بلوچستان میں بارشوں سے مزید 13 اموات، سڑکیں بہہ گئیں، آبادیاں زیر آب
کوئٹہ، ژوب، پشین، نوشکی، حب، اوتھل، سبی، نصیر آباد (انتخاب نیوز) بلوچستان میں بارشوں سے مزید 13 افراد جان سے گئے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 209 ہوگئی۔ انتظامیہ کے مطابق پشین میں ڈیم ٹوٹنے کے سبب 7 افراد ریلے میں بہہ گئے۔ بلوچستان بھر میں بارش اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچا رکھی ہے۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں سیلابی ریلوں میں سڑکیں اور شاہراہیں بہہ جانے کے باعث ٹریفک کی آمدو رفت معطل جبکہ بارش اور سیلابی پانی سے آبادیاں زیر آب آگئیں، فصلوں کو نقصان پہنچا۔ ڈی آئی خان شاہراہ دہانہ سر کے مقام پر شدید بارش اور پتھر گرنے کے باعث مکمل بندہے، تمام مسافر گاڑیاں واپس ژوب کی طرف روانہ مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ضلعی انتظامیہ شیرانی اور این ایچ اے حکام راستے کو دانہ سر کے مقام پر کھولنے کیلئے مصروف ہیں تاکہ جلد از جلد ٹریفک بحال ہو سکے شیرانی انتظامیہ نے کہا ہے کہ بارش مسلسل جاری ہے اور 21 اگست تک جاری رہے گا، لہٰذا عوام غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ پشین میں گزشتہ ماہ بارشوں سے مذکورہ ڈیم کو جزوی طور پر نقصان پہنچا تھا، علاقہ مکینوں کی درخواست پر محکمہ ایریگیشن کے متعلقہ آفیسر نے جزوی طور پر حفاظتی انتظامات کیے مگر گزشتہ روز سیلابی ریلے میں زیادہ پانی آنے کی وجہ سے ڈیم ٹوٹ گیا اور علاقے کی فصلوں کو مکمل طور پر تباہ کرگیا۔ سیلاب سے متاثرہ نوشکی ایک بار پھر سیلاب اور بارش کی لپٹ میں، جمعرات کے روز سیلاب سے متاثرہ نوشکی میں ایک بار پھر موسلادھار بارش ہوئی نوشکی شہر و گردونواح اور کیشنگی ریکو مل میں بارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی آئی جس سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے گوری کا راستہ دو روز سے بند ہے۔ خیصار میں درمیانے درجے کا سیلابی ریلہ قریبی دیہات کا شہر سے رابطہ منقطع ہوا ریکو کے علاقے میں نوشکی خاران کا راستہ بند رہا دو سے، نالہ میں ریلے سے نوشکی دالبندین آر سی ڈی شاہراہ پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی کیشنگی میں سیلابی ریلے میں پک اپ گاڑی بہہ گئیں، تاہم ڈرائیور معجزانہ طور پر محفوظ رہا ریکو میں ایک کلی میں پانی داخل ہوا تاہم لوگ قریبی پہاڑی پر پناہ لے کر محفوظ رہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقے میں بارش اور سیلاب سے لوگوں میں پریشانی اور خوف و ہراس پیدا ہوا کیونکہ متاثرین کی اکثریت کو اب تک خیمے اور گھریلو سامان نہیں ملے 28 جولائی کو نوشکی میں ساڑھے تین ہزار مکان منہدم ہوگئے تھے۔ ضلع لسبیلہ کے ندی نالوں میں شدید طغیانی آگئی، کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ٹریفک معطل ہوگئی۔انتظامیہ کے مطابق اوتھل میں بارشوں کے نتیجے میں زیرو پوائنٹ کے قریب بجلی کی ہائی پاور ٹینشن لائن کے دو پول گرگئے جس سے علاقے میں بجلی معطل ہوگئی۔اس کے علاوہ شمالی بلوچستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد ارضیاتی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں جس میں کہیں زمین سرک گئی تو کہیں سے زمین دھنس گئی جبکہ بعض مقامات پر زمین میں دراڑیں بھی پڑ گئی ہیں۔


