بلوچستان کے وکلاء آئین و قانون کی بالادستی کے نعرے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، بار کونسل

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان بار کونسل کے جاری ایک بیان میں آٹھ اگست کو جانیں قربان کرنیوالوں کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ آٹھ اگست دنیا کی تاریخ کے بد ترین واقعات میں سے ہے اور آج تک حکومت اور امن و امان بحال کرنے والے خفیہ ادارے ان عناصر کو گرفتار کرنے میں مکمل طورپر ناکام ہیں۔ سانحہ آٹھ اگست کے وکلا کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نشانہ بنایا گیا، جس میں ہمارے قیمتی وکلاء ہم سے چھین لئے گئے، اس واقعے میں ہمارے 56 وکلا جاں بحق اور 92 کے قریب وکلاء زخمی ہوئے۔ واقعے کیخلاف سپریم کورٹ کے حج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سر براہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا گیا اور اس کمیشن رپورٹ میں تخریب کاری کے واقعات اور اداروں کی کارگردگی پر سوالات اٹھائے گئے لیکن بدقسمتی سے آج تک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی کمیشن رپورٹ پر عملدرآمد نہیں کیا گیا اور آج بھی ملک فرقہ واریت اور لاقانونیت کا شکار ہے۔ ہمارے وکلاء کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے ملک کے اندر آئین و قانون کی بالادستی کیلئے آواز بلند کی، پرویز مشرف کیخلاف اور آئین کی بحالی تحریک کا آغاز بھی سرزمین بلوچستان سے ہوا اور تحریک میں سب سے بڑھ کر حصہ لینے والے وکلاء کو نشانہ بنایا گیا۔ بزدل قوتوں اور قاتلوں کا یہ خیال تھا کہ ان جیسے دہشت گردی واقعات کرکے بلوچستان میں عدل کے نظام کو سپوتاژ کریں گے، بلوچستان کے وکلاء آئین و قانون کی بالادستی کے نعرے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ بلوچستان کے وکلاء آج بھی باشعور ہیں اور وہ سانحہ آٹھ اگست میں جانیں قربان کرنیوالوں کے مشن کو ملک کے اندر آئین و قانون کی بالادستی، جمہوریت کی حقیقی معنوں میں بحالی، جوڈیشری میں میرٹ، جوڈیشری کے اندر کرپشن کے خاتمے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ بیان میں سانحہ آٹھ اگست کی مناسبت سے تمام متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی اور دلی تعزیت کا اظہار کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ سانحہ آٹھ اگست کی مناسبت سے تعزیتی ریفرنس یوم عاشور کی چھٹیوں کے بعد منایا جائے گا، جس کا اعلان بلوچستان بار کونسل کے اجلاس کے بعد کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں