بلوچ لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں نہ مارنے کا یقین دلایا جائے، دھرنا ختم کردیں گے، سمی دین

اسلام آباد (انتخاب نیوز) لاپتہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی صاحبزادی سمی دین بلوچ نے نجی ٹی وی پروگرام میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں زیارت واقعے میں 11 لاپتہ افراد کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاشیں کوئٹہ لائی گئیں، ان میں کئی وہ تھے جو گزشتہ 4 یا 5 سال سے لاپتہ تھے۔ ہمارا مطالبہ یہی ہے کہ اس سے پہلے بھی بلوچ لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں مارنے کا دعویٰ کرکے ان کی لاشیں دی گئی ہیں۔ اس وقت بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین دھرنے میں شریک ہیں، ہمیں خدشہ ہے کہ آئندہ بھی بلوچ لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں نہ مار دیا جائے۔ اس پر ہمارا مطالبہ تھا کہ واقعے پر عدالتی تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے کہ ان گیارہ لوگوں کو کس لیے مارا گیا۔ ہم درمیان میں پس رہے ہوتے ہیں، ہماری پہنچ نہ بلوچ لاپتہ افراد تک ہوتی ہے اور نہ ہی سیکورٹی فورسز تک، زیارت واقعے کے بعد ریاست نے اپنی ناکامی چھپانے کیلئے چند نہتے لوگوں کو جنہیں ان کے لواحقین کے سامنے جبری لاپتہ کردیا گیا تھا ان کی لاشیں دے دی گئیں۔ ہم سالوں سے یہ مطالبہ کرتے آرہے ہیں کہ جو ڈیڈ باڈیز آتی ہیں ان پر بہت تشدد کیا گیا ہوتا ہے اور ان کی شناخت میں بہت مشکل ہوتی ہے، ان کا ڈی این اے کیا جائے۔ ظہیر بلوچ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ ظہیر بلوچ کی لاش بھی مسخ شدہ اور تشدد زدہ تھی جس میں ان کے اہلخانہ کو شناخت میں مشکلات پیش آئیں۔ بلوچ لاپتہ افراد کی جانب سے حکومت کو جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ پیش کیا گیا ہے۔ جب ہم بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی اور زیارت واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرنے سامنے آئے تو ریاستی ادارے ہمارے مطالبات غلط ثابت کرنے کیلئے ظہیر بلوچ کو سامنے لائے اور ان کو ڈکٹیٹ کروا کر آپ یہ یہ کہہ دیں۔ چونکہ ظہیر بلوچ کی فیملی نے خود اس بات کی تصدیق کردی تھی کہ ظہیر بلوچ کو ان کے سامنے اٹھا کر لاپتہ کیا گیا تھا۔ جوڈیشل کمیشن پہلی دفعہ نہیں بنایا گیا، 2014 میں جو اجتماعی قبریں سامنے ہیں اس پر بھی کمیشن بنا لیکن اس کے بعد کوئی پیشرفت سامنے نہیں آئی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ جو بااختیار قوتیں ہیں جو بااختیار ادارے ہیں جن کے ہاتھ میں مسئلے کا حل ہے۔ اس وقت ہمیں 25 بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین شریک ہیں اور بلوچستان کے مختلف علاقوں سے بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین آرہے ہیں۔ سب کو یہی خدشہ ہے کہ زیارت واقعے کے بعد ہمارے پیاروں کو اس قسم کا نقصان نہ اٹھانا پڑے۔ ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے ہو یا عسکری قیادت کی جانب سے ایسا شخص آئے جس کے پاس لاپتہ افراد کے مسئلے کا حل ہو اور ہمیں یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ اتنے عرصے میں بلوچ لاپتہ افراد کو سامنے لائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں