تحریک انصاف میں شمولیت بلوچستان میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ریفرنڈم سے مشروط تھی، نوابزادہ جمیل بگٹی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) شہید نواب اکبر خان بگٹی کے صاحبزادے نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ عمران خان نے مجھے پی ٹی آئی میں شمولیت کی دعوت دی میں نے ان کے سامنے بلوچستان میں ریفرنڈم کرانے کی شرط رکھی اور یہ مطالبہ بھی کیا کہ پارٹی مینو فیسٹو میں صوبوں کی ازسرنو تشکیل اور افغان مہاجرین کی واپسی کا پروگرام بھی شامل کیا جائے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2013ء میں عمران خان نے کوئٹہ جلسے سے چند دن پہلے ان سے کراچی میں ملاقات کرکے انہیں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کی دعوت دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے عمران خان نے ان سے ان کے کالج کے زمانے کے دوستوں کے ذریعے رابطہ کیا تھا کہ وہ تحریک انصاف میں شامل ہوجائیں لیکن انہوں نے اس معاملے پر ہمیشہ سے معذرت کی تھی لیکن 2013ء میں جب وہ کراچی میں رہائش پذیر تھے تو عمران خان، عارف علوی اور تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ ان کی رہائش گاہ میں انہیں تحریک انصاف میں شمولیت کی دعوت دینے کیلئے تشریف لائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملاقات کے چند دن بعد کوئٹہ میں ایک بڑے جلسے کا انعقاد کیا گیا جس میں ہمایوں جوگیزئی ودیگر شخصیات نے پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب ان کے کالج کے دوستوں نے ان پر شمولیت کے لئے زیادہ زور دیا تو انہوں نے دو شرائط پر تحریک انصاف میں شامل ہونے کی حامی بھری تھی۔ اس معاملے پر انہوں نے عمران خان کو بتایا کہ پہلی شرط یہ ہے کہ وہ مینی فیسٹو میں بھی ڈال دیں کہ تحریک انصاف کی کامیابی کے بعد وہ بلوچوں سے بے زار پشتونوں کو بلوچستان سے علیحدہ کرکے ان کی سیاسی انسانی آزادی اور مرضی کے تحت انہیں کے پی کے، افغانستان یا خود مختار حیثیت دلا دیں گے جبکہ اسی اثناء میں بلوچستان کے وہ تمام علاقے جو پنجاب، کے پی کے اور سندھ میں شامل کیے گئے ہیں ان کو دوبارہ بلوچستان میں شامل کیا جائے گا اور پاکستان میں صوبوں کی ازسر نو تشکیل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا دوسرا مطالبہ عمران خان اور ان کے دوستوں سے یہ تھا کہ جب پاکستان میں صوبوں کی تشکیل نو مکمل ہوجائے تو مینی فیسٹو میں دوسری شرط ڈال دی جائے پھر تحریک انصاف حکومت کے تحت پورے بلوچستان میں ریفرنڈم کیا جائے جس میں بلوچستان کے لوگوں کو اقوام متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری کی جائے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مزید رہنا چاہتے ہیں یا بلوچستان کی آزاد حیثیت سے ایک الگ مملکت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی دو شرائط پر تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا تھا کہ یہ مطالبے ان کیلئے ناممکن ہیں جس پر نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی نے جواب دیا تھا کہ پھر ان کا بھی تحریک انصاف میں شمولیت ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ہونے والی اس ملاقات کے بعد نہ ان کے دوستوں نے ان سے رابطہ کیا اور نہ ہی خود عمران خان نے رابطہ کیا۔


