قرضے 126ارب ڈالر سے متجاوز،تیل کی سپلائی معطل ہونے کا خدشہ

اسلام آباد:پاکستان کے ذمہ مجموعی غیرملکی قرضوں کی تفصیل قومی اسمبلی میں پیش کردی گئی جس کے مطابق 31 مئی 2022 تک مجموعی غیرملکی قرضہ 126 ارب ڈالر ہے۔ دستاویز کے مطابق حکومتی غیر ملکی قرضہ 85 ارب 64 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ پاکستان کے ذمہ آئی ایم ایف کا قرضہ 7 ارب 29 کروڑ ڈالر ہے۔تحریری جواب میں بتایا گیا کہ نجی شعبے کے ذمہ غیر ملکی قرضہ 11 ارب 58 کروڑ ڈالر ہے اور پاکستان کو 2022 سے 2059 تک سود اور اصل رقم کی مد میں 95 ارب چالیس کروڑ ڈالر ادا کرنے پڑیں گے۔ پی ایس او کے اداروں پر واجبات 605ارب 65کروڑکی بلند سطح پر پہنچ گئے۔نجی ٹی وی نے دستاویز کے حوالے سے بتایا ہے کہ عدم ادائیگیوں سے تیل کی سپلائی چین معطل ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ڈومیسٹک سیکٹر کوایل این جی فراہمی کے بقایاجات 344ارب67سے زائد ہیں۔پاورسیکٹر 183ارب 31کروڑ سے زائد واجبات کیساتھ نادہندگان میں سرفہرست ہیں۔ سرکاری بجلی گھر سی پی پی اے 149ارب سے زائد کے نادہندہ ہیں۔ مختلف حکومتی ادارے77ارب 66کروڑ روپے سے زائد کے نادہندہ ہیں۔پی ایس او کو مقامی و بین الاقوامی آئل ریفائنریز کو ادائیگی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ پی ایس او نے ایل سیز مد میں کویت پٹرولیم کو 408ارب روپے سے زائد ادا کرنے ہیں۔ پی ایس او نے ریفائنریوں کو 54ارب روپے سے زائد ادا کرنے ہیں۔پی ایس او نے فوری طور پر 462ارب 90کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگیاں کرنی ہیں اور ادائیگیاں نہ ہونے سے پی ایس او ایل سیز کھولنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں