ٹی ٹی پی، بلوچ علیحدگی پسندوں سے بات کی جاسکتی ہے چور اور ڈاکووں سے نہیں، عمران خان

اسلام آباد (انتخاب نیوز) چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا ہے کہ جب ملک ٹھیک چل رہاتھا تو سازش کی اجازت کیوں دی گئی؟ سازش روکنے والی طاقتوں سےپوچھتا ہوں کیوں اجازت دی گئی؟، ہمیں ہرانے کا ہرحربہ استعمال کیاگیا لیکن ناکام رہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ٹی ٹی پی، بلوچ علیحدگی پسند اور سندھی عسکریت پسندوں سے بات کی جاسکتی ہے مگر چور اور ڈاکوو¿ں سے نہیں۔ تفصیلات کے مطابق یوم تشکر کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے کہا کہ قوم کومبارکباد دیتاہوں ،ہمیں ہرانے کا ہرحربہ استعمال کیاگیا لیکن ناکام رہے، ضمنی الیکشن میں جس طرح لوگ نکلے اس عمل نے ثابت کردکھایا کہ عوام ایک قوم بن رہی ہے اور میں انہیں پہلی مرتبہ قوم بنتے دیکھ رہاہوں۔ یوم تشکر کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے سوال کیا کہ جب ملک ٹھیک چل رہاتھا تو سازش کی اجازت کیوں دی گئی؟ سازش روکنے والی طاقتوں سے پوچھتاہوں کیوں اجازت دی گئی؟ ہمیں کہا گیا کہ سیاسی عدم استحکام ہوگاتو معاشی استحکام کیسے رہےگا؟ عمران خان نے قوم سے خطاب میں ایک بار پھر ملک میں فوری عام اور شفاف الیکشن کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے تو خود اپنی حکومت گراکرالیکشن کا اعلان کردیاتھا، سوچا کوئی سازش کرکے حکومت گرائے بہتر ہے عوام کو فیصلہ کرنے دیں، اس وقت الیکشن کرادیئے جاتے تو پاکستان کو اس بحران کا سامنا نہ کرنا پڑتا، آج بھی کہتاہوں کہ بحران کاایک ہی حل ہے شفاف الیکشن۔ چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ایسا الیکشن کمیشن تشکیل دیناچاہیے جس پرسب کو اعتماد ہو اگر شفاف انتخابات نہیں ہونگے تو بحران اور انتشار مزید بڑھےگا، پی ٹی آئی پاکستان کی بڑی جماعت ہے اور وہ الیکشن کمیشن پراعتماد نہیں کرتی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ آصف زرداری آپ ان سے بات کیوں نہیں کرتے؟، یاد رکھیں کہ سیاستدان سب کیساتھ بات کرتا ہے مگر جس دن سیاستدان چوروں کیساتھ ڈیل کرلیتا ہے تو معاشرہ تباہ ہوجاتا ہے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے، اللہ کاحکم امربالمعروف ہے،ایک معاشرہ جب تک اچھائی کیساتھ کھڑا نہیں ہوتا تو برائی اوپر آجاتی ہے،اللہ کاحکم ہے کہ اچھائی کیساتھ کھڑے اور برائی کیخلاف جہاد کرو، کسی بھی خوشحال معاشرے کو دیکھ لیں وہاں امربالمعروف پرعمل ہوتاہے۔ مگر ہمارے پاس یہ وطیرہ ہے کہ جن پراربوں کے کرپشن ہیں ان پر پھول پھینکے جاتے ہیں، ایک سزایافتہ ملک سے جھوٹ بول کر فرار ہوگیا ہے کہتے ہیں اس کے کیسزمعاف کردو۔ عمران خان نے بیرون ملک پاکستانیوں کو بڑا اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے پیروں پرکھڑے ہونا ہے، بیرون ملک پاکستانیوں سے پیسہ جمع کرونگا، اوورسیز پر یقین ہے مدد کرینگے پھر ہم کسی سے پیسہ نہیں مانگیں گے، اللہ نے اس ملک کو بہت نعمتیں بخشی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں