مختلف سوچ اقوام کی مضبوطی کا سبب ہے

تحریر:نعیم قذافی
انسان جسم و قد، رنگ یا دیگر اعتبار سے ایک جیسے ہو سکتے ہیں مگر یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر انسان کی سوچ دوسرے کے مقابلے میں الگ ہوتی ہے۔ بہت سے سوچ و افکار مل کر ایک مجموعہ یا وحدت بناسکتے ہیں بشرطیکہ وہ ریٹینا کا کردار ادا کریں جیسا کہ ہر انسانی آنکھ کے اندرونی حصہ میں ایک ریٹینا ہوتا ہے جس میں ایک تصویر پیوست ہوتی ہے۔
جب انسان اتفاق کرے تو ہم فکری یا ہم آہنگی کی فضاء جنم لیتی ہے اسی طرح جب ہم آہنگی یا ہم فکری کا عنصر پیدا ہوتا ہے تو اتحاد اور ایکائی بطور مثبت اثرات مرتب ہو جاتے ہیں اور وحدت یا قومیت وجود میں آتی ہے اور اس کے بعد وہ اپنی وجود قائم رکھنے کے لیے وجود کے دروازوں پر دستک دیتی رہے گی۔ اس کی جڑیں اس وقت تک اپنے مرکز کے اردگرد چکر لگاتے رہیں گے جب سوچ و افکار میں تضاد جنم نہ لے.
انسانی ذہن سوچ و افکار یا خیالات کا ایک پروڈیوسنگ مشین ہے جس میں ہر وقت کوئی نہ کوئی خیال بنتا، بڑھتا یا گھٹتا اور ختم ہوتا دیکھائی دیتا ہے ہمیں چاہیے کہ ہم ایک ایسی Capacity Place بنا کے رکھیں تاکہ نئے آنے والے مثبت خیالات اس میں پنپ کر پناہ لے سکیں۔ ٹوٹنے والا خیال اپنی نیچر میں بےمعنی یا کمزور ہوتا ہے جو زور پکڑنے کے سلسلے ہی میں ٹوٹ کر دم توڑ دیتا ہے۔ ایسے خیال کو ہر حال میں غرق ہو جانا چاہیے جو شکستہ حالی کا سبب بنے۔ ایسی سوچ سے اقوام کی مضبوطی پر انتہائی منفی اور مضر اثرات پڑ سکتے ہیں اور یوں تو قومیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اقوام بننے کے بعد ان کو مضبوط رکھنے کے لیے ہم آہنگ سوچ کی اشد ضرورت پڑتی ہے جس سے وہ سر بلند ہوتی ہیں۔ یہی سوچ اقوام کی مضبوطی کے لیے ریڈ کی ہڈی کی مانند ہوتی ہے؛ یہی اس کے عروج کا بھید ہے۔ اس کے برعکس منفی سوچ اس کے تنزل کا کارن ہے۔
کشمیریوں کے اوپر جب تشدد ہوتا ہے اور جب ان کو ڈنڈوں کی سختیوں سے گزارا جاتا ہے اور جب ان پر ظلم اپنی سرحد پار کر جاتا ہے تو اہل مسلم ان کی دکھ و درد میں شریک ہونے کے حوالہ سے اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرتے نظر آنے لگ پڑتے ہیں؛ بلکل اسی طرح جب ہماری سوچ ہم آہنگ ہو گی تب وہ اقوام کی مضبوطی کا سبب بنے گی۔ وہ ہم آہنگ ہونی چاہیے جس میں اتحاد اور یکجہتی کا بھرپور مظاہرہ جھلکتے نظر آئے۔ اتحاد اور یکجہتی منفی سوچ کی ضد ہے۔ ظاہر ہے کہ اتحاد اور یکجہتی قوت کا نام ہے، طاقت کا نتیجہ ہے، مضبوطی کا نتیجہ ہے۔ سوچ اتحادی ہو، ہم آہنگی ہو تو قومیں خود مضبوطی کا سبب بنتی رہیں گی۔
مسئلہ اس بات کا نہیں ہے کہ ہر ایک آدمی الگ تھلگ ہے؛ بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ان الگ تھلگ آدمیوں کی سوچ ہم آہنگ ہے کہ نہیں، وہ باہمی تعلق رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں کہ نہیں۔
آپ سرکار دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نظر دوڑائیں؛ آپ دیکھیں گے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا ایک خیال تھا، سنہری اور چشمے سے بہتے پانی کی طرح صاف شفاف خیال مگر پھر بھی آپ حضور کو کسی کا خیال آیا جس کا خیال آپ حضور گرامی سے مطابقت رکھے۔ خیال کے علاوہ اس عظیم شخصیت کو آپ حضور کا مراد بھی کہا جاتا ہے یعنی حضرت عمر رضی اللہ تعالی۔ آپ قد میں کافی اونچے اور خیالات کی طرح جسامت میں بھی تگھڑے تھے۔ اسی طرح آپ حضرت علی بھی تھے جن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کا دروازہ کہا جاتا ہے اپنے خیالات کے حامی و ناصر تھے۔ المختصر یہ کہ حضرت ابو بکر صدیق سے لے کر حضرت ابو عبیدہ بن جراح تک اور پھر حضرت سعد بن ابی طالب سے لے کر حضرت بلال حبشی تک، ان سب کے جب خیالات نے باہمی تعلق قائم کیا تو اسلام کو عرب سے دنیا بھر میں پھیلا گیا، اسی طرح اگر لوگوں کی ایک بڑی تعداد اتحاد و قومیت قائم رکھنا چاہے تو ان کی سوچ و افکار کے بیچ ہم آہنگی یا یکسانیت کا ہونا اشد ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں