ماحولیاتی تبدیلی، غیر معمولی بارشیں اور اس کے اثرات کے عنوان سے خضدار میں سیمینار

خضدار (انتخاب نیوز) آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام ماحولیاتی تبدیلی، غیر معمولی بارشیں اور اس کے اثرات کے عنوان سے خضدار میں سیمینار کا انعقاد، رکن بلوچستان اسمبلی میر یونس عزیز زہری، بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر ظہور احمد شادینزئی، ڈاکٹر ذوالفقار جتک، ڈپٹی ڈائریکٹر ایگریکلچر (توسیعی)منیر احمد مینگل، شہری ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ایڈوکیٹ عبدالحمید بلوچ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ ماحولیات شوکت بنگلزئی، ٹکری بشیر احمد جتک و دیگر نے خطاب کیا جبکہ اس موقع پر میر شفیق الرحمان ساسولی، مولانا عنایت اللہ رودینی، مولانا محمد صدیق مینگل، میر جمعہ خان شکرانی، واٹر مینجمنٹ کے محمد خان زہری، ڈاکٹر عمران میروانی، یونس گنگو، قدیر زہری، شیر احمد قمبرانی، محمد عالم جتک، جھالاوان زمیندار ایکشن کمیٹی کے چئیرمین وہاب عبدالوہاب غلامانی، حافظ حمید اللہ سمیت سیاسی رہنما قبائلی عمائدین اور مختلف محکموں کے افسران بڑی تعداد میں موجود تھے۔ رکن بلوچستان میر یونس عزیز زہری و دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیچر سے چھیڑ خانی کے نتیجے میں آج ہوری دنیا ماحولیاتی تبدیلی سے متاثر ہے۔ اگر ہم سب نے اپنی زمہ داریوں کا احساس نہیں کیا اور فطری نظام اور ماحول کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتے رہے تو زمین پر زندہ رہنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ فطرت کا اپنا ایک نظام ہے انسان اور دیگر جانداروں کو نقصان کا سامنا اس وقت کرنا پڑتا ہے جب ہم فطرت کے سامنے رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ہم بارش کو روکنے کی قدرت رکھتے ہیں اور نہ ہی زلزلہ ہونے سے روک سکتے ہیں۔ غیر معمولی بارشوں اور زلزلہ کے جھٹکوں سے تب نقصان پہنچتا ہے جب ہم اشرف المخلوقات ہونے اور شعور رکھنے کے باوجود فطرت کے اصولوں کو پس پشت ڈال کر اپنی من مانی کرتے ہیں۔مقررین نے کہا کہ آج دنیا جس ماحولیاتی بحران کا شکار ہے اس کی بڑی وجہ جدیدیت اور جدید طرز زندگی ہے۔ آج ترقی یافتہ دنیا کو اپنی غلطی کا احساس ہے اور وہ دوبارہ فطری زندگی کی طرف لوٹنے کا خواہاں ہیں گوکہ اب تک ہماری زندگی فطرت سے قریب تر ہے لیکن پھر بھی ہمیں فطرت کی طرف لوٹنا پڑیگا اور فطرت کو اصولوں کی پاسداری کرنی پڑیگی جن وجوہات کی بنیاد پر آج ہم ماحولیاتی تبدیلی سے متاثر ہیں یا ہمیں کم یا زیادہ بارشوں کی وجہ سے نقصانات کا سامنا ہے ان کا تدارک کرنا ہوگا۔ہم اپنی طرز زندگی میں تبدیلی لاکر اور زیادہ سے زیادہ درخت لگاکر ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔مقررین نے کہا کہ تین دھائی قبل تک خضدار دریاوں اور چشموں سے مالا مال تھا یہ دریا اور قدرتی چشمے ایک فطری نظام کے تحت اربوں سالوں سے موجود تھے ہمیں ضرور سوچنا ہوگا کہ ہم نے ایسی کیا غلطی کی جس کی وجہ دریا اور قدرتی چشمے خشک ہوگئے بلک آج زیر مین پانی کے ذخیرے بھی ختم ہوچکے ہیں۔مقررین نے کہا کہ ہمیں پانی کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہم اپنے آئندہ آنے والے نسلوں کے حصے کا پانی بھی ضائع کرچکے ہیں یہی وقت ہے کہ ہم بارانی کاشت کاری کو فروغ دیں اور بارش کی صورت میں جو پانی ہمیں دستیاب ہوتا ہے اسی کو محفوظ کرکے ایسے درخت لگائیں جو کم پانی پر بھی زیادہ منافع بخش ہیں۔مقررین نے ماحولیاتی تبدیلی جیسے اہم موضوع پر سیمینار کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی خضدار کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ اس اہم مسئلہ ہر باہمی روابط کو مزید فروغ دیا جائیگا تاکہ دنیا سے ہم قدم ہوکر اپنے علاقے کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں