نوشکی, چینی اور آٹے کی ہمسایہ ملک اسمگلنگ، بلوچستان میں بحران کا خدشہ
نوشکی (انتخاب نیوز) بلوچستان کے ضلع نوشکی کے روٹ پر براستہ ضلع چاغی روزانہ سینکڑوں چھوٹی بڑی گاڑیوں میں چینی، یوریا، آٹا اور دیگر اشیا خورونوش ہمسایہ ملک اسمگل کی جارہی ہیں، اشیا کی اسمگلنگ میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے یہی وجہ ہے کہ نوشکی سمیت بلوچستان بھر میں یوریا اور آٹے کا بحران پیدا ہوا ہے۔ نوشکی میں آٹا عام لوگوں کے کیئے دکان مارکیٹ اور ڈیلرز کے ہاس ناہید ہوچکا ہے لوگ چاول اور متبادل خوراک لینے پر مجبور ہیں بلیک میں پچاس کلو فی تھیلا آٹا بھی دو ہزار اضافی رقم کے ساتھ بمشکل حاصل کیا جا سکتا ہے سمگلرروزانہ بہت بڑی مقدار میں چینی سمگل کر رہے ہیں جس سے مستقبل قریب میں بلوچستان سمیت ملک بھر میں چینی کا بحران پیدا ہونے کا اندیشہ ہے اور روز بروز چینی کی قیمت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے یوریا کھاد جو ملک کی ایک اہم ضرورت ہے زرعی ملک ہونے کی وجہ سے کسانوں کو اپنے فصل اور باغات کے لیئے یوریا کھاد کی ضرورت پڑتی ہے مگر کافی عرصے سے یوریا کھاد افغانستان بلاخوف خطر سمگل کیا جارہا ہے جبکہ یہاں کے کسان یوریا کھاد کے لیئے ترستے ہیں آٹا چینی یوریا اور دیگر اشیا خوردنوش کی سمگلنگ ایسے وقت اور حالات میں تیزی کے ساتھ جاری ہے جب ملک بھر میں سیلاب نے تباہی مچادی دی ہے لوگ خوراک کی قلت کے باعث انتہائی مشکل حالات سے دوچار ہیں فصل اور باغات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے ان حالات میں جب ملک کو بیرونی امداد بالخصوص خوراک کی اشد ضرورت ہے اس صورتحال میں ملک کے باقی ماندہ اشیا خورد نوش کو تیزی سے ہمسایہ ملک منتقل کیا جارہا ہے جو لوگوں کو بھوکے مارنے کی ایک سوچی سمجھی منصوبہ محسوس ہورہا ہے اس مجرمانہ عمل کو روکنے کے لیئے کوئی حکومتی ادارہ اپنا کردار ادا کرتا ہوا نظر نہیں آتا سیاسی جماعت اور سماجی تنظیمیں عوامی نمائندوں سمیت سب نے خاموشی اختیار کرلی ہے اگر سمگلنگ کا یہ سلسلہ جاری رہا تو بہت جلد اشیا خورنوش اور یوریا کا بحران کنٹرول سے باہر ہوگا، وفاقی اور صوبائی حکومت کو اس عمل کا فوری اور سختی سے نوٹس لینا چاہیے۔


