پی ٹی آئی نے 78 کروڑ سے زائد رقم ممنوعہ ذرائع سے حاصل کی، ایف آئی اے
اسلام آباد (انتخاب نیوز) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ 78 کروڑ 70 لاکھ روپے سے زائد کی بھاری رقم ایک غیر اعلانیہ اکاو¿نٹ میں جمع کرا کر نکالی گئی۔یہ رقم مبینہ طور پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ایک ایسے بینک میں رکھی تھی جو اب غیر فعال ہوچکا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ انکشاف الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے اس فیصلے کے تقریباً 3 ہفتے بعد سامنے آیا کہ پی ٹی آئی نے ممنوعہ ذرائع سے فنڈز حاصل کیے، جس کی پی ٹی آئی اب تک تردید کرتی رہی ہے۔ایف آئی اے اس وقت سابق حکمراں جماعت کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی تحقیقات کر رہی ہے۔ایف آئی اے کی جانب سے غیر فعال بینک کی حاصل کی گئی ایک دستاویز سے پتا چلتا ہے کہ پی ٹی آئی نے باضابطہ طور پر 4 افراد کو اکاو¿نٹ چلانے کی اجازت دی تھی،ان ناموں کی فہرست میں فریدالدین احمد بھی شامل ہیں، جو گزشتہ سال اکتوبر میں انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس کی جانب سے جاری کردہ آف شور ہولڈنگز اور بڑے لوگوں کی ممکنہ ٹیکس چوری سے متعلق پنڈورا پیپرز کے اجرا کے بعد منظر عام پر آئے تھے۔انکشافات میں یہ بات سامنے آئی کہ فرید الدین احمد کے نام پر دو آف شور کمپنیاں ہاک فیلڈ لمیٹڈ اور لاک گیٹ انویسٹمنٹ رجسٹرڈ ہیں، دستاویزات میں پاکستان میں ان کا پتا 2-زمان پارک، لاہور کے طور پر دکھایا گیا ہے


