سندھ کے کئی شہربارش کے پانی میں ڈوب گئے، کراچی اور حیدرآباد میں عام تعطیل کا اعلان

کراچی (انتخاب نیوز) سندھ کے کئی شہروں میں مون سون کا دھواں دار اسپیل جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی سمیت صوبہ سندھ کے شہروں حیدر آباد، مٹیاری، تھر، اسلام کوٹ، ٹنڈوالہ یار، اور ٹھٹھہ کی سڑکیں اور گلیاں پانی میں ڈوب گئیں۔رات سے شروع ہونے والی برسات کے بعد ہر طرف پانی ہی پانی نظر آ رہا ہے، انتظامیہ کی نا اہلی نے رحمت کو زحمت بنا دیا ہے، حیدر آباد میں لطیف آباد اور مہر علی کے علاقے تالاب میں تبدیل ہو گئے ہیں۔مٹیاری کی سڑکیں بھی ندی نالوں میں بدل گئیں، پانی گھروں میں داخل ہو گیا، ٹنڈوالہ یار کے گلی محلے بھی زیر آب آ چکے ہیں، ٹھٹھہ کے نشیبی علاقے پانی پانی ہو چکے ہیں، عمر کوٹ میں فصلیں ڈوب گئیں۔ کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہو گئی ہے، بدین کے اولڈ سول اسپتال روڈ، کینٹ روڈ، پوسٹ آفس روڈ پر پانی جمع ہے، ٹنڈو محمد خان میں بھی جل تھل ایک ہو گیا، اور بھرانی محلے میں کئی فٹ پانی کھڑا ہو گیا ہے۔ادھر کراچی کے مختلف علاقوں میں بھی موسلا دھار بارش سے سائٹ ایریا، ناظم آباد، گلبرگ، لیاقت آباد، ایم اے جناح روڈ، ملیر، سپر ہائی وے، سہراب گوٹھ، لانڈھی سمیت کئی علاقوں میں وقفے وقفے سے برسات جاری ہے، شیر شاہ نالہ اوور فلو ہو گیا ہے۔ بارش کے بعد رین ایمرجنسی پانی میں ڈوب گئی، اور شہر کی کئی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگی ہیں۔کراچی میں چند گھنٹوں کی بارش کے بعد خستہ حال سڑکوں پر برا حال ہے، ضلع وسطی بارش میں سب سے زیادہ متاثر نظر آ رہا ہے، لیاقت آباد نمبر 10، سپر مارکیٹ، لیاقت آباد ڈاکخانہ کے مقام پر سڑکوں پر بڑے بڑے گڑھوں میں پانی بھر گیا ہے، جنھیں بھرنے کے لیے مٹی ڈال دی گئی، لیکن مٹی کے ٹیلے جمع ہونے سے ٹریفک کی آمد و رفت متاثر ہو گئی ہے، محکمہ موسمیات نے اربن فلڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کر دیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون کی طاقت ور ہوائیں سندھ میں موجود ہیں، جو 26 سے 27 جولائی تک برقرار رہیں گی، اور تھرپارکر،عمر کوٹ، بدین، ٹھٹھہ، ٹنڈومحمدخان میں مزید بارش متوقع ہے، ٹنڈوالہ یار، حیدر آباد، نوابشاہ میں گرج چمک کے ساتھ مزید بارش ہوگی، قمبر شہداد کوٹ، گھوٹکی اور کشمور اضلاع میں 27 جولائی تک بارش ہوگی۔ ادھر سندھ کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، جن میں ٹھٹھہ، مکلی، گھاروگجو، غلام اللہ، جنگشاہی، جھمپیر، اور میرپورساکرو شامل ہیں، جہاں نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں اور مختلف دیہات کا شہری آبادی سے زمینی رابطے منقطع ہو چکے ہیں۔راجن پور میں بھی موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں، اور گلیاں محلے ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگے ہیں۔ میراں پورسون واہ بکھر کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے پانی بستیوں میں داخل ہو گیا ہے، بستی پنجابی اور دیگر علاقے زیر آب آ گئے، لوگوں نے سیلابی پانی میں کھلے آسمان تلے رات گزاری، رہائشی علاقوں کو مزید شدید خطرہ لاحق ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں