ ناعاقبت اندیش حکمرانوں نے ماضی کی تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا، انہی کی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں ملک دولخت ہوا اور ملک میں آباد دیگر محکوم ومظلوم قومیں روز اول سے اپنی قومی حقوق واک وشناخت ساحل وسائل کی اور اپنے اختیار تسلیم کرانے کی بات کرتے ہیں لیکن انکاری پالیسی نے آج ملک کو جس نہج پر پہنچایا ہے اور سنگین بحرانوں سے دوچار ہے مزید غلط پالیسوں کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے قدرتی دولت ساحل وسائل جیوپولیٹیکل اہمیت کے حامل خطہ سی پیک ریکوڈک سیندک اور دیگر ذخائر پر بالادست قوتوں کے نظرے ہیں اور وہ اپنے گھرتی ہوئی معیشت کرپشن کو تقویت دینے کیلئے بلوچ عوام کے خوشحالی وترقی روزگار فلاح وبہبود کیلئے کوئی دلچسپی نہیں رکھتی انہیں یہاں کے سرزمین کے وسائل درکار ہیں اور جب یہاں کے عوام اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں تو انہیں ظلم وجبر تشدد مسخ شدہ لاشیں جبری گمشدگیوں طویل قید وبند ازیت خانوں ٹارچر سیلوں،ذہنی کیفیت سے دو چار کرکے یہاں کی قومی جمہوری جدوجہد کو کاؤنٹر کرنے کیلئے جعلی انتہا پسندی انسانی حقوق کی پامالی مذہبی منافرت بنیاد پرستی نسلی لسانی فرقہ واریت کو ہوا دے کر صوبے کے بنیادی اہم مسئلے سے لوگوں کی توجہ ہٹاکر یہاں کے وسائل کو اپنے دست رست میں لانا چاہتے ہیں لیکن 21ویں صدی میں ایسے ہتھکنڈے کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہونگے بلوچستانی عوام نے آمریت کے بڑے بڑے ادوار میں قومی حقوق کی جدوجہد کی خاطر صعوبتیں برداشت کی قربانیاں دیئے جیلیں برداشت کی لیکن اپنے قومی حقوق وجود شناخت کیلئے آمر قوتوں ظلم وجبر کے سامنے سرخم تسلیم کرنے سے انکار کیا مقررین نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی اور جمہوری حقوق کا ہے جوکہ مذاکرات اور گفت وشنید کے ذریعے سے حل کرنے کی ضرورت ہے طاقت کے ذریعے سے بلوچستان کا مسئلہ نہ پہلے حل ہوا اور نہ آئندہ یہ مسئلہ حل ہوگا آج حکمرانوں کے غلط فیصلوں کے نتیجے میں بلوچ،پشتون، سندھی اور کچلے ہوئے طبقات سراپا احتجاج اپنے واک وشناخت اور سائل ہر حق حاکمیت کو برقرار رکھنے کیلئے جدوجہد میں مصروف عمل ہیں نیشنل ایکشن پلان میں بھی یہ واضح طور پر موجود ہیں کہ بلوچ قومی سوال کو طاقت کے ذریعے سے ہرگز حل نہیں کیا جاسکتا ہے 8ویں ترمیم میں یہ واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ ہر صوبے کے وسائل،ذخائر،ساحل وسائل پر صوبے کے عوام کی مرضی ومنشا کو شامل کیے بغیر ایسا کوئی معاہد، منصوبہ و پروجیکٹ کامیاب نہیں ہوسکتا ہے دنیا میں کہی بھی قوموں کے وسائل کو ان کے اختیار تسلیم کیے بغیر ترقی اور خوشحالی کے منازل طے نہیں ہوئے ہیں بلکہ ان کی مرضی اور منشا اور ان کے شناخت وجود کو مدنظر رکھتے ہوئے ان منصوبوں میں تائید وحمایت کو شامل کیا گیا جس کے نتیجے میں آج ساحل وسائل اور قدرتی دولت سے مالامال سرزمین کے اقوام اور قومیں ترقی وخوشحالی کے منازل طے کرتے ہوئے ترقیافتہ ممالک کے صف میں شامل ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ بی این پی روز اول سے لیکر آج تک لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے ایک اصولی موقف اور بیانیہ میں حکمرانوں سے یہ مطالبہ کیا کہ انہیں بازیاب کرایا جائے پارٹی نے سابق حکمران جماعت پی ٹی آئی کے حکومت کی حمایت اس لئے ختم کی جب لوگوں کو بازیاب کرانے کے بجائے جبری گمشدگیوں کے سلسلے میں اضافہ ہوا اور آج موجودہ حکومت کے سامنے پارٹی کے قائد سردار اختر مینگل نے لاپتہ افراد کی بازیابی کو ترجیحی بنیادوں میں رکھا ہے ہمارے لئے اقتدار کوئی اہمیت نہیں رکھتا ان سے پہلے بھی بلوچستان میں جب ظلم وجبر کا دور دورا تھا نواب اکبر خان بگٹی اور ان کے ساتھیوں کو قتل کیا گیا تو بی این پی وہ واحد جماعت ہے کہ جنہوں نے احتجاجاً قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی، سینیٹ سے استعفیٰ دیا ہمارے لئے بلوچستان کے جملہ قومی حقوق یہاں کے عوام کی عزت نفس ساحل وسائل کی دفاع قومی حقوق اہمیت کی حامل ہے ہم موجودہ حکومت میں ہوتے ہوئے بھی بلوچستان میں ہونے والے غیر جمہوری اقدامات ظلم وستم کے خلاف سامنے کسی بھی صورت میں خاموشی اختیار نہیں کریں گے بی این پی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جنہوں نے شراکت اقتدار میں گروہی ذاتی خاندانی پارٹی مفادات سے بالاتر ہوکر بلوچ قوم اور بلوچستانی عوام کے قومی مفادات پر کبھی بھی سودا بازی نہیں کیا اس موقع پر پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین چیئرمین جاوید بلوچ، آغا خالد شاہ دلسوز، انجینئر ملک محمد ساسولی،ملک سکندر شاہوانی، ملک گامن خان مری، جمیلہ بلوچ، ثانیہ حسن کشانی، شمائلہ اسماعیل بلوچ، مہرنسا بلوچ، ضلعی عہدیداران میں ضلعی جنرل سیکرٹری میر جمال لانگو، ملک محی الدین لہڑی، طاہر شاہوانی ایڈووکیٹ، اسماعیل کرد، نسیم جاوید ہزارہ، میر محمد اکرم بنگلزئی اور پرنس رزاق بلوچ ودیگر موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں