لسبیلہ کی دو حصوں میں تقسیم سیلاب متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی ہے، سابق وائس چیئرمین

کوئٹہ (انتخاب نیوز) سابق وائس چیئرمین لسبیلہ قادر بخش جاموٹ اور سابق کونسلر میونسپل کمیٹی بیلہ طارق بلوچ نے کہاہے کہ لسبیلہ حالیہ مون سون بارشوں اور سیلابی ریلے میں بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے ،لیکن گزشتہ دونوں قائمقام گورنر بلوچستان نے ضلع لسبیلہ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا جو نوٹیفکیشن جاری کیا ،سیلاب میں ڈوبے لسبیلہ کے لوگوں کی زخموں پر نمک پاشی کے برابر ہے ،سابق وزیراعلی بلوچستان ،ایم پی اے لسبیلہ میر جام کمال خان عالیانی سمیت لسبیلہ کے 62قبائل کے سرداران اور قبائلی عمائدین اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ اس حوالے سے لسبیلہ کے عوام بھر پور احتجاج کرینگے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،قادر بخش جاموٹ کا مزید کہنا تھا کہ ایک صوبائی وزیر کے ذاتی مفادات کے خاطر ڈسٹرکٹ لسبیلہ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری ہونا لسبیلہ کے عوام کیساتھ ذاتی کے مترادف ہے ،جو لسبیلہ کے عوام کو کسی صورت قابل قبول نہیں ،لسبیلہ گلدستہ کے کی مانند ہے جس میں بلوچستان سمیت سندھ ودیگر علاقوں کے لوگ کئی عرصے سے بھائی چارگی کیساتھ رہائش پذیر ہے ،لوگ اپنے اس گلدستے کو کسی صورت ٹکڑے کرنے کی اجازت نہیں دینگے ،لسبیلہ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا نوٹیفکیشن علاقے کے عوام میں غم وغصہ پایا جاتاہے ،انہوں نے کہاکہ گزشتہ چالیس سے 45روز سے سیلاب ہے لیکن صوبائی وزیر مسلسل منظر سے غائب ہے ،اگر ان کو عوام کی فکر ہوتی تووہ سیلاب زدہ لوگوں کی داد رسی کیلئے لسبیلہ میں موجود ہوتے ،مگر ان کی غیر موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ عوام کے کتنے خیر خواہ ہے ،انہوں نے کہاکہ ہم سپریم کورٹ آف پاکستان ،بلوچستان ہائیکورٹ ،چیف آف آرمی اسٹاف ،کورکمانڈر بلوچستان اور وزیراعلی بلوچستان سے ودیگر اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ضلع لسبیلہ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں