سیلاب کی تباہ کاریوں پر بی این پی نوشکی کی کمشنر پر تنقید، نقصانات کے ازالے کا مطالبہ
نوشکی (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی نوشکی کے ضلعی کابینہ نے اپنے ایک بیان میں رخشان ڈویژن کے کمشنر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ سیلابی تباہ کاریوں کے پیش نظر رخشان ڈویژن کی کوئی بھی ضلع محفوظ نہیں رہا، رخشان ڈویژن کے چاروں اضلاع زیر آب آچکے ہیں۔ معیشت تباہ و برباد ہو چکی ہے انفراسٹرکچر مٹ چکے ہیں لوگوں کے مکانات زمین بوس ہو چکے ہیں زرعی ٹیوب ویل، سولر پلیٹیں، تیار فصلیں، مال مویشی حتی کہ انسانی جانوں کی ضیاع بھی رپورٹ ہوئی ہے مگر ڈویژن کے سربراہ کا ذکر تک نہیں کہ اس جناب نے چاغی میں کونسے احکامات جاری کیے واشک میں کہاں اجلاس طلب کی، خاران میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے کونسا کروز استعمال کیا۔ ہم نوشکی والے تو ویسے بھی کمشنر صاحب کو نہیں پہچانتے ہیں۔ ہم عام عوام تو اپنی جگہ بلکہ ہم وثوق سے دعوی کرتے ہیں کہ ہمارے ضلعی محکموں کے سربراہان بھی موصوف سے واقف نہیں ہونگے۔ کیونکہ انہیں آج تک نوشکی آنے کی فرصت ہی نہیں ملتی، پھر کیا میٹنگ اور کیا بچاو کا لائحہ عمل۔ انہوں نے انتہائی افسوس سے کہا کہ ایسے بڑے انتظامی پوسٹ پر ہونے والے شخص کا اگر تعارف ھی عوام کے ساتھ نہ ہو۔ اسے بدقسمتی ھی کہا جا سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم افسوس کیساتھ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں ایسے پوسٹوں پر جان بوجھ کر ایسے افراد کو بٹھایا جا تا ہے جن سے صرف سیٹ کو پر کرنے کا کام لیا جاتا ہے بلوچستان میں کسی بھی ایسے اہم سیٹ پر کوئی زندہ انسان نہیں بٹھایا گیا جو اپنی کارکردگی سے اضلاع کو ترقی و ترویج کی راہ پر گامزن کر سکے۔انہوں نے کہا کہ اگر کمشنر رخشان ڈویژن میں تھوڑی سی بھی انسانیت باقی ہے اور کام کرنے کا جذبہ اگر کچھ زندہ ہے تو ذرا اپنے مورچے سے نکل کر عوام کے درمیان کھڑے رہیں اور اس بد بخت عوام کے تکالیف کا تذکرہ ذرا اپنے سے اوپر والوں تک پہنچا دیں۔انہوں نے ڈپٹی کمشنر نوشکی کا توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ کسی کلی کے سامنے کیمپ لگانے کا کیا مقصد؟ اگر کسی کو امداد دینا مقصود ہے تو با عزت طریقے سے انکے گھر جا کر انہیں امدادی سامان فراہم کئے جائیں۔ روڈ کنارے بلا کر انکی بے بسی کا تماشا بنانے اور بھکاری پیدا کرنے کی کسی کو بھی حق نہیں۔ دوئم یہ کہ اگر ڈپٹی کمشنر نوشکی ہماری تنقید کو بیجا سمجھتے ہیں تو پھر ضلع نوشکی کو کنٹرول میں رکھنے اور سہولیات کی فراہمی کے لیئے ہر گاوں کے سامنے ایسے سینکڑوں کیمپ لگانے پڑیں گے جو کہ موصوف کے بس کی بات نہیں لہذا ڈی سی نوشکی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے لگائے ہوئے کیمپ کا از سر نو جائزہ لیں، اور نمود و نمائش کی بجائے لوگوں کو حقیقی معنوں میں امداد فراہم کریں۔


