نوشکی میں سیلابی ریلہ زیر تعمیر سڑک لے گیا، قلات میں متعدد بندات بہہ گئے

نوشکی، قلات (انتخاب نیوز) حالیہ بارشوں کے بعد بورنالہ ڈاک میں طغیانی پانی اور فلو کر گئیں سیلابی ریلے نے پاک افغان بارڈر پر دو مقامات پر زیر تعمیر سڑک کو بہا کر لے گئے جس یونین کونسل ڈاک یونین کونسل انام بوستان اور سب تحصیل چاغی کا نوشکی سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا بیدی کے مقام پر کلی جنگی خان کے رہائشی کم سن بچی سمیت چھ افراد کو مقامی افراد نے جان پر کھیل کر 18 گھنٹے بعد ریسکیو کر دیا انہوں نے حکومت پی ڈی ایم اے انتظامیہ فورسز کی جانب سے ریسکیو نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا بورنالہ ڈاک کا پانی ایشا کی مشہور صحرائی خوبصورت جھیل زنگی ناوڈ کو بھر دیا جس سے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی بورنالہ میں طغیانی سے انام بوستان اور ڈاک کے متعدد دیہات کو خطرات لاحق ہے لیکن زمینی راستہ نہ ہونے کی وجہ پہنچنا ناممکن ہوچکا ہے دوسری جانب مستونگ کے علاقے آباد کے علاقے میں پل ٹوٹنے سے نوشکی کا کوئیٹہ مستونگ و دیگر علاقوں کے لیئے راستہ تین روز سے بند ہے۔ علاوہ ازیں قلات کے کلی سمندر جنوبی مصطفی آباد میں سیلابی ریلوں میں متعدد بندات بہہ گئے ہیں بارش کے پانی سے پیاز اور ٹماٹر کی تیار فصلیں تباہ ہوگئے مکانات کے کمرے منہدم، ضلعی انتظامیہ نقصانات کا ازالہ کرکے بلڈوزر گھنٹے فراہم کرے تاکہ بندات کی مرمت کی جاسکیں اور مزید نقصانات نہ ہو، سمندر آباد جنوبی کِلی مصطفی آباد میں مون سون کی نقصانات کے حوالے سے متاثرہ مکین و کونسلر میرحسن خان محمد حسنی، حافظ محمد وارث محمدحسنی، فقیر محمد محمد حسنی و دیگر نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مصطفی آباد میں حالیہ طوفانی بارشوں سے تیار کھڑی فصلیں جنمیں پیاز، آلو، ٹماٹر اور دیگر مکمل خراب ہوگئے جس سے ہم سب سمیت دیگر زمینداروں کو لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ہے، جبکہ ہمارے متعدد زمینی بندات سیلابی پانی کی نذر ہوگئے ان کی مرمت کیلئے فوری طور پر بلڈوزر و ٹریکٹر گھنٹے فراہم کئے جائے، اور اب مزید بارشوں کا امکان ہے تاکہ مزید نقصانات سے بچ سکیں، فقیر محمد حسنی کے گھر کا کمرہ بارش سے مکمل منہدم ہوچکا ہے اور خوش قسمتی جانی نقصان نہ ہوا انہوں نے کہا کہ میڈیا ٹیم نیدورہ کیا ہم انکے شکر گزار ہے مگر حکومت کا کوئی نمائندہ و زمہ دار یہاں نہ آیا اور ہمارا حال تک نہیں پوچھا یہاں کے لوگوں کا گزر بسر زمینداری کے شعبہ سے وابسطہ ہیں حکومت سروے کر کے نقصانات کا ازالہ کریں اور بلڈوزر گھنٹے دیکر ٹوٹے بندات کی مرمت کرے ڈیمز نہیں ہونے کے باعث لاکھوں کیوسک پانی ضائع ہورہے ہیں حکومت پانی کو اسٹور کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ ڈیمز تعمیر کریں تاکہ پانی ذخیرہ کرکے واٹر لیول کو برقرار رکھا جاسکے۔ جبکہ متاثرہ منہدم کمروں کی تعمیر کیلئے معاوضہ ادا کرکے متاثرین کی دادرسی کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں