طالبان رویے کے باوجود منجمد اثاثوں سے متعلق مذاکرات پر رضامندہیں، امریکا
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کابل میں القاعدہ کے مارے گئے رہنما کی موجودگی، طالبان اور افغان سینٹرل بینک کے رویے کے باوجود افغانستان کے غیر ملکوں میں موجود اربوں ڈالر کے منجمد اثاثوں کے اجرا سے متعلق مذاکرات اور بات چیت کو آگے بڑھائے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کے مطابق امریکی عہدیدار نے کہا کہ طالبان اور افغان مرکزی بینک (ڈی اے بی)تیزی سے کام نہیں کر رہے، طالبان آرام سے بیٹھے ہیں جو کہ اشتعال انگیز طرز عمل ہے۔محکمہ خارجہ نے اس بریفنگ سے متعلق کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا جب کہ باخبر امریکی ذرائع نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے اس نے بریفنگ میں کی گئی بات چیت کی تصدیق کی۔امریکی ذرائع کا کہنا تھا کہ حملے نے عالمی ٹرسٹ فنڈ قائم کرنے کے لیے امریکی حکومت کے منصوبے کو تبدیل نہیں کیا اور اس منصوبے پر کام اسی رفتار اور تیزی کے ساتھ جاری ہے جو کہ ڈرون حملے سے قبل تھی۔افغان وزارت خارجہ، وزارت اطلاعات اور ڈی اے بی نے فوری طور پر ان تجاویز پر رد عمل دینے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔دوسری جانب، امریکی حکام نے ٹرسٹ فنڈ کے قیام سے متعلق منصوبے پر سوئٹزرلینڈ اور دیگر فریقین کے ساتھ بھی تبادلہ خیال کیا ۔


