بلوچ لاپتہ افراد کیلئے دھرنے میں خواتین و بچوں کا آسمان تلے بیٹھنا حکومتی بے بسی ہے، بلوچ وومن فورم
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچ وومن فورم کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان سنگین انسانی بحران کا شکار ہے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں تیزی سے جاری ہیں، جبری گمشدگی کا مسئلہ ایک حساس معاملہ ہے جو حل طلب ہے، ہزاروں خاندانوں کی زندگیاں جڑی ہوئی ہیں ان میں خواتین و بچے سب سے زیادہ متاثر ہیں جو زہنی کرب، پریشانی اور معاشی و معاشرتی مشکلات کا سامنہ کر رہے ہیں۔ ترجمان نے کہا زیارت واقعہ کے بعد لاپتہ افراد کے لواحقین مزید ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں کئی متاثرہ خاندانوں کے لواحقین اپنے پیاروں کی باحفاظت بازیابی کے لیے پچھلے اٹھارہ دنوں سے گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا دیے ہوئے ہیں مگر اب تک حکومت کی جانب سے انکی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ ترجمان نے کہا کہ لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ حکومت اور ملکی اداروں کا غیر شہریوں جیسا سلوک انتہائی فکر مندانہ المیہ ہے۔ احتجاج کے پہلے دن خواتین و بچوں اور پر امن مظاہرین پر پولیس کا لاٹھی چارج و آنسو گیس کی شیلنگ شرمناک عمل تھا۔ پاکستان کا قانون خواتین و بچوں یا پرامن مظاہرین پر تشدد کا اختیار نہیں دیتا نہ ہی پولیس کو خواتین کی بے پردگی اور ان کے لیے نازیبہ الفاظ ادا کرنیکی اجازت مل سکتی ہے۔ پولیس کے تشدد اور حکومت کے تماشائی عمل کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ترجمان نے مزید کہا خواتین و بچوں کا دن رات کھلے آسمان تلے انصاف کے لیے بیٹھنا حکومتی بے بسی کو ظاہر کرتی ہے۔ دوسری جانب نام نہاد سیاسی لیڈران لواحقین کو صرف زبانی تسلیوں کے علاوہ کچھ نہیں دے پا رہے۔ ترجمان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا حکومت کی جانب سے لواحقین پر دھرنا ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈھالنے کی کوشش کی جارہی ہے مگر لواحقین کے مطابق وہ ہر فورم پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروا چکے ہیں وہ سال سے سڑکوں پر دربدر ہیں مگر انہیں انصاف نہیں ملا۔ لواحقین کے مطابق انہوں نے حکومت سے دھرنا ختم کرنے کا کوئی معاہدہ نہیں کیا۔ ہم لواحقین کے مطالبات پورے ہونے تک دھرنے میں اْن کے ساتھ ہیں، جب تک مطالبات پورے نہیں ہوتے دھرنہ جاری رہے گا۔ بلوچ وومن فورم کے ترجمان نے آخر میں کہا ہم وفاقی حکومت اور حکومت بلوچستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد سے جلد لواحقین کے مطالبات پورے کئے جائیں اور جبری گمشدگی کے سنگیں مسئلہ کو حل کرنے کے لئے اقدامات اٹھائیں۔


