پرامن دھرنے سے بلوچ لاپتہ افراد کا مسئلہ ملکی اور عالمی سطح پر اجاگر ہوا، نصر اللہ بلوچ

کوئٹہ (انتخاب نیوز) وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ تنظیمی سطح پر انہوں نے ڈاکٹر کریم بخش اور لالا فہیم بلوچ کی جبری گمشدگی کے کیسز صوبائی حکومت کو فراہم کردیے اور بلوچستان حکومت سے دونوں کی بازیابی میں کردار ادا کرنے کی اپیل بھی کی۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر کریم بخش کے اہلخانہ نے تنظیم کو شکایت کی کہ گریشہ میں بنیادی صحت مرکز کے انچارچ ڈاکٹر کریم بخش کو رواں ماہ کی چار تاریخ کو گریشہ خضدار سے سیکورٹی اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم جگہ منتقل کیا جبکہ علم و ادب کے منیجر اور بلوچی کتابوں کے پبلشر لالا فہیم کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ لالا فہیم کو کراچی کے علاقے اردو بازار سے پولیس اور دیگر اداروں کے اہلکاروں نے رواں سال 26 اگست کو تفتیش کے بہانے اپنے ساتھ لے گئے۔ نصراللہ بلوچ کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کے اہلخانہ اپنے لاپتہ پیاروں کی جبری گمشدگی کی وجہ سے شدید ذہنی کرب و اذیت مبتلا ہونے کے باوجود اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے پرامن اور آئینی طریقے سے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں جس کی بددولت جبری گمشدگیوں کا مسئلہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہوا ہے جس کیلئے لاپتہ افراد کے اہلخانہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی کے سربراہ اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ سمت دیگر ممبران کا ریڈ زون دھرنے پر بیٹھے ہوئے بلوچ لاپتہ افراد کے اہلخانہ سے مذکرات اور لاپتہ افراد کے مسئلے کے حل کی یقین دہانی اور وزیراعلیٰ بلوچستان کا بھی اس انسانی مسئلے کے حل میں تعاون کی یقین دہانی ایک مثبت عمل ہے، جسے ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس دفعہ صوبائی و وفاقی حکومت اپنا وعدہ ضرور پورا کریں گے۔ دریں اثنا وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی ایک میٹنگ ہوئی جس میں تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ، وائس چیرمین ماما قدیر، جنرل سیکرٹری سمی دین بلوچ، فنانس سیکرٹری سیما بلوچ اور دیگر نے شرکت کی۔ تنظیمی مسئلے زیرے بحث لائے گئے اور فیصلہ ہوا کہ تنظیمی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور تنظیمی فیصلوں سے پہلے مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں