اسٹیبلشمنٹ کو ملک کی کوئی فکر نہیں، فوج کیخلاف ٹوئٹ پر لوگوں کو اٹھا لیا جاتا ہے، عمران خان
اسلام آباد (انتخاب نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سیاست دانوں کی کرپشن اور کک بیکس کے حوالے سے مجھے اسٹیبلشمنٹ اور آئی ایس آئی نے بتایا،میں ہمیشہ سمجھتا رہا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کو ملک کی زیادہ فکر ہوگی، وہ جب چوری دیکھیں گے تو ردعمل دیں گے، کیونکہ میں جب جدوجہد کر رہا تھا تو اسٹیبلمشنٹ کی طرف سے، کئی دفعہ آئی ایس آئی نے بتایا کہ انہوں نے اتنی چوری کی ہے،کسی کو الزام نہیں دیتے کہ وہ ایک سازش کا حصہ تھے لیکن میں اسٹیبلشمنٹ سے سوال پوچھتا ہوں کہ آپ نے ان لوگوں کو کیسے ملک کے اوپر مسلط ہونے دیا،میں چاہتا ہوں کہ قوم آزاد ہو، صرف آزاد قوم اوپر جائے گی، صاف اور شفاف انتخابات سے ملک میں معاشی استحکام ممکن ہے اس کے علاوہ نہیں۔میرے ہاتھ میں نیب ہوتی تو کم از کم 15 سے 20 لوگوں کو جیلوں میں ڈال کر ان سے اربوں روپے نکال لیتے۔ جمعرات کو یہاں اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے زیر اہتمام آزادی اظہار رائے کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ میں حقیقی آزادی کی بات کرتا ہوں تو میں چاہتا ہوں کہ قوم آزاد ہو، صرف آزاد قوم اوپر جائے گی۔انہوں نے کہا کہ قوم اس وقت تک آزاد نہیں ہوگی جب تک معاشرے میں آزادی رائے سمجھیں، مجھے کہتے ہیں اپنے دور میں سختیاں کی تو میں یقین دلاتا ہوں مجھے کبھی آزاد میڈیا سے خوف نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ جہاں بادشاہت ہے وہاں کوئی آزادی رائے نہیں ہے کیونکہ وہ لوگوں پر کنٹرول چاہتے ہیں، کرپٹ سیاست دانوں کو اس لیے خوف ہوتا ہے کیونکہ انہوں نے کرپشن کی ہوتی ہے یا قانون توڑنے ہوتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ مجھے صرف ایک مسئلہ ہے کہ آزادی رائے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگوں کی توہین کریں اور ان کی کردار کشی کریں، ہر کسی کی پگڑی نہیں اچھال سکتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ چیک اور بیلنس ہے، لوگوں کو اپنی عزت بحال کرنے کا موقع ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو انصاف نہیں ملتا ہے تو عام آدمی کو کیا ملے گا۔ان کا کہنا تھا کہ میں ہمیشہ سمجھتا رہا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کو ملک کی زیادہ فکر ہوگی، وہ جب چوری دیکھیں گے تو ردعمل دیں گے، کیونکہ میں جب جدوجہد کر رہا تھا تو اسٹیبلمشنٹ کی طرف سے، کئی دفعہ آئی ایس آئی نے بتایا کہ انہوں نے اتنی چوری کی ہے۔عمران خان نے کہا کہ ان کا 2008 کے بعد کا دور بھی اتنی چوری کی اور چین جا کر کک بیکس لیے اور سلیمان شہباز کک بیکس اور معاہدے کرنے چین پہنچا ہوا ہے تو یہ ساری معلومات مجھے ان سے آئیں۔انہوں نے کہا کہ جب میں وزیراعظم بنا تو سب کو پتا تھا ان کے مقدمات کا لیکن بدقسمتی سے نیب ہمارے کنٹرول میں نہیں تھی، اس وقت بھی میری سمجھ میں نہیں آیا کہ مضبوط کیسز ہیں کیوں نہیں چل رہے لیکن بعد میں پتا چلا ان پر شفقت کا ہاتھ تھا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ کبھی ایکسلیٹر دبا دیتے تھے تو پھر کبھی واپس آجاتا تھا، ہم تماشا دیکھ رہے ہیں اور گالیاں ہمیں پڑ رہی تھیں کیونکہ وہ کسی کو نیب لے کر جاتے تھے تو مجھے گالیاں نکالتے تھے۔انہوں نے کہا کہ میرے ہاتھ میں نیب ہوتی تو کم از کم 15 سے 20 لوگوں کو جیلوں میں ڈال کر ان سے اربوں روپے نکال لیتے۔عمران خان نے کہا کہ چلیں ہم کسی کو الزام نہیں دیتے کہ وہ ایک سازش کا حصہ تھے لیکن میں اسٹیبلشمنٹ سے سوال پوچھتا ہوں کہ آپ نے ان لوگوں کو کیسے ملک کے اوپر مسلط ہونے دیا حالانکہ آپ خود کہتے تھے کہ کتنی چوری ہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ چوری آپ کے لیے بری چیز نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ معیشت کی بہتری کے حوالے سے ہر کسی کی اپنی رائے ہے وہ ٹھیک ہوسکتی ہے کیونکہ مختلف اقدامات ہوتے ہیں۔عمران خان نے کہا ہے کہ آزاد انسان بڑے کام کرتے ہیں،غلام بڑے کام نہیں کرتے، چاہتا ہوں کہ میری قوم آزاد ہو، نیوٹرلز ابھی بھی وقت ہے اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں، بند کمروں میں ہونے والے فیصلے درست نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے آزاد میڈیا سے کبھی خوف محسوس نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ وہ معاشرے ترقی کر گئے جہاں پرآزادی ہے، ریاست مدینہ میں تمام شہری قانون کی نظرمیں برابر تھے، جب ایچی سن کالج سے نکلا تو مجھے تاریخ اوراسلام کا زیادہ آئیڈیا نہیں تھا، برطانیہ جانے کے بعد بہت ساری چیزوں کا میں نے خود جائزہ لیا، انسان جب تک ذہنی طورپر آزاد نہیں ہوتا تب تک بڑے کام نہیں کرسکتا، غلامی ایک لعنت ہے اس سے انسان احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ آزاد انسان بڑے کام کرتے ہیں، حقیقی آزادی کی بات اس لیے کرتا ہوں کہ میری قوم آزاد ہو جائے، مجھے کبھی آزادمیڈیا سے خوف محسوس نہیں ہوا، مڈل ایسٹ میں اظہاررائے کی آزادی نہیں ہے، نوازشریف جب وزیراعظم بنے تو3 سال میں 17 فیکٹریاں بنائیں، میں نے برطانیہ کے نظام کو دیکھا ہے، اپنے ملک کو آگے دیکھنا چاہتا ہوں۔سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں کرپشن کیخلاف آیا تھا، جنرل مشرف بھی اقتدار کیلئے آئے تھے، ان دو پارٹیوں نے ایک دوسرے پرکرپشن کے کیسز بنائے، جہاں قانون کی عملداری نہیں ہوتی وہاں کرپشن ہوتی ہے،مشرف کی سپورٹ کرتے رہے کہ وہ کرپشن کو ختم کرے گا لیکن مشرف نے ان لوگوں کو این آراو دے دیا، انہوں نے کہا کہ، قوم اچھے برے کی تمیزختم کردے تو وہ تباہ ہو جاتی ہے، عوام کاچوری ہوا پیسہ معاف کرنا کسی کا حق نہیں۔عمران خان نے کہا کہ نواز شریف کی لندن میں 4 ارب روپے کی پراپرٹی ہے، نواز شریف کے بیٹے نے خود لندن میں جائیداد کا اعتراف کیا۔انہوں ں ے کہا کہ ڈونلڈ لو کا سائفر سب کے پاس ہے، اسٹیبلشمنٹ کے پاس طاقت ہے اس کے ساتھ ذمہ داری بھی ہے، جتنا مرضی آپ کہیں کہ نیوٹرل ہیں، تاریخ میں لوگ آپ کو قصوروارٹھہرائیں گے، آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نیوٹرل ہیں، چوروں کے مسلط ہونے پر بڑی تعداد میں لوگ باہرنکلے جو پہلے کبھی نہیں ہوا، سوشل میڈیاکے بچوں کو اٹھا کر ان سیعمران خان کے خلاف بیانات دلوائے جاتے ہیں۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ جس نے فوج کے خلاف ٹویٹ کیا انہیں اٹھا لیا جاتا ہے، سوشل میڈیا کے بچوں سے کہلوایا جاتا ہے کہ کہو کہ ٹویٹ میں نے کروایا، سیاسی استحکام صاف اور شفاف الیکشن سے آئے گا، ان چوروں کے نیچے زندگی گزارنے سے موت بہترہے۔ انہوں نے کہاکہ صاف اور شفاف انتخابات سے ملک میں معاشی استحکام ممکن ہے اس کے علاوہ نہیں۔میں ایک بار نیوٹرلز سے کہتاہو ں کہ پالیسیوں پرنظرثانی کریں۔بند کمروں میں ہونیو الے فیصلے اچھے نہیں ہوتے۔


