وزیراعلیٰ نے 18 روز سے سڑکوں پر بیٹھی غمزدہ ماؤں سے ملنا تک گوارا نہیں سمجھا، لواحقین بلوچ لاپتہ افراد

کوئٹہ (انتخاب نیوز) زیارت واقعے کیخلاف کوئٹہ ریڈ زون گورنر ہاؤس کے سامنے بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے دھرنا دیے 18 روز ہوگئے۔ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز، بی این پی، بلوچ یکجہتی کمیٹی، بلوچ وومن فورم، بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین اور دیگر تنظیموں کی جانب سے کوئٹہ ریڈ زون میں دھرنے کو 18 روز گزر گئے۔ مظاہرین کی جانب سے حکومت کو پیش کیے گئے بلوچ لاپتہ افراد کے ماورائے آئین قتل کیخلاف جوڈیشل کمیشن کے قیام سمیت دیگر مطالبات تاحال منظور نہیں کیے گئے۔ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی چیئرمین سمی دین بلوچ نے اس حوالے سے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان دو قدم کے فاصلے پر رہائش پذیر ہیں لیکن انہوں نے دو ہفتوں سے زائد عرصے سے سڑکوں پر بیٹھی غمزدہ ماؤں سے ایک ملاقات کرنا تک گوارا نہیں سمجھا، پھر ہم حکومت سے مزید کیا توقع رکھ سکتے ہیں۔ دھرنے میں شریک لاپتہ شبیر بلوچ کی ہمشیرہ سیمہ بلوچ نے کہا کہ خود کو اب بد بخت کہتے ہوئے ذرا بھی برا نہیں لگ رہا، کتنی بد بخت ہوں میں اور کتنی بدبخت ہیں یہ مائیں بہنیں جو 18 دن سے گورنر ہاؤس کے سامنے بیٹھی ہیں اور ہماری قوم پرست حکومت ہوش میں نہیں۔ دھرنے کے شرکاء نے حکومت اور مقتدر حلقوں سے مطالبہ کیا کہ زیارت واقعے کیخلاف جوڈیشل کمیشن کا قیام، تمام بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی اور بلوچ لاپتہ افراد کو قتل نہ کرنے کی یقین دہانی کے مطالبات تسلیم کیے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں