کوئٹہ، وزیراعظم کا بارش اور سیلاب میں جاں بحق افراد کے ورثا کو معاوضہ 24 گھنٹے میں ادا کرنے کا حکم

قلعہ سیف اللہ(انتخاب نیوز)وزیراعظم میاں محمدشہبازشریف نے این ڈی ایم اے کو بارش اور سیلاب سے جاں بحق ہونے والوں کے ورثاءکو معاوضہ کی رقم 24 گھنٹے میں ادا کرنے اوربارشوں سے مکمل یا جزوی طورپر منہدم مکانات کیلئے5لاکھ کااعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ سیلاب متاثرین کیلئے سہولات کی کمی انتہائی افسوسناک ہے ،امید ہے کہ غفلت برتنے والوں کے خلاف فی الفور کارروائی کی جائےگی اور متاثرین کو بروقت سہولیات فراہم کی جائیںگی،سیلاب متاثرین کی بحالی چیلنج بڑا ہے مل کر مقابلہ کریں گے وفاق اور بلوچستان حکومت قومی جذبے سے بحالی اور آبادکاری کیلئے پرعزم ہیں ۔ آخری گھر جب تک آباد نہیں ہوتا چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ مخیر حضرات بھی آگے آئیں،طوفانی بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کےلئے این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے مل کر سروے کریں، متاثرین کو رہائش، خوراک اورعلاج کی تمام ترسہولیات فراہم کی جائیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ کے علاقے خشنوب ودیگر علاقوں کے دورے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ پیر کے روزوزیر اعظم شہباز شریف بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کا جائزہ لینے کیلئے کوئٹہ پہنچ گئے ہیں جہاں حالیہ دنوں میں موسلادھار بارشوں کے بعد سیلاب سے شدید تباہی ہوئی ہے اس موقع پر وزیر اعظم کے ہمراہ وزیر دفاعی پیداوار اسرار ترین، وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب، وزیر ہاﺅسنگ اینڈ ورکس مولانا عبدالواسع، وزیر نارکوٹکس کنٹرول نوابزادہ شاہ زین بگٹی، وزیر مملکت برائے توانائی محمد ہاشم نوتیزئی، متحدہ مجلس عمل کے ایم این اے صلاح الدین ایوبی اور قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز ،ڈائریکٹرجنرل پی ڈی ایم اے نصیراحمدناصر ودیگر بھی موجود ہیں۔کوئٹہ جانے والی پرواز کے دوران این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز نے وزیراعظم شہباز شریف کو بلوچستان میں جاری ریلیف اور ریسکیو سرگرمیوں سے متعلق بریفنگ دی۔سیلاب زدہ علاقوں اور امدادی کیمپوں کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ دورے کے دوران جان کر بہت دکھ ہوا کہ کیمپوں میں موجود لوگوں کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں تھاکیمپوں میں موجود سیلاب زدگان لوگوں نے کھانے اور پینے کے پانی کی قلت اور عدم دستیابی کی بھی شکایت کی ان کا کہنا تھا کہ لوگوں نے سہولیات کی کمی کی شکایت کی ہے اور میں نے ہدایت کی ہے متاثرین کی شکایات کو جلد از جلد دور کیا جائے اور ان کو مطلوبہ سہولتیں فراہم کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے فی الفور انتظامیہ کے خلاف ایکشن لینا ہے جس نے یہاں موجود متاثرین کو کھانا نہیں پہنچایا، وزیراعلی بلوچستان عبد القدوس بزنجو نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ملوث افراد کے خلاف کارروائی کریں گے اور متاثرین کی بھرپور مدد کی جائے گی اور اس سلسلے میں پائی جانی والی تمام خامیوں اور کاتاہیوں کو دور کریں گے۔ وفاق اور بلوچستان حکومت قومی جذبے سے بحالی اور آبادکاری کیلئے پرعزم ہیں ۔ آخری گھر جب تک آباد نہیں ہوتا چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ مخیر حضرات بھی آگے آئیں۔وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب سے جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو وفاق کی جانب سے 10 لاکھ روپے دیے جا رہے ہیں، آج بھی یہاں چیک تقسیم کیے جائیں گے، جن لوگوں کے مکان مکمل طور پر منہدم ہو گئے ہیں ان کو 5 لاکھ روپے اور جن کے گھروں کو جزوی نقصان ہوا ہے ان کو 2 لاکھ روپے دیے جائیں گے بعدازاں جزوی طورپر مکانات کونقصان پہنچنے کی رقم میں اضافہ کرکے 5لاکھ روپے کردیاگیاہے۔شہباز شریف نے کہا کہ سیلاب سے تباہ ہونے والی فصلوں اور دیگر نقصانات کا جائزہ لینے کے بعد مزید متاثرین کی بھی مدد کی جائے گی۔وزیر اعظم کا کہنا تھا سیلاب متاثرین کی بحالی چیلنج بڑا ہے مل کر مقابلہ کریں گے بحالی اور امداد کے لیے این ایچ اے کی کوششیں لائق تحسین ہیں، میڈیکل کیمپ کا جال پھیلایا جائے، غیر معمولی بارشوں سے وسیع پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ قیمتی انسانی جانوں کے نقصان کےساتھ انفراسٹکرکچر تباہ ہوا، وفاق اور بلوچستان حکومت قومی جذبے سے بحالی اور آبادکاری کیلئے پرعزم ہیں ، آخری گھر جب تک آباد نہیں ہوتا چین سے نہیں بیٹھیں گے، مخیر حضرات بھی متاثرین کی مدد کے لیے آگے آئیں۔اس سے قبل چیف سیکرٹری بلوچستان عبدل عزیز عقیلی اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز نے وزیر اعظم کو بریفینگ میں بتایا کہ جون کی 13 تاریخ کو بارش کا سلسلہ شروع ہوا۔ ماضی کے مقابلے میں 500 فیصد زیادہ حالیہ اسپیل میں بلوچستان میں بارش ہوئی۔ بارش کا 30 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ چیف سیکریٹری بلوچستان عبدل عزیز عقیلی کا وزیراعظم کو بریفینگ میں کہنا تھا کہ اب تک بلوچستان میں اموات 136 ہوگئی ہیں۔ 70 افراد زخمی بھی ہیں ۔ گیارہ سو لوگ معمولی زخمی ہوئے جنہیں فرسٹ ایڈ دی گئی۔ 2 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی زیر آب آگئی ۔ 20 ہزار 500 لوگوں کو محفوظ مقام منتقل کیا گیا۔ ایم 8 اور کوئٹہ کراچی قومی شاہراہیں بڑی حد تک بحال کردی گئی ہیں۔وزیراعظم کو این ڈی ایم اےاور پی ڈی ایم اے کے حکام نے طوفانی بارشوںاور سیلاب سے فصلوں ، باغات ، سڑکوں اور چھوٹے ڈیموں کو ہونےوالے نقصانات ، ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں سے متعلق بریفنگ دی۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ لسبیلہ ،کیچ ، کوئٹہ، ہرنائی ، قلعہ سیف اللہ اور دیگر اضلاع میں بارشو ں اور سیلاب سے باغات ، فصلوں اور مکانات کونقصان پہنچا ہے۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ژوب ڈویژن میں لوگوں کا زیادہ تر ذریعہ معاش زراعت اور مویشی پالنا ہے۔ وہاں پربھی بہت نقصان ہواہے۔ تقریبا 10 ہزار ڈیم اور بندوں کو نقصان پہنچا ہے۔ صوبے کے تمام اضلاع سے ہونے والے نقصانات کے اعدادوشمار اکٹھے کئے جارہے ہیں جن کی بنیاد پر بحالی کی سرگرمیوں کو آگے بڑھایا جائے گا۔ بیماریوں کی روک تھام اور مریضوں کے علاج و معالجے کے لئے میڈیکل کیمپ بھی لگائے گئے ہیں جہاں پر لوگوں کوعلاج کی بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ویٹرنری ہسپتالوں کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔لوگوں تک اشیا خوردنی اور دیگر ضروری اشیا پہنچانے کےلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کے حکام سے نقصانات اور امدادی کارروائیوں سے معلومات حاصل کیں۔ متعلقہ محکموں کے افسران نے اپنے اپنے محکموں کی طرف سے متاثرین کی امداد کے لئے کئے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم بتایا گیاکہ ریسکیو اور امداد ی سرگرمیوں میں پاک فوج اور ایف سی کے اہلکاروں نے بھرپور مدد کی ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ متاثرین کی ہرطرح سے دادرسی کی جائے اورانہیں رہائش، خوراک اور دیگر سہولیات بہم پہنچائی جائیں۔ وزیراعظم نے خیمہ بستی میں قائم میڈیکل کیمپ کا بھی دورہ کیا اور وہاں پر لوگوں سے علاج کی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے دریافت کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں