تنظیمیں کس بنیاد پر عدالتی کارروائی کررہی ہیں، زندہ لوگوں کو لاپتہ اور ہلاک قرار دیا جارہا ہے، نور احمد بنگلزئی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) پیپلز پارٹی کے رہنما نور احمد بنگلزئی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ صرف چند بلوچ لاپتہ افراد کیلئے جوڈیشل کمیشن نہ بنایا جائے بلکہ پورے زیارت واقعے پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے کہ ان کو کیوں مارا گیا، انہیں کیوں لاپتہ کیا گیا۔ ظہیر احمد آج آپ کے سامنے زندہ سلامت ہے۔ پوچھنا چاہتا ہوں ان افراد سے جنہوں نے ظہیر بلوچ کی تصویر لے کر اور اسے ملوث کرکے دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں اور تماشا بنا رہے ہیں۔ میں کہنا چاہتا ہوں خصوصاً علما کرام سے کہ بلوچستان کو آگ میں نہ جھونکا جائے، ہمارا صوبہ بلوچستان پاکستان میں بڑی حیثیت رکھتا ہے، پاکستان کے دشمنوں کی نظر بلوچستان پر ہے، وسائل اور ساحل پر ہے۔ میں سیاسی کارکن کے علاوہ بزنس مین بھی ہوں، میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کول مائنز اور دیگر سے جو بھی بھتا لیتا ہے وہ کون سی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، ایک مزدور سے ایک ہزار روپے کیوں وصول کیے جارہے ہیں۔ مارگٹ میں بلال نامی سپاہی کو اٹھایا گیا، چند دن بعد ایک وڈیو جاری ہوئی جس میں دیکھا گیا کہ کچھ مسلح لوگ پہاڑوں پر بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنی عدالتی کارروائی چلا رہے ہیں اس میں باقاعدہ اپنے گواہان پیش کرتے ہیں، اس میں بلال نامی ایف سی کے سپاہی کو سزائے موت دی جاتی ہے، میں عدلیہ سے کہتا ہوں، حکومت سے کہتا ہوں، ریاست کے وارثوں سے کہتا ہوں کہ بلال نامی سپاہی کو کس آئین کے تحت پھانسی کی سزا دی، ریاست کے ہوتے ہوئے آپ اپنی ریاست کیسے بنا سکتے ہیں، اس حوالے سے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ کچھ عرصہ قبل کراچی میں اسٹاک ایکسچینج پر حملہ ہوا جو لوگ وہاں مارے گئے ان کے بارے میں کہا گیا کہ وہ مسنگ پرسنز تھے، زیارت واقعے پر بھی میں نے ایک ویڈیو دیکھی جس میں دیکھا گیا کہ باقاعدہ آپریشن ہورہا ہے، کچھ بندے مسلح بندے لڑ رہے ہیں سول ڈریس میں بعد میں ان کی تصویریں شائع کی جاتی ہیں، اور جو لڑنے والے اور مرنے والے ہیں وہ ایک جیسے ہیں، اس کے علاوہ اسی آپریشن میں ایک فوجی مارا گیا، صحافی برادری نے ان کا جنازہ بھی اٹینڈ کیا۔ اگر یہ آپریشن نہ ہوتا تو کون اپنے بندے کو مارتا ہے، میں کہتا ہوں یہ ڈراما بند کیا جائے، ہماری ماؤں، بہنوں کو سڑکوں پر نہ بٹھایا جائے اپنی سیاست اور مفادات کے خاطر، میں بلوچ کی حیثیت سے یہ کہتا ہوں کہ دشمن کے ہاتھوں استعمال نہ ہوں، ہماری نئی نسل کو تباہ کیا جارہا ہے، چند سال سے ہمارے بلوچستان کے نوجوان بلوچ، پشتونوں کے بچے اچھے تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں، یہ چیز دشمن کو کھٹک رہے ہیں اس نے دیکھا کہ ان بچوں کو ورغلایا جائے۔ ہمارے لوگ سادہ ہیں، ظہیر کی فیملی کو کہا گیا کہ آپ کا بندہ لاپتا تھا، آپ کے بندے کو جعلی آپریشن میں مارا گیا جبکہ ظہیر زندہ ہے اور آپ کے سامنے بیٹھا ہے، میں کہتا ہوں جو اصل میں لاپتہ ہیں ان کیلئے آواز اٹھائیں میں بھی ان کے ساتھ ہوں، لیکن لاپتہ افراد کے حوالے سے یہ سب ڈراما رچایا جارہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں